غزہ: غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سےحماس کے لیڈر یحییٰ السنوار کا نام مستقل گردش کرتا رہتا ہے۔ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کی تحریکوں کے معمار اور اسرائیل کو مطلوب ترین شخص ہیں۔ اسرائیل نے ان کی تلاش ، گرفتاری یا ہلاکت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے مگر تا حال اسرائیلی فوج ان تک پہنچنے میں ناکام ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اسرائیل کی طرف سے یہ دعویٰ بھی سامنے آتا رہتا ہے کہ وہ السنوار کے ٹھکانے کا علم رکھتا ہےمگر وہ اس کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے۔
نو ماہ کی جنگ کے دوران السنوار کا پتہ نہیں چل سکا، حالانکہ اسرائیل بھوت کی طرح گھر گھر اور ایک سرنگ سے دوسری سرنگ تک اس کا پیچھا کر رہا ہے۔شاید اس حوالے سے واحد سراغ ایک ویڈیو کی شکل میں جنگ کے شروع میں سامنے آیا تھا جس میں السنوار کو ایک سرنگ میں دیکھا گیا تھا۔ السنوار کو اپنے خاندان کے ساتھ خان یونس شہر میں سرنگوں میں سے ایک میں دکھایا گیا تھا۔ یہ ویڈیو جنگ کے آغاز میں سامنے آئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل نے ہمیشہ اس کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات رکھنے کا دعویٰ کرتا رہا ہے مگر اس نے ہر بار اس کے تعاقب سے گریز کیا۔ دوسری طرف اسرائیلی انٹیلی جنس پر السنوار کو تلاش کرنے میں ناکامی کا الزام بھی عاید کیا جاتا ہے۔تاہم حماس کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ السنوار کوجنگ کے حوالے سے ہونےوالی پل پل کی خبروں اور ہر پیش رفت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ السنوار میں اب تک چھپنے کی صلاحیت ہے۔ وہ اب بھی اندرون اور بیرون ملک تحریک کے رہ نماؤں سے رابطے میں ہیں۔
اخبار ’الشرق الاوسط‘ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق ہر چیز کا السنور نے مطالعہ کیا اور پیش کیے گئے ہر اقدام کا بغور جائزہ لیا۔ غور و فکر کیا اور تحریک کے رہ نماؤں سے اس بارے میں مشاورت کرنے کے بعد ان سے مختلف طریقوں سے رابطہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ذرائع نے تصدیق کی کہ ایک بہت چھوٹا سا حلقہ السنوار کے ٹھکانے کا علم رکھتا ہے۔ اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اور اس سے رابطہ کرتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ذرائع صرف دو یا تین افراد سے زیادہ نہیں ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یہ واحد تین رکنی گروپ ہے جو اندرون اور بیرون ملک تحریک کے رہ نماؤں کے ساتھ السنوار کے رابطے کو یقینی بناتا ہے۔اس کے علاوہ ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا السنوار زمین کے اوپر کہیں چھپا ہوا ہے یا کسی سرنگ کے اندر ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حماس نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل سیاسی اور عسکری سطح پر تنظیم کے ارکان کے پہلے اور دوسرے درجے کے کئی رہ نماؤں تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔لیکن اس نے تصدیق کی کہ اسرائیلی افواج نے ان میں سے کچھ کو قتل کرنے کی کوشش کی، جن میں سے کچھ زخمی ہوئے۔ان میں سے کچھ بچ گئے اور مختلف علاقوں اور اہداف پر بمباری کی کارروائیوں سے بغیر کسی نقصان کے نکل گئے۔قابل ذکر ہے کہ السنوار نے 1989ء میں دو اسرائیلی فوجیوں کو اغوا اور قتل کرنے کے جرم میں چاربار عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ جیل میں گذارا۔تاہم قید کے دوران اس نے عبرانی زبان اور اسرائیلی فوج کی حکمت عملی کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔1962ء کو جنوبی غزہ کے شہرخان یونس کیمپ میں پیدا ہونے والے السنوار کو سنہ 2011ء اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا گیا۔ وہ 1980ء کی دہائی کے آخر حماس میں شامل ہوئے۔2017 میں انہیں اس غزہ کی پٹی میں تحریک کا صدر مقرر کیا گیا۔












