نئی دہلی 6جون : عام انتخاب 2024سے قبل بی جے پی کو شکست دینے اور اسے اقتدار سے بے دخل کرنے کی اپوزیشن جماعتوں کی کوشش ہوا ہوائی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک مضبوط بنیاد بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کرناٹک کی جیت سے حوصلہ پاکر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے 2024 میں حکومت میں آنے کی امید ظاہر کی ہے ۔ ابھی نیویارک میں بھی ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو بری طرح شکست دے گی۔ راہل نے تلنگانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت کا دعویٰ بھی کیا۔ راہل کے اس دعوے کے پیچھے نتیش کمار کی سیاسی حکمت عملی اور روڈ میپ کا بھی اہم رول ہے ۔جنوری 2023 میں، نتیش کمار نے پٹنہ میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے اور بی جے پی کو 100 سیٹوں تک محدود کرنے کی بات کی تھی۔ اس کے بعد سے سیاسی حلقوں میں ان کی حکمت عملی کے چرچے ہونے لگے۔ساتھ ہی راہل گاندھی نے جس طرح سے دعویٰ کیا ہے اس سے اس اتحاد کو مزید تقویت ملی ہے۔ ایسے میں آئیے اعدادوشمار کی مدد سے سمجھتے ہیں کہ دہلی دربار سے بی جے پی کو بے دخل کرنے کی تیاری کس حکمت عملی کے ساتھ کی جا رہی ہے؟
پہلے 3 نکات میں کانگریس کی انتخابی پوزیشن کو سمجھیں۔ لوک سبھا انتخابات میں 7 ریاستوں کی 148 سیٹوں پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیدھا مقابلہ ہوگا۔ ان 148 سیٹوں میں سے بی جے پی کے پاس 135 سیٹیں ہیں جب کہ کانگریس کو صرف 7 سیٹیں ملی ہیں۔اور دیگر جماعتوں کو 6 نشستیں ملیں۔2019 کے مقابلے 2024 میں صورتحال بہت بدل گئی ہے۔ مدھیہ پردیش، ہریانہ، کرناٹک اور آسام میں کانگریس مضبوط ہوگئی ہے۔ حال ہی میں کرناٹک میں کانگریس نے بڑی جیت حاصل کی ہے ۔ اس کے علاوہ چھتیس گڈھ میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہے۔ ان 5 ریاستوں میں لوک سبھا کی کل 102 سیٹیں ہیں۔ آسام میں 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران، کانگریس نے بھلے ہی 3 سیٹیں حاصل کی ہوں، لیکن ووٹ فیصد کا فرق بہت کم تھا۔ بی جے پی کو 36.05 فیصد اور کانگریس کو 35.44 فیصد ووٹ ملےتھے۔تقریباً 7 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی اے آئی یو ڈی ایف اس بار بھی کانگریس کے ساتھ اتحاد میں الیکشن لڑ سکتی ہے۔ اسی طرح ہریانہ میں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے کلین سویپ کیا لیکن چھ ماہ بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا۔اور پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے اتحاد کا سہارا لینا پڑا۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ووٹوں میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ کرناٹک میں بھی لوک سبھا انتخابات 2019 میں بی جے پی کی پوزیشن کافی مضبوط تھی لیکن حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو حکومت سے باہر پھینک دیا گیا ہے۔
تلنگانہ، کیرالہ اور پنجاب میں، کانگریس دوسری پارٹیوں سے مقابلہ کر رہی ہے۔ ان ریاستوں میں لوک سبھا کی کل 50 سیٹیں ہیں۔ ان 50 سیٹوں میں کانگریس کے پاس تقریباً 30 سیٹیں ہیں۔ بی جے پی کے پاس 3 میں سے 2 ریاستوں میں ایک بھی سیٹ نہیں ہے۔کیرالہ میں سی پی ایم کے ساتھ اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ کانگریس کا مقابلہ اس بار بھی طے سمجھا جاتا ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس کا مقابلہ پرانے حلیف بی آر ایس سے ہوگا۔ کانگریس کو کیرالا اور تلنگانہ سے بہت امیدیں ہیں۔لوک سبھا انتخابات سے عین قبل تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات بھی کرائے جائیں گے۔ بی جے پی بھی تلنگانہ کی لڑائی میں ہے لیکن کرناٹک کی شکست کے بعد یہاں پارٹی کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔2019 میں کانگریس نے تلنگانہ میں 3 سیٹیں جیتی تھیں، جب کہ بی جے پی نے 8 سیٹیں جیتی تھیں۔اور وہ دوسرے نمبر پر تھی ۔ ان میں سے 2 سیٹوں پر جیت کا مارجن 15 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔اسمبلی انتخابات کے بعد لوک سبھا میں بھی کانگریس کی بہترین کارکردگی رہی۔بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، اتر پردیش، مہاراشٹرا اور تمل ناڈو میں اتحاد کی مدد سے بی جے پی کو شکست دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان 6 ریاستوں میں 26 سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ 2019 میں، بی جے پی کو ان ریاستوں میں تقریباً 130 سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس کو ان 6 ریاستوں میں صرف 18 سیٹیں ملیں۔ کانگریس ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کے عمل میں ہے جو بقیہ 52 سیٹیں جیتیں گی۔ کانگریس مہاراشٹر میں شیو سینا (یو بی ٹی)، تمل ناڈو میں ڈی ایم کے، مغربی بنگال میں ٹی ایم سی اور یوپی میں ایس پی کے ساتھ اتحاد کی تیاری کر رہی ہے۔
مہاراشٹر، بہار، مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں جن پارٹیوں کے ساتھ کانگریس اتحاد کرے گی، ان کی پوزیشن بی جے پی سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ مہاراشٹر میں لوک سبھا کی کل 48 سیٹیں ہیں۔ حال ہی میں مراٹھی اخبار ساکل نے ایک سروے کیا ہے۔سروے میں کانگریس اتحاد کو 48 فیصد ووٹ ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جب کہ بی جے پی اتحاد کو 39 فیصد ووٹ ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اسی طرح اگر بہار کی بات کریں تو بہار میں کانگریس کے ساتھ سات پارٹیوں کا اتحاد ہے۔2019 میں، سات جماعتوں کو 55 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی تمل ناڈو پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ تاہم، دراوڑ ناڈو کی سیاست کی وجہ سے، کانگریس اور اس کی اتحادی ڈی ایم کے کا ہاتھ اوپر ہے۔اسی طرح بنگال میں بھی حالات کانگریس اتحاد کے لیے سازگار ہیں۔ اگر ہم 2021 کے اسمبلی انتخابات کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو کانگریس، سی پی ایم اور ترنمول کا ووٹ فیصد 50 سے زیادہ ہے۔ بی جے پی کے پاس صرف 37 فیصد ووٹ ہیں۔بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار گزشتہ 6 ماہ سے اپوزیشن اتحاد کے قیام کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ نتیش راہل گاندھی سے بھی دو بار مل چکے ہیں۔ نتیش کمار تقریباً 20 پارٹیوں کو اکٹھا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نتیش کمار دیہی علاقوں میں لوک سبھا سیٹوں پر اتحاد بنا کر بی جے پی کو ہرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں میں لوک سبھا کی کل 353 سیٹیں ہیں۔2009 میں کانگریس نے 123، بی جے پی نے 77 اور دیگر پارٹیوں نے 153 سیٹیں جیتی تھیں۔ 2014 کے مودی جال میں کانگریس کے نمبروں میں بڑی کمی آئی، کانگریس کم ہوکر 28 رہ گئی، جب کہ بی جے پی نے 190 سیٹیں جیتیں۔ تاہم دیگر جماعتوں کی نشستوں میں زیادہ کمی نہیں آئی۔2014 میں دیگر پارٹیوں نے دیہی علاقوں میں 135 سیٹیں جیتیں۔ 2019 میں بھی کانگریس دیہی علاقوں میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ کانگریس کو 353 میں سے صرف 26 سیٹیں ملیں۔ بی جے پی نے 207 اور دیگر پارٹیوں نے 120 سیٹیں جیتیں۔
اگر کانگریس دیہی علاقوں میں بی جے پی کو گھیرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو بی جے پی کو حکومت بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لوک سبھا میں شہری اور نیم شہری نشستوں کی تعداد 190 ہے۔ شہری سیٹیں کانگریس کے لیے کمزور کڑی ثابت ہوئی ہیں۔ 2009 میں 108 نیم شہری سیٹوں میں سے کانگریس نے 50 پر کامیابی حاصل کی تھی۔بی جے پی کے کھاتے میں 20 اور دیگر پارٹیوں نے 38 پر کامیابی حاصل کی تھی۔ 2019 میں نیم شہری نشستوں پر دیگر جماعتوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ 2019 میں کانگریس نے 10، بی جے پی نے 58 اور دیگر پارٹیوں نے 39 سیٹیں جیتیں۔اگر ہم شہری نشستوں کی بات کریں تو 2009 کے مقابلے 2019 میں دیگر جماعتوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ 2009 میں، کانگریس نے اربن میں لوک سبھا کی 82 میں سے 20 سیٹیں جیتی تھیں، جب کہ بی جے پی کو 33 اور دیگر پارٹیوں کو 29 سیٹیں ملی تھیں۔2019 میں ان اعداد و شمار میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ 2019 میں کانگریس نے 14، بی جے پی نے 40 اور دیگر پارٹیوں نے 28 سیٹیں جیتیں۔ یعنی شہری اور نیم شہری نشستوں پر دیگر جماعتوں کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔
2019 میں ان اعداد و شمار میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ 2019 میں کانگریس کے 14،بی جے پی نے 40 اور دیگر پارٹیوں نے 28 سیٹیں جیتیں۔ یعنی دوسری پارٹیاںشہری اور نیم شہری نشستوں پر اس کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کی حلیف شہری اور نیم شہری سیٹوں پر زیادہ سے زیادہ امیدوار کھڑے کر سکتی ہیں۔کانگریس دیہی علاقوں پر زیادہ توجہ دے گی۔ذات پات کی مردم شماری اور آزاد خیالوں کی حمایت اپوزیشن جماعتیں 2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ذات پات کی مردم شماری اور حمایت لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس کی 5 گارنٹی مہم کامیاب رہی۔ نتیش کمار کا ذات کارڈ بھی اب تک کامیاب رہا ہے۔راہل گاندھی نے بھی آبادی کے تناسب سے حقوق کا نعرہ لگایا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کے مذہبی چکر کو توڑنے کے لیے ذات پات کی مردم شماری کو ہتھیار بنا رہی ہیں۔ یہ فارمولہ 1990 کی دہائی میں بھی کامیاب رہا ہے۔ کانگریس نے پرانی پنشن اسکیم کو دوبارہ شروع کرنے، خواتین کو پنشن دینے اور مفت گیس سلنڈر دینے جیسی حکمت عملی کی مدد سے قومی سطح پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے ۔اور اگر یہ آگے بھی کامیاب ہوتی ہے تو دوڑ میں بی جے پی کی شکست یقینی ہے ۔












