چورو، (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر دس سال پہلے کے برسوں میں ان کے بڑے بڑے گھپلوں اور لوٹ کے باعث ملک بدحال ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اب جب خاندان پر مبنی بدعنوان لوگوں کی لوٹ کا حساب ہونا ہے تو اپوزیشن کے گھمنڈیا اتحاد کے لوگ انتخابی ریلیوں کے بجائے کرپشن بچاؤ ریلیاں کررہے ہیں۔مسٹرمودی جمعہ کو یہاں لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار دیویندر جھاجھڑیان کی حمایت میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ کرپشن ہٹاؤ تو کہتے ہیں کہ کرپشن بچاؤ۔ انہوں نے کہا کہ دس سال پہلے ملک کے حالات اتنے خراب تھے کہ کانگریس کے بڑے گھوٹالوں اور لوٹ کی وجہ سے معیشت تباہ ہو گئی تھی اور دنیا میں ہندوستان کی ساکھ گرتی جا رہی تھی۔ آزادی کی اتنی دہائیوں کے بعد بھی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی ضروریات کے لیے جدوجہد کرنا ہڑتا تھا۔ کروڑوں غریبوں کے سروں پر چھت نہیں تھا، پینے کا پانی میسر نہیں تھا، گاؤں اندھیروں میں ڈوبے رہتے تھے ۔ کروڑوں کی لوٹ سے سرکاری خزانہ بھی خالی ہی رہتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب ملک ترقی کے ریزولیوشن پر کام کر رہا ہے اور اس میں راجستھان کا بڑا رول ہے ، راجستھان ترقی کرے گا تو ہندوستان بھی ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا حیران ہے کہ ہندوستان اتنی تیزی سے ترقی کیسے کر رہا ہے ۔ دنیا نہیں جانتی کہ ہندوستان کی مٹی کی بات ہی کچھ اورہے اور ہم جس کام کا ارادہ کرلیتے ہیں اسے مکمل کرتے ہیں۔ پچھلے دس برسوں میں ملک کو بدلتے ہوئے دیکھاگیا ہے اور ملک ترقی کر رہا ہے لیکن جب خاندان پر مبنی کرپٹ لوگوں کی لوٹ کا حساب ہو رہاہے اور ہم کہتے ہیں کہ کرپشن ہٹاؤ تو وہ کہتے ہیں کرپشن بچاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں گھمنڈیا اتحاد کے لوگ انتخابی ریلیاں نہیں کررہے ہیں وہ کرپشن بچاؤ کی ریلیاں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کانگریس کے ایک رکن اسمبلی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور الماریوں بکسوں میں 300 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ملی، یہ خزانہ صرف ایک کانگریسی رکن اسمبلی کے پاس ایک جگہ سے ملا۔ آگے کیا کیا ہوگا یہی تو تلاش کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس سالوں میں بدعنوان لوگوں کی ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد ضبط کی گئی ہے ۔ انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا نہیں، ایسے لوگوں کو اپنی زندگی جیل میں گزارنی چاہیے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مودی ڈرنے والانہیں ہے ۔
مسٹر مودی نے کہا کہ دس سال پہلے ہم وطنوں نے مان لیا تھا کہ اب کچھ نہیں بدل سکتا، ہر کوئی مایوسی میں ڈوبا ہوا تھا اور مایوسی اور ناامیدی میں سال 2014 میں آپ نے غریب کے بیٹے کو اپنی خدمت کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی اورنا امیدی مودی تک نہیں پہنچتی اور یہ طے کیاگیا کہ حالات بدلنے ہی ہوں گے ۔ میرے لیے میرا ہندوستان میرا خاندان ہے ۔ ہم نے ایمانداری سے کام کیا، ملک میں کورونا جیسا بڑا بحران آیا ہے ، دنیا سوچنے لگی کہ ہندوستان برباد ہوجائے گا اور دنیا کو بھی برباد کر دے گا لیکن اس بحران کے باوجود ہندوستانیوں نے ملک کو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ بحران کے نام پر ہم بھی یہ کہہ سکتے تھے کہ بڑی آفت آئی ہے ، ہم کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن چیلنج کو چیلنج کرنا یہ ہماری طاقت ہوتی ہے ۔ سخت محنت کی گئی اور نتائج ظاہر ہوئے ۔ دس سالوں میں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت کروڑوں غریبوں کو مستقل رہائش اورگھردیے ، تین چار نسلوں سے کچی بستیوں میں رہتے تھے انہیں مستقل مکان دیے گئے ۔ ان میں زیادہ تر خواتین کے نام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے غریبوں کو اسکیم کا علم تک نہیں ہوتا تھا لیکن اب رقم سیدھے غریبوں کے کھاتے میں جا رہی ہے اور غریبوں کو مستقل مکان اور ضروری سہولیات بھی مل رہی ہیں۔












