آخر حزب اختلاف کے لیڈروں کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر یہ جتانا پڑا کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے اور ساری دنیا میں ملک کی بھد پٹ رہی ہے ۔بی جے پی کی سرکار پر یہ الزام عام طور پر لگایا جاتا ہے کہ وہ تمام سرکاری ایجنسیوں کا استعمال کرکے اپوزیشن کو ہراساں کر رہی ہے اور بے بنیاد الزامات لگا کر انہیں جیل میں بھی ڈال رہی ہے۔عام طور پر ایسے الزامات لگانے کی یہ روایت نئی نہیں ہے ۔لیکن بھارت میں جو موجودہ سیاسی منظرنامہ ہے وہ اب اپنی تمام حدیں پھلانگنے لگا ہے اور ملک سے باہر بھی اس کی گونج سنائی دینے لگی ہے ۔کیا بھارت میں جمہوریت پوری طرح آمریت کے شکنجے میں ہے؟یا پھر بھارت کی جمہوریت اب اس منزل منزل پر پہنچ گئی ہے کہ ایک فیصلے سے ملک کے پوری جمہوری ڈھانچے کو کالعدم قرار دے کر مرکزی سرکار ملک کے ہندو راشٹر ہو نے کا اعلان کر دیگی؟یہ سوالات اس وجہ سے بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ اب سرکار بے حد جارحیت پر اتر آئی ہے اور ملک میں موجود تقریبا تمام حزب اختلاف کے لیڈر ای ڈی اور سی بی آئی جیسی ایجنسیوں کے نشانے پر ہیں ۔اور اب ایک کر کے ان لیڈروں کو جیل رسید بھی کیا جا رہا ہے ۔یہ وجہ ہے کہ مغربی بنگال اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ سمیت نو اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے مشترکہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے جس میں حزب اختلاف کے ارکان کے خلاف مختلف مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔

اس خط پر تلنگانہ کے وزیر اعلی کے. چندر شیکھر راؤ، دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار، نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے رہنما فاروق عبداللہ، شیوسینا کے رہنما۔ ادھو ٹھاکرے اور سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو نے دستخط کیے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ حزب اختلاف کے ارکان کے خلاف مختلف مرکزی ایجنسیوں کا کھلم کھلا غلط استعمال ظاہر کرتا ہے کہ ملک جمہوریت سے آمریت کی طرف بڑھ چکا ہے ۔ انتخابی میدان سے باہر انتقام لینے کے لیے مرکزی ایجنسی اور گورنر جیسے آئینی عہدوں کا غلط استعمال قابل مذمت ہے۔ کیونکہ یہ ہمارا ہے
جمہوریت کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔خط میں منیش سسودیا کی گرفتاری کا بھی ذکر ہے۔
دہلی ایکسائز پالیسی میں بے ضابطگیوں پر مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی کے ذریعہ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی (آپ) کے لیڈر پر لگائے گئے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد اور سیاسی سازش کا حصہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سسودیا کی گرفتاری سے پورے ملک میں غصہ پھیل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سسودیا کو دہلی میں اسکولی تعلیم کو تبدیل کرنے کے لیے عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔
ان لیڈروں نے کہا کہ سسودیا کی گرفتاری کو پوری دنیا میں سیاسی انتقام کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جائے گا اور یہ واقعہ دنیا کے اس شبہ کی تصدیق کرتا ہے کہ حکمران بی جے پی کے ذریعہ ہندوستان کی جمہوری اقدار کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا وشو شرما اور ترنمول کانگریس کے سابق قائدین شبیندو ادھیکاری اور مکل رائے کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی میں شامل ہونے والے سابق اپوزیشن لیڈروں کے خلاف مقدمات میں جانچ ایجنسی سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
کسی جمہوری اور فیڈرل طرز حکومت میں اگر ایک نہیں بلکہ 9ریاستوں کے وزرائے اعلی سمیت سنجیدہ شہریوں کے ذریعہ اٹھائے جانے والے ایسے سوالات کسی بھی ملک کے جمہوری اقدار کے لئے ہتک کا باعث ہے ۔اور ایسے وقت میں اس کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ملک کے کئی حصوں سے علیحدگی پسند قوتیں سر اٹھانا شروع کر چکی ہیں ۔بات صرف پنجاب کے امرت پال کی ہی نہیں ہے بلکہ ٹوئیٹر پر کچھ ایسے سادھو نما علیحدگی پسند سرگرم ہیں جو اس ملک کی مسلم آبادی کا جینوسائٹ چاہتی ہیں اور وہ اس سلسلے میں اپنابیان ویڈیو کے ذریعہ ریکارڈ کر کے مختلف ہینڈل پر مشتہر کر رہے ہیں ۔اور ایسے بیانات کو سن کر ہی بین الاقوامی میڈیا کا ایک دھڑا آئے دن بھارت میں جمہوریت کی موت کا مرثیہ پڑھ رہا ہے ۔
بہر حال یہ واقعہ اپنے آپ میں چونکانے والا ہے کہ کم و بیش 9 اپوزیشن وزرائے اعلی سمیت حزب اختلاف کے لیڈروں کو ایک شکایت نامہ اپنے وزیر آعظم کو لکھنا پڑا۔
شعیب رضا فاطمی












