سید مجاہد حسین
ملک میں تنازعوں کی ایک تاریخ رہی ہے ۔کچھ تنازعے حکومت کے لئے بڑی ٹیڑھی کھیر ثابت ہوئے ۔دہلی میں پہلوانوں کا تنازعہ بھی انہی میں سے ایک لگتاہے ،جس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے ۔یہ ختم ہو کر بھی زندہ ہے کیونکہ یہ فریقین کی ناک کا سوال بن گیاہے ۔جنتر منتر سے پہلوانوں کو کھدیڑ دینے کے باوجودحکومت کی آزمائشیں ختم نہیں ہوئیں ہیں۔در اصل کچھ دنوں پہلے پہلوانوں کو جس نیت کے ساتھ جنتر منتر سے منتشر گیا تھا اور جنتر منتر کو خالی کرا کے حراست میں لے لیاگیا تھا ۔اس کا مقصد جلد سے جلد بدنامی کے داغ سے نجات حاصل کرنا تھا ا ورکوشش تھی کہ اس کا اٹھتا دھواں اور پہلوانوں کا درد کسی کو نظر نا آ نے پائے ۔لیکن ایسا نہیں ہوسکا ۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی! ۔ یعنی کہ مسئلے کی چنگاریاں پہلے سے اور زیا دہ دہک رہی ہیںاور دھواں اب بھی اٹھ رہا ہے ۔ پولس نے پہلوانوں کے دھرنے کو ختم کرانے کے مقصد سے انہیںحراست میں لیکر انہیںڈرانے اور دھمکانے کی جو ناتواں کوشش کی تھی وہ پہلوانوں کے حوصلےکو کمزور نہ کر سکی ۔نتیجہ یہ ہے کہ فریقین کی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹنے کی ضد نے ٹکرائو کی فکر انگیزصورت اختیار کر لی ہے۔ کسانوں کی کھاپ پنچایتوں کے معاملے میں اتر پڑنے سے یہ تنازع حکومت کے لئے کھلا چیلنج پیش کررہاہے۔کسان تنظیم کے صدر راکیش ٹکیت نے مہا پنچایت بلانے ، آگے کی حکمت عملی طےکرنے اور تحریک چلانے کی جس طرح سے علی الاعلان دھمکی دی ہے اور صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر معاملہ ان کے دربار میںرکھنے کی بات کہی ہے، اس سے حکومت کی مشکلیں کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہیں ۔ادھر دہلی پولس جو آج بھی تحقیقات کے نام پر خالی ہاتھ کھڑی نظر آرہی ہے ،جس سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ اور ریسلنگ فیڈریشن کے سابق صدر برج بھوشن سنگھ کے حوصلے کافی بڑھے ہوئے ہیں اور و ہ الٹا پہلوانوں کو کھلا چیلنج دے رہے ہیں۔در اصل، حکومت نے برج بھوشن کے ریسلنگ فیڈریشن کو تحلیل کر کے سوچا تھا کہ وہ پہلوانوں کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی ۔سانپ بھی مر جائےگا اور لاٹھی بھی بچ جائےگی۔ لیکن پہلوان خواتین بھوشن کی گرفتاری سے کم پر کسی طرح راضی نہیں ہیں ۔ دوسری پریشانی یہ کھڑی ہوگئی ہے کہ برج بھوشن سنگھ جن پر پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کاسنگین الزام ہے ،اس کی گونج عالمی سطح پر بھی سنائی دینے لگی ہے۔عالمی فیڈریشن کا ممکنہ ایکشن ہمیں مزید شرمسار کرنے والا ثابت ہوسکتا ہے۔
اس میں شک نہیں 28 مئی کو پہلوان خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ان کو جنتر منتر سے جس طرح سے حراست میں لیا گیا وہ حکومت کی بوکھلاہٹ کو صاف ظاہر کررہا تھا۔خواتین کا یہ الزام کم شرمندہ کرنے والا نہیں کہ ’’ ایک جانب پاکسو کے تحت درج مقدمہ میں ایک ملزم کو چھوٹ دی جاتی رہی اوراس کے برعکس پہلوان مدعیان کوبے رحمی اور بے دردی سے حراست میں لے کر کھدیڑدیا گیا ۔یہ پورا عمل غیر جمہوری طر زعمل کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا‘‘۔ حیرانی کی بات ہے اس وقت یہ سرے سے فراموش کر دیا گیا کہ جن کے ساتھ بد سلوکی کی جارہی ہے اور جو خواتین اپنے ساتھ جنسی ہراسانی کا الزام عائد کر کے سخت گرمی اور بارشوں میں دھرنے پر اپنے مطالبے کے ساتھ بیٹھی ہوئیہیں وہ اپنی ہی بیٹیاں ہیں ،اور ملک کا نام روشن کرنے میں ان کا بڑا تعاون ہے ۔قابل غور بات ہے کہ یہ سب کچھ اس دن ہوا جب قومی دارالحکومت دہلی میں اکثر خواتین کے مفاد کی بات کرتے رہنے والے وزیر اعظم مودی کے ہاتھوں جمہوریت کےایک نئے عالیشان مندر کا افتتاح ہو رہا تھا اور ساری دنیا کی نگاہیں بھارت کی طرف تھیں۔اب اس رویہ اور سلوک سے مرکزی حکومت کی فضیحت کرنے کا لوگوں کو ایک اور بہانہ مل گیا ہے۔سوال یہ بھی اٹھ رہا ہےکہ اگر برج بھوشن پر الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں تو کشتی سنگھ کوہی کیوں تحلیل کیا گیا؟ رپورٹ کا انتظار کیا جاتا!۔مبصرین کا خیال ہے کہ فیڈریشن کو تحلیل کرنے کے پیچھے کرناٹک کی شکست تھی ناکہ پہلوانوں کے مطالبے کو منظور کرنے کے لئے ایکشن کی شروعات!۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہاجارہا ہے کہ بی جے پی حکومت کے منظورنظر برج بھوشن کےفیڈریشن کو تحلیل کرنے کے بعد معاملہ کو بیلنس کرنے کیلئے (کہیں بھوشن کی ناراضگی مول لینی نہ پڑ جائے )خواتین پہلوانوں پر بھی ایکشن لیا گیا!اور نہیں دھرنے سے ہٹا دیا۔الغرض ، اس سب سے معاملہ کا حل تو ڈیڑھ مہنے بعد بھی نہیں نکل سکا بلکہ پہلے سے اور زیادہ الجھ گیا ہے۔ اس لئے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اس تنازعے کا انجام کیا ہوگا اور اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟












