شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی،21دسمبر، سماج نیوز سروس: پارلیمینٹ کےسرمائی اجلاس میں پیش ہونے والے یکساں سول کوڈ پرائیویٹ ممبر بل پر خاموشی نے ملک کو چونکا دیا ہے ۔بی جے پی کے ایک ممبر پارلیمنٹ کروڑی لال مینا کے ذریعہ پیش کیا گیا یہ بل عدالت عالیہ اور لا کمیشن کے قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی کے باجود ارباب حل و عقد کو جھنجھوڑنے میں ناکام رہی ہے۔ پارلیمنٹ کا یہ اجلاس چند دنوں 25دسمبر کو ختم ہو گا لیکن ملک کے مسلمانوں کی نگاہیں ہنوز دانشوروں کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی ہیں۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ موجودہ حکومت نے مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا ہے ۔ممبران پارلیمنٹ کی واضح اکثریت کے زعم میں بی حے ہی اور آر ایس ایس نے اسلام اور آس کی شریعت کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے اور بھارت کے مسلمان دم بخود ان سارے شداید کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے فیصلے سے شروع ہونےوالے جارحانہ غیر جمہوری وغیر آئینی احکامات و بل کی سنگ باری سے ملک کے مضبوط سیکولر قلعہ کی دیواروں میں جو دراڑیں پڑیں ہیں اس کی تعمیر تو کیا آس کے رخنوں کی مرمت کی بھی کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی۔ مدراس ہوں کہ وقف املاک ،قبرستان ہوں کہ خانقاہ سب سرکار کے نشانے پر ہیں اور مسلمانوں کو پوری طرح بے دست و پا بنا دیا گیا ہے ۔
کمال یہ ہے کہ اس ملک میں میں موجود درجنوں ملی تنظمیوں کو بھی جیسے سانپ سونگھ گیا ہے ۔مسلمانوں اور آن کی شریعت میں ہونے والی کسی بھی مداخلت پر چیخ اٹھنے والی ملی تنظیمیں اب اکثر و بیشتر عام مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتی نظر آتی ہیں ۔ایک وقت ٹھا جب مشرقی ہندوستان کی فعال تنظیم امارت شریعہ بہار و اڑیسہ کے ارباب حل و عقد کی آواز ہر غیر آئینی اور غیر جمہوری احکامات کےخلاف سب سے بلند ہوا کرتی تھی ۔ملک اور بیرون ملک میں رہنے والے شہریوں کو یاد ہے کہ طلاق بل کے پارلیمنٹ میں پیش ہوتے ہی امارت شریعہ کے جنرل سکریٹری اور جید عالم دین مرحوم ولی رحمانی نے پریس کلب آف آنڈیا میں ایک پریس کانفرنس بلا کر نہایت واشکاف آواز میں مرکزی حکومت سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو اس غیر جمہوری بل کی مخالفت کیلئے ایپل کی تھی اور پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہوکر آس بل کی پرزور مذمت کی تھی ۔ ابھی یہ بات کوئی نہیں بھولا کہ اس کے بعد پورے ملک میں اس بل کی مخالفت میں اجلاس کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور پوری دنیا میں میں یہ پیغام گیا کہ مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کی قیادت زندہ ہے ۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے جیسے امارت شریعہ کا وجود ہی باقی نہیں ۔اور مولانا ولی رحمانی کی جسد خاکی کے ساتھ امارت شریعہ بھی ماضی کے تمام کرو فر کو دفن کرکے سیکولرازم کے تابوت کو اپنے کاندھوں پر ڈھونے کا عزم کرچکی ہے ۔ملک کے مسلمانوں میں اس وقت شدید غم و غصہ ہے اور ان کا یہ غصہ حکومت وقت سے ذیادہ ملی تنظیموں کے خلاف ہے ۔
باوثو ق ذرائع سے ملی تازہ خبر یہ ہے کہ موجودہ سربراہ امارت شریعہ نے موجودہ سیاسی منظر نامہ اور ملت اسلامیہ میں بڑھتی بد دلی کے پیش نظر اپنے ممبران کے ساتھ ایک آن لائن زوم میٹنگ کا انعقاد ضرور کیا لیکن اس میٹنگ میں نہ تو کسی قرار داد کا خاکہ تیار ہو سکا اور نہ ہی کسی عملی اقدام کی طرف پیش رفت کا اشارہ ملا۔ میٹنگ میں شامل ممبران کو بھی حیرت ہوئی کہ آخر اس زوم میٹنگ کا مقصد کیا تھا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایک کرکے ملی تنظمیوں کے اس عملی زوال کا ذمہ دار کسے قرار دیا جائے ۔کیا نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو اقتدارکی کرسی تک پہنچانے کے علاوہ ان تنظیموں کا دوسرا کوئی کام نہیں ۔












