علی گڑھ ، عالمی یوم دمہ کے موقع پر جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تپ دق و امراض سینہ کی جانب سے آگہی مہینے کا اہتمام کیا گیا ہے جس کے تحت ہندوستان میں دمہ کی بیماری کی روک تھام کے لئے بیداری اور مسلسل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔میڈیکل کالج کے پرنسپل اور شعبہ کے سربراہ پروفیسر راکیش بھارگو نے کہا کہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 262 ملین افراد دمہ کے عارضہ میں مبتلا ہیں اور گلوبل استھما رپورٹ 2022 کے مطابق ہندوستان میں تقریباًساڑھے تین کروڑ افراد دمہ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دمے کی بیماری کسی کو بھی کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ پروفیسر بھارگو نے کہا کہ ہندوستان میں دمہ سے ہونے والی اموات کا تناسب مجموعی عالمی اموات کا 42 فیصد ہے۔ اس بیماری کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔پروفیسر زبیر احمد نے کہا کہ دمہ ایک متعدی بیماری ہے اور یہ بچوں میں عام ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیلیشن تھیریپی دمہ کے علاج میں سب سے زیادہ موثر ہے لیکن بدقسمتی سے اس علاج کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیوں کی وجہ سے مریض اکثر اپنے ڈاکٹروں کی دی گئی تجاویز پر عمل نہیں کرتے۔ پروفیسر زبیر نے کہا کہ اگر کسی کو ہلکا دمہ ہو تو مریض کو سال میں ایک دو بار سینے میں جکڑن محسوس ہوتی ہے یا سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات سے دمے کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر محمد شمیم نے کہا کہ ہندوستان میں دمہ ایک سماجی کلنک ہے اوراس کے بارے میں غلط تصورات عام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف 23 فیصد مریض اپنی حالت کو اس کے اصلی نام سے پکارتے ہیں اور اپنی حالت کو ظاہر کرنے سے گریز کرنے کا یہ رجحان اس ملک میں بیماری کی کم تشخیص کا باعث بنتا ہے۔ڈاکٹر عمرانہ مسعود نے کہا کہ بہت سے چیلنجز کی وجہ سے مریضوں کو بروقت طبی امداد ملنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ڈاکٹر ام البنین نے کہا کہ اگرچہ انہیلیشن تھیریپی دمہ کے علاج کی بنیاد ہے لیکن ہندوستان میں انہیلر سے متعلق غلط فہمیوں نے اس بیماری کے علاج کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے معاملے میں صورتحال زیادہ سنگین ہے جہاں والدین اکثر بیماری کو چھپاتے ہیں اور علاج کو ٹالتے ہیں۔ڈاکٹر نفیس احمد نے کہا کہ مریضوں کو مناسب مدد فراہم کرنے سے دمے کے حوالے سے رویہ اور طرز عمل میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر آکانش چودھری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔












