دیوبند، گزشتہ رات جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ کے ذریعہ کھتولی موڑ پر واقع گرین پبلک اسکول میں عید ملن استقبالیہ کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ عید ملن کی تقریب میں علاقے کے معززین شخصیات کے علاوہ سیاسی رہنماء و مذہبی و سماجی اور مختلف تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ اس موقع پر عید کی مبارکباد دیتے ہوئے تمام مقررین نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے عید ملن استقبالیہ تقریب کا انعقاد کرکے بھائی چارے کا جذبہ بیدار کیا ہے جو کہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ مقررین نے کہا کہ ایسے پروگراموں کا مقصد محبت اور بھائی چارے کو بڑھانا ہے۔ ولانا نذر محمد قاسمی نے کہا کہ تہواروں پر ہمیں ایک دوسرے سے ملنا چاہیے اور عید ملن وغیرہ جیسے پروگرام منعقد ہونے چاہئیں تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کو بھی سبق ملے۔تقریب کی صدارت کر رہے جمعیۃ علماء بڈھانہ کے صدر حافظ شیردین نے مہمانوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ عید ملن استقبالیہ تقریب منعقد کرنے کا مقصد سماج میں بھائی چارے کو مضبوط کرنا ہے اور نفرت ختم کرکے محبت کو عام کرنا ہے تاکہ ملک میں پیار و محبت کی ہوائیں چلیں اور نفرت ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری پرانی تاریخ ہے کہ تہواروں کے موقع پر تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر تہوار مناتے ہیں اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں۔حافظ شیردین نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق کام کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ کے بزرگوں نے انگریزوں کے خلاف لڑ کر ملک کو آزاد کرایا اور امن کے لیے جدوجہد کی۔ تقریب کی نظامت ضلع سکریٹری محمد آصف قریشی،حافظ تحسین اور مفتی عبدالقاسمی نے مشترکہ کی۔ انہوں نے عید ملن کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ عید ملن استقبالیہ تقریب کا مقصد آپسی بھائی چارے اور نفرتوں کی دیوارکو ختم کرکے بھائی چارہ قائم کرنا ہے۔ کیرانہ پارلیمانی حلقہ کی سماج وادی پارٹی کی انچارج اقراء حسن نے کہا کہ ملک ہندوستان میں مختلف تہوار منائے جاتے ہیں اور یہ اس ملک کی خصوصیت رہی ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرکے خوشیاں مناتے ہیں اس طرح کی تقریبات کی ضرورت ہے اور انہوں نے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی تعریف کی۔سابق راجیہ سبھا ایم پی ہریندر ملک نے کہا کہ ہمارے آئین نے سب کو مساوی حقوق دیئے ہیں۔مسلمانوں کو کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفکٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔سماجودی پارٹی کے سابق ضلع صدر پرمود تیاگی نے جمعیۃ علماء کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی تاریخ پڑھی ہے وہ جمعیۃ علماء ہند کے کارناموں سے واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ماحول کو خراب کرنے میں مصروف ہیں انہیں ہوشیار رہنا چاہئے۔ میرانپور کے ایم ایل اے چندن چوہان نے بھی اپنا خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرہ نیک نیتی سے ترقی کرتا ہے۔انہوں جمعیۃ علماء ہند کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔بڈھانہ کے ایم ایل اے راج پال بالیان نے کہا کہ سماج میں ہندو مسلم ایک ساتھ رہتے ہیں تو امتیازی سلوک کیوں؟ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل جل کر رہنا ہے۔ آخر میں مولانا عمران حسین پوری کے خطاب پر تقریب کا اختتام ہوا۔ تقریب سے مولانا مکرم قاسمی، حاجی شاہد تیاگی، وجے کوشک، مولانا ساجد ضلع صدر جمعیۃ علماء شاملی، مولانا خالد، سبودھ تیاگی، مولانا شعیب، احتشام صدیقی ،راشد عظیم ،مولانا سید سعد،مفتی محمد عدنان منصورپوری وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پرتاپ تیاگی، ڈاکٹر نور حسن سلیمانی، مفتی یامین،مفتی عدنان منصورپوری،مولانا سید سعد خانجہانپوری، وغیرہ کے علاوہ سینکڑوں لوگ موجود تھے۔












