نئی دہلی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ فارسی میں جی ۰۲ کے تحت پروفیسر ہادی حسن یادگاری خطبہ کے انعقاد ہوا جس کے مقرر خاص پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین ہمدانی اعزازی پروفیسر مانونے ”فارسی صوفی شعراءاور صلح کل“ کے موضوع پرخطبہ پیش کیا جبکہ صدارت کے فرایض، پروفیسر عبدالحلیم صدر شعبہ فارسی نے انجام دیئے اور خواجہ سید محمد نظامی سجادہ نشین درگاہ حضرت نظام الدین اولیا دہلی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت فرمائی۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر یاسر عباس نے جامعہ کی روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے کیا۔ استقبایہ کلمات کے دوران ہادی حسن یادگاری خطبہ کے کنوینر ڈاکٹر سید کلیم اصغر نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ہادی حسن کا مختصر تعارف پیش کیا، موصوف نے کہا ہادی حسن دراصل بوٹنی کے اسکالر تھے لیکن شہرت فارسی میں ہوئی آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دونوں کو اپنی خدمات پیش کی۔پروفیسر سید عزیز الدین نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اسلام سراپا صلح کل ہے اور اس کا سب سے بڑا نمونہ ہمیں صلح حدیبیہ میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ فارسی صوفی شعرا نے صلح کل کو اپنا مقصد بنایا اور فارسی شعراءکے ساتھ ساتھ اردو شعراءکے یہاں بھی اس موضوع پر اشعار ملتے ہیں اور صوفیا نے خاص طور سے صلح کل کے پیغام کو سب سے مقدم رکھا اور ہندوستان آنے والے صوفیا اور شعراءنے اس پر عمل کرتے ہوئے اسلام کو فروغ بخشا۔آپ نے مزید کہا سعدی کے مشہور اشعار جو نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ ہندوستان میں راشٹرپتی بھون کے اندر اشوکا ہال میں بھی لکھے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر عراق رضا زیدی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صلح کل فارسی شعرا کے علاوہ دوسرے شعرا کے یہاں بھی ہے اور شاعر عشق و محبت کے جذبات سے لبریز ہوتا ہے جو نفرت کی ضد ہے عشق اور نفرت ایک ساتھ اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ صوفیاءنے جنگوں میں بھی شرکت کی مگر ان کا کام عموماًزخمیوں کی تیمارداری ہوتا تھا جو وہ بلا تفریق انجام دیتے تھے۔ آخر میں صدر جلسہ نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ یہ جہان ایک فیملی اور ایک مستقبل ہے جو دراصل صلح کل ہے اور سب سے بڑھ کر قرآن حکیم میں چودہ سو سال قبل یہی فرمایا گیا ہے۔ مولانا روم، عبدالرحمن جامی، نظامی وغیرہ نے صلح کل یعنی دلوں کو جوڑنا سکھایا ہے نہ کہ توڑنا۔












