جے پور، (یو این آئی) راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے مالی سال 2026-27 کے ریاستی بجٹ کو آٹھ کروڑ عوام کے تئیں حکومت کے فرائض کی دستاویز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ریاست کی ہمہ جہت اور پائیدار ترقی کو یقینی بناتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے وکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کے وژن کو آگے بڑھائے گا۔بدھ کے روز اسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ دیا کماری کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بجٹ تیز معاشی ترقی، عوام کی امنگوں کی تکمیل اور سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کی برسی کے موقع پر اس بجٹ کو خواتین، نوجوانوں، مزدوروں، کسانوں اور سماج کے محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کیا۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سال 2026-27 کے بجٹ کا مجموعی حجم 6 لاکھ 10 ہزار 956 کروڑ روپے ہے، جو کہ سال 2023-24 کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے معاشی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی جی ایس ڈی پی 21 لاکھ 52 ہزار کروڑ سے زائد ہونے کا امکان ہے، جبکہ فی کس آمدنی پہلی بار 2 لاکھ 2 ہزار روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 53 ہزار 978 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو دو سال پہلے کے مقابلے دو گنا سے بھی زیادہ ہیں۔نوجوانوں کے لیے اہم اعلانات کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر بھجن لال شرما نے راجستھان اسٹیٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کے قیام کا اعلان کیا، جو آن لائن سینٹرز کے ذریعے امتحانات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پانچ سالوں میں چار لاکھ نوکریاں دینے کا عہد کیا ہے، جس میں سے ایک لاکھ تقرریاں دی جا چکی ہیں اور مزید پر عمل جاری ہے۔ انہوں نے بجٹ میں وی بی جی رام جی اسکیم کے لیے چار ہزار کروڑ روپے اور کسانوں کے لیے یمنا کے پانی کو شیکھاوٹی خطے تک لانے کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی۔تعلیم اور صحت کے شعبوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے لیے 69 ہزار کروڑ روپے (35 فیصد اضافہ) اور صحت کے لیے 32 ہزار 526 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جے پور کے جے کے لون اسپتال میں 500 بیڈز پر مشتمل آئی پی ڈی ٹاور کی تعمیر بھی شامل ہے۔ خواتین کی خودمختاری کے لیے سیلف ہیلپ گروپس کے قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔












