نئی دہلی، پریس ریلیز،ہماراسماج: قرآن کریم نور ہدایت ہے، یہ دنیا وآخرت کی فلاح وکامیابی کا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم پر بھی خصوصی توجہ دی جائے ، کیونکہ دنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے اور دنیوی ضروتوں کو پورا کرنے کے لئے علوم عصریہ پر بھی ہمارے نونہالوں کومکمل عبور ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار دہلی وخطہ راجدھانی کی دینی درسگاہ مدرسہ جامعہ اسلامیہ اشاعت الاسلام، بستی حضرت نظام الدین، کلاں مسجد نئی دہلی میں عظمت قرآن کے عنوان سے سالانہ اجلاسِ عام و دستارِ حفاظ میں علمائے کرام نے کیا۔ اجلاس کی صدارت مدرسہ ہٰذا کے مہتمم مولانا محمد احمد رحیمی اور نظامت مفتی عبدالواحد قاسمی امام و خطیب ایک مینارہ مسجد للتا پارک دہلی نے کی۔ اس موقع پر ملک کی عظیم شخصیت مہمانِ خصوصی چیف اِمام ڈاکٹر امام عمیر احمد الیاسی ودیگر علمائے کرام، ائمۂ عظام کے ہاتھوں۱۴؍حفاظِ کرام کی دستار بندی ہوئی۔ تقریب کی سب سے ایمان افروز بات یہ رہی کہ ایک طالبِ علم محمد یاسر نے محض۴۶؍دن میں قرآنِ کریم حفظ کرلیا، یہ بلاشبہ کلامِ الٰہی کے اعجاز کی ایک روشن مثال ہے۔اس موقع پر مدرسہ کے مہتمم مولانا محمد احمد رحیمی نے سالانہ تعلیمی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان وکرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو قرآن کریم کی خدمت کا موقع عنایت فرمایا۔ یہ قرآن کی ہی برکت ہے کہ ہم سب یہاں پر جمع ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی بھلائی قرآن وحدیث پر عمل پیرا ہونے میں مضمر ہے۔ قرآن کریم ہی وہ عظیم کتاب ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ دین کی خدمت صرف علماء کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس کا مکلف ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ اخلاص، حکمت اور نرم اسلوب کے ساتھ دین کی رہنمائی کریں، جبکہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ علماء کا تعاون کریں۔اس موقع پرآل انڈیا امام آرگنائزیشن کے صدر ڈاکٹر عمیر الیاسی نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم حاصل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ دین کی تعلیم سے ہماری آخرت سنورے گی اور دنیاوی تعلیم سے ہماری دنیوی زندگی کامیاب ہوگی۔ انہوں نے مزید کہاکہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارا بچہ حافظ قرآن کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ہوتا کہ وہ جب علاج کرتا تو قرآن کی تلاوت کے بعد آپریشن کرتا، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارا بچہ مفتی ہوتا اور ساتھ میں جج ہوتا کہ جب ا س کے سامنےعدالت میں انصاف کی بات ہوتی تو اس کے فیصلے حضرت عمرؓ کا عدل وانصاف سامنے ہوتا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارا بچہ عالم ہو اور ساتھ میں آئی اے ایس یا آئی پی ایس ہو کہ جب وہ ملک کا انتظامی امور دیکھ رہاہوتواسلامی تاریخ سامنے ہو۔ مہتمم مدرسہ مولانا محمد احمد رحیمی کی بے مثال کاوشیں لائقِ تحسین ہیں، وہ قوم کے نونہالوں کے لئے اس طرح کا ابتدائی نظام چلارہے ہیں۔مولانا احمد رحیمی کے استاذ مفتی ابراراحمد و مولانا عارف ندوی نے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہوئے کہاکہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم کلام ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری خود ربِّ کائنات نے لی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’بے شک ہم ہی نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘۔اسی وعدۂ الٰہی کا عملی مظہر یہ ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں بچے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نےمدرسہ کے اس بچے کےسینے میں محض ۴۶؍ دن میں اتارکر یہ دکھا دیا ہے کہ ہم جس کے سینے کو چاہیے اپنے کلام کی حفاظت کراسکتے ہیں۔ بے شک یہ قرآن کریم کا کھلا معجزہ ہے۔ اس دوران معروف قاری طیب جمال سہارنپور ی وقاری عنایت الرحمان میرٹھی نے اپنی خوش الحانی آواز کے ذریعہ مشہور ائمۂ حرمین کے طرز میں تلاوت قرآن کرکے مجلس کو مزید روح پرور بنادیا۔موصوف جب قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو حاضرین کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ مسجد الحرام یا مسجد نبوی میں بیٹھے ہوں۔اخیر میں مدرسہ ہٰذا کے ۱۴؍ حفاظ کی دستاربندی کی گئی اور انہیں گرانقدر انعامات سے نوازا گیا۔کل ہند مسابقات قرآنی کےجنرل سکریٹری قاری محمد یاسین نےاپنے خصوصی مشوروں اور کوششوں سےجلسےکو کامیاب بنایا۔ اجلاس میں مولانا محمد اسلم مولانا محمد ہاشم مولانا محمد جاوید صدیقی قاسمی ، مولانا خلیل احمد قاسمی ، قاری احرارالحق جوہر قاسمی، مولانا عابد قاسمی، شرف نانپاروی، مفتی افروزعالم ، محمد وسیم، مولانا آصف اقبال قاسمی،مولانا محمد ہارون امام و خطیب مسجد ریس کورس، سلمان خان(ماسٹر ٹرینر)،مولانا بشیر احمد ،مولانا دین محمد ،مولانا محمد ارشد ، مولانا مفتی ظفر احمد ،ڈاکٹر عاکف،حافظ ظفر بھیکم پور ، قاری محمد نثار کھنداولی ،محمد سلمان گھاسیڑہ،انظرالباری ایڈیٹر دی فریڈم پریس وغیرہ کے علاوہ کثیر تعداد میں علما ء کرام و عوام نے شرکت کی۔












