آہوں سے بھرا ساز ہوں، میں غم سے ہوں بےکل
تن زخم سے معمور ہے ، دل درد سے بوجھل
تیرے نمازی آج تیرے صحن میں دیکھے نہیں
گونجی نہیں ہے آج بھی تیرے مؤذن کی اذاں
دریاہائے”کوسی” اور "پنار” کے دامن میں بسا میرا شہر گزشتہ ٢٢/جنوری کو ریت پر انگارے کی بارش کررہا تھا، شجر وثمر سے لدامیرا شہر اس دن اپنی روح میں تیغ وخنجر کا نظارہ دیکھ رہا تھا، تہذیب وثقافت کا میراشہر تنقید وتعصب کا گہوارہ صاف طورپر نظر آرہاتھا، اخوت ومساوات کا میرا شہر جانب دار اور پکچھ پات والا دکھ رہا تھا، رام اور رحیم سے بھرا میرا شہر بے رام اور لارحیم نظر آرہا تھا، فن کاروں کا میرا شہر بے نور پژ مردہ محسوس ہورہا تھا، حسن وجمال سے ملبوس میرا شہر بے رونق، پرخار اور ظلمت سے پرنظر آرہا تھا، ہندوستانی سیاہ باب کے چہرے کا دیدار برسوں قبل ہندوستان کی دیگر شہروں کی طرح میرا شہر نے بھی کرلیا تھا اور ایک سیاہ باب کے اضافے پر پرتپاک خیر مقدم کے لئے سج دھج کر تیار بھی تھا، ایک طبقہ ہے جوایک طرف اپنے آستھا اور عقیدت کے دہلیز پر چراغاں کی تیاریوں میں مصروف عمل تھا تو دوسری جانب دوسروں کے آستھا پر شب خون مارنے کی عبارت بھی لکھ رہا تھا، آئندہ کل ملک عزیز کا پاکیزہ جسم وجان کس قدر تنگ اور ننگ ہوگا وہ تو خدا ہی جانے مگر جمہوریت کی سب سے بڑی عمارت کا امارت کس قدر مجروح ہورہا تھا وہ تو قابل رحم اور باعث محاسبہ تھا، ملکی اثاثہ اور ملکی املاک کی حفاظت جہاں غریبی ریکھا سے نیچے بسر کرنے والے لوگوں کے ذمہ لازم ہے وہیں بلندی کے آخری پودان پر فائز ہستیوں کے لئے بھی ضروری ہے، ملک کی رتی رتی کا مصرف ہے اور ذرے ذرے کا مسکن بھی ہے، کس مسکن میں کیا صرف ہونا ہے وہ آئین کی کڑی کا ایک سلسلہ ہے اور کسی بھی حدبندی سے تجاوز پر ردعمل بھی ہے، مگر اس کے باوجود نتیجہ کیا ہے؟ سبھوں کے سامنے ہے، خیر میرا شہر بائیس کی شام اپنی ریاست سے دور کسی شہر کے جشن پر سراپا انتظار تھا، سینکڑوں میل کی مسافت ہے مگر دیا اور دیگر ذرائع سے اپنے شہر کی روشنی کو منتقل کرنے کی ضد بھی دیدنی تھی، اب اس روشنی سے تاریکی کافور ہوتی ہے یا انسانیت شرم سار وہ تو خالق کائنات ہی جانے، ہر شہر کی طرح میرے شہر میں بھی چاندنی چوک نامی ایک چوک ہے، جہاں چاندنیوں سے ملاقات کم لیکن کثافت سے بھینٹ زیادہ ہوجایا کرتی ہے، چھوٹا سا شہر ہے،چھوٹی سی مارکیٹ ہے، کشادہ سڑک ہے اور نہ ہی کوئی پارکنگ، مگر چار چار وسیع وعریض نالے ضرورہیں، خیر اس پر شور اور غوغہ بازیوں کی کرخی کے کان پھاڑ دینے والی صدائیں ہیں،جنہیں راہ گیروں کی فکر تھی اور نہ ہی ٹریفک کا خیال ،ایک جتھا اور جم غفیر تھی، یکساں پوشاک ہے،ماتھے پر پٹے اور گلے میں ایک کلر کا گمچھا ہے،زبان پر شگاف فلک مخصوص نعرے تھے ،آنکھوں میں سرخی اور شرارت تھی، یکایک آمد ورفت ٹھپ ہوگئی اور اس تھما ہوا شہر میں میرا تھما ہوا بائک تھا، تماشہ سامنے ہورہا تھا، تماشہ بین بھی ساکت تھے، سمجھئے پورا شہر تھم ساگیا تھا، دس منٹ کا ٹھٹھرتا لمحہ شہر کو تمازت زدہ بنا دیا تھا،جس نام پر یہ ہنگامہ بپا تھا اس نام کے نام کو مٹی میں دفن کرکے نہ جانے یہ گروہ کونسا ہنر پیش کررہا تھا،پران پرتشٹھا (عزت) کے نام پر میرا شہر جو ڈرامہ پیش کررہا تھا وہ رام کا اپدیش تھا اور نہ ہی رام کاکوئی سندیش تھا، رام کے مانوتا (انسانیت ) کو میرا شہر کھلے عام ذلیل و رسوا کررہا تھا، رینو کا میرا شہر بھارت سے باہر بھی پریمیوں( محبین ) کا شہر بولاجاتارہا ہے، عیسی فرتاب کا میرا یہ شہر تہذیب وتمدن کا شہر پکارا اور لکھا جاتا رہا ہے اس کے باوجود زہر اگلتا میرا شہر اس شام کو اپنی تاریخ اپنے ہاتھوں مسخ کررہا تھا، میرا سلجھتا شہر سلگ نہیں سکتا مگر اس شام سسک ضرور رہا ہوگا، سالمیت صفات والا میرا شہر پارہ پارہ نہیں ہوسکتا، لیکن اس ساعت دل ریزہ ریزہ ضرور ہوا ہوگا،چاندنی چوک اس وقت اپنی چاندنی کی گم شدگی کی رپورٹ ضرور کرارہا ہوگا،شہر کی کثافت زدہ ماحول سے دل ملول ہی نہیں ہوا بلکہ مستقبل میں میرا شہر کیا بوۓ گا فکر دامن گیر ہوئی، ندیوں کے مٹھاس میں کیااور کون سا تریاق گھولے گایہ فکر لاحق ہوئی، درختوں کے چھاؤں،ٹوٹی بینچوں اورگندی کرسیوں پر بیٹھا شہر کیا سمت اپناۓ گا سمجھنا دشوار ہوا، صرف بھکتوں کے لبادہ اوڑھے بھکتوں کی جھرمٹ سے گاڑی کے بریک کو آزادی ملی اور میں اپنے غریب خانے کے چاردیواری میں اسیر ہوگیا، میرا شہراس شام اس قدر بداماں ہوجاۓگا اس کڑھن میں کراہ رہاتھا کہ جس شہر کو خون جگر سے ہمارے اسلاف نے سینچا ہو وہ اس قدر آوارہ ہوجائے گا، جس شہر کے خمیر میں یہاں کی تہذیب وثقافت موجزن ہوں وہ اس قدر سخت اورکڑوا ہوجاۓ گا،جس شہر کے خاک ودامن میں ہمارے آباواجداد کے دیس بھگتی گیتوں اور دیش پریمی نغموں سے اس قدر محروم ہوجائے گا،جس شہر میں رینو کا پسینہ شامل ہو،جس شہر میں عیسی فرتاب کا خون شامل ہو،جس شہر میں قومی یکجہتی کا بول بالا ہو، جس شہر میں بھائی چارگی کا ماحول ہو، جس شہر میں پریم، محبت اور انسیت کی لہریں ہوں،جس شہر کی ندیوں سے مٹھاس اور گلیوں سے شیرینی بٹتی ہو، یکایک یہ پیداوار کہاں سے اس شہر کے نصیب میں آگیا۔ انہی درد و کرب میں مجھے اپنے آپ سے گفتگو کرتے کافی سمے اور وقت بیت گیا، شام کے ہنگامے سے میرا دل کافی رنجیدہ ہوا، خدشات کے سمندوروں میں غوطہ خوری بھی ہوئی، ماضی کی شاندار تاریخ پر نگاہ بھی گئی، بلال، ہمزہ، سمیہ اور صہیب ہی نہیں ہم اور آپ کی جان جس ذات گرامی پر قربان ان کی حیات طیبہ بھی سامنے گردش کرنے لگی،غار حرا اور ابوطالب کی گھاٹی ہی نہیں طائف کا لہولہان جسم اطہر کادرد بھی نظر آنےلگا، بدر، احد اورخندق ہی نہیں بلکہ حسنین کا کربلا بھی تصور چکر کاٹنے لگا، سلطان صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان ہی نہیں شیخ الاسلام اور شیخ الہند کی تاریخ بھی نظر آنے لگی، شاملی، امرتسر اور نہ جانے تواریخ کے کون کون سے پنے اور اوراق دل ودماغ کے کینوس پر نقش ہونے لگے،اسی تاریخی تناظر میں خدشات سے آزادی ملی اور محاسبے کی توفیق نصیب ہوئی، ذلت نمائی کے اسباب اور رسوائی کے علل پر گہری نگاہ ٹکی، کیوں کہ رب کائنات کا وعدہ ہے، ہزیمت نصیب نہیں ہوگی، مغلوبیت سر نہیں چڑھے گی، پسپائی کی شکل نظر نہیں آئے گی مگر شرط ہےسچے اور پکےمؤمن بنے رہنے کی، شرط ہے مکمل صاحب ایمان ہونے کا اور ہم اپنے رب کے ان شرائط پر کتنا قائم ہیں؟، ہمیں محاسبہ ضرور کرنا چاہیئے، کیوں کہ ہماری نگاہوں کے سامنے خانۂ کعبہ کی سنہری تاریخ ہے، ابابیلی لشکر کے واقعہ پر ہم سبھوں کا ایمان کامل ہے، اس لئے کل کیا؟ کئ کل کے جشن چراغاں پر بھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے، ہم کل کے جشن میں شامل ہیں اور نہ ہی شرکت کرنے والوں کے مخالف ہیں، ہم کل کے جشن میں شامل شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی راہ میں خار بچھانے والے ہیں، ہم کل کے جشن چراغاں میں شریک ہیں اور نہ ہی مالا جھپی کرنے والے،اپنے استھا اور عقیدے کے احترام میں جہاں کوئی فتح یابی کا علم نصب کررہاہے وہیں ہم بھی اپنےدین و ایمان کے ساتھ قائم ہیں، جہاں کوئی آستھا کی بنیاد پر” پران پرتشٹھا”پروگرام کا انعقاد کررہاہے وہیں ہمارا ایمان بھی اس بابت مستحکم ہے کہ ہماری عبادت گاہ ماضی سے ہے، حال میں ہے اورمستقبل میں بھی رہے گی۔ ان شاءاللہ اور میرے درد وکرب کی سچی تصویر کشی کی ہے ممتاز شاعرآفتاب ظہیر صدیقی نے، آئیئے ان اشعار کو گنگناتے ہیں:-
اس ملک کی پہچان تھی وہ بابری مسجد
اور جانِ مسلمان تھی وہ بابری مسجد
توقیر ِ ثنا خوان تھی وہ بابری مسجد
اُس شہر ستم کار کی تسخیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی
پھر بند نظر آئیں گی شیطاں کی دکانیں
کچھ بول نہیں پائیں گی کل ان کی زبانیں
گونجیں گی وہیں بابری مسجد کی اذانیں
تاریک گلستان میں تنویر تو ہوگی
ایے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی











