• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 28, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

ہمارا معاشرہ اور ہماری ذمےداریاں

ڈاکٹر رضوان احمد

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 17, 2024
0 0
A A
Share on FacebookShare on Twitter

دوستو! آج ہم بات کریں گے ہمارا معاشرہ اور ہماری ذمہ داری کے عنوان پر اس ٹاپک کو میں نے چار حصے میں منقسم کیا ہے پہلا معاشرے میں رہنے والے انسانوں کی اہمیت، دوسرا معاشرے میں پھیلی انسانی برائیاں، تیسرا بہتر معاشرے کے لئے ہم کیا کریں، چوتھا کون سی سوچ ہے جو سارے انسانوں کو متحد کر سکتی ہے، معاشرے میں رہنے والے انسانوں کی اہمیت کیا ہے آئیں ہم ایسے سمجھتے ہیں۔۔۔
پاک ہے وہ مالک جس نے زمین آسمان بنایا اس میں رہنے والے جاندار اور بے جان چیزوں کو پیدا کیا اور پھر انسان کو بنایا۔ انسانوں کو سارے جاندار اور بے جان چیزوں میں سب سے بہتر مخلوق بنایا، بڑا مقام دیا اور انسانوں کو یہ ذمہ داری دی کہ دنیا کو بہتر بنائے رکھے۔ ہوا پانی زمین صاف ستھری رکھے۔ سارے جاندار چیزوں کے بیچ انسان قائم رہے۔اور انسان انصاف قائم رکھے ۔ذرا سوچیے کہ انسانوں کو یہ مقام یہ مرتبہ یہ اونچائی کیوں ملی؟۔ حالانکہ جانوروں کے پاس بھی دل ہے، دماغ ہے، آنکھ ہے، کان ہے، ز بان ہے، ہاتھ ہے، کڈنی ہے، لیور ہے، پیٹ ہے وہ بھی کھاتے ہیں گھومتے ہیں چلتے ہیں گاتے ہیں بچے پیدا کرتے ہیں کہیں نہ کہیں گھر بنا کر رہتے ہیں اور ایک دن مر جاتے ہیں ،آخر وہ کون سی چیز ہے جو انسان کو ساری مخلوقات میں سب سے بہتر بناتا ہے وُہ کیا چیز ہے؟ جب آپ غور کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ دو چیز ہے جس کے وجہ سے انسان دنیا میں سب سے بہتر ہے، ایک ہے علم یعنی (نالج) دوسرا بہتر سے بہتر بننےاور بنانے کا جذبہ ہو ۔آپ دیکھتے ہیں کہ جانور پہلے جہاں تھے آج وہیں ہیں شیر جنگل میں تھا آج بھی وہیں ہے،چیٹیاں بل میں تھی وہ آج بھی وہیں ہیں شیر پہلے شکار کرکے کھاتا تھا۔آج بھی شکار کرکے کھاتا ہے۔ جب کمزور ہو جاتا ہے تو شکار بن جاتا ہے۔کل شیر ہرن کو کھاتا تھا ہرن گھاس کھاتی تھی اور گھاس خود کو باقی رکھنے کے لئے زمین کے اندر پھیلی ہوئی ہوتی تھی آج بھی وہیں ہو رہا ہے۔ حالانکہ انسان ہر اعتبار سے ترقی کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ پہلے کا انسان مٹی کے گھر میں رہتا تھا یا جنگلوں میں رہتا تھا آج کا انسان پکے گھروں میں رہتا ہے۔ پہلے کا انسان سورج کو دیکھ کر وقت معلوم کرتا تھا۔آج کا انسان گھڑی کو دیکھ کر وقت معلوم کرتا ہے۔ پہلے کے انسان کو ہاتھوں سے چکی چلانی پڑتی تھی تب جاکر وہ روٹی کا مزہ لے پاتا تھا آج کا انسان صرف ایک بٹن دبا کر بہت سے چیزوں کا مزہ لے لیتا ہے۔ پہلے کا انسان اپنے محبوبہ کو خطوط ورسالے لکھ کر اپنے دل کا حال بیان کرتا تھا آج کا انسان وہ واٹس ایپ پر لکھکر کر رہا ہے اور فون پر بات کرکے رہا ہے پہلے کا انسان جب پردیش جاتا تھا تو صرف خوابوں میں ان سے ملتا تھا آج کا انسان جب چاہتا ہے ویڈیو کال پر مل لیتا ہے پہلے کا انسان اونچائی سے تبھی کودتا تھا جب اس کی دنیا اجڑ جاتی تھی آج کا انسان اونچائی سے اِس لئے کودتا ہے جس کسی کو امپریس کرنا ہوتا ہے اور دنیا بسانا ہوتا ہے۔ بہرحال انسان کی انہی دو خوبیوں کی وجہ کر جانوروں سے بہت اگے بڑھا دیا لیکن جب ہم اپنے معاشرے اور محلے میں دیکھتے ہیں تو ہمیں انسان ہونے پر شک ہونے لگتا ہے کہ آج ہم کیا بن گئے ہیں جانوروں سے بدتر حالت ہے۔
آج کچھ انسانوں کی یا يوں کہیئے کہ اکثر انسانوں کی حرکت کو دیکھ کر جانور بھی شرما جائے ہونگے ۔کیا ہو رہا ہے ہمارے معاشرے میں؟ ڈاکٹر مرے ہوئے مریض کو وینڈی لیٹر پر رکھ کر مردہ سے پیسہ لوٹ رہا ہے ۔بوڑھے ماں باپ کا پیسہ لوٹ رہا ہے۔ 100 روپیہ کی جگہ ہزار روپیہ کا دوا لکھ رہا ہے۔ انسانوں کو غریب بنا رہا ہے۔جو سہولت غریب مزدور مریضوں کو ملنی چاہیے تھی وہ امیروں کے حوالے کر رہا ہے۔ پیسہ اس سے کما رہا ہے اور بلڈنگیں بنا رہا ہے۔ دوسری طرف کچھ وکیل کریمنل سے پیسے لے کر بے گناہ انسانوں کو پھانسی پر چڑھا رہا ہے ریپیٹ (زانی) سے پیسہ لے کر بیچارے مظلوم بچی کو کورٹ میں بےعزت کر رہا ہے اور ریپیسٹ کی طرفداری کر رہا ہے، بے گناہ انسان کو جھوٹے کیس میں پھنسا کر زندگی برباد کر رہا ہے۔سچ کو جھوٹ جھوٹ کو سچ بتا کر خود کو انصاف کا مسیحہ کہلا رہا ہے وکیل ہونے کے لئے جھوٹ تو بولنا ہی پڑے گا۔ کچھ انجینیئرز تو موت کا ٹھیکا لے رکھا ہے پیسے کی خاطر ایسا کنسٹرکشن کرواتے ہیں جو کئی مزدور کے گھر اجاڑ دیتا ہے ایسا پل بناتا ہے جو مزدوروں کو قبرستان جانا پڑ جاتا ہے ایسا بلڈنگ بناتے ہیں جس میں کئی خواب دفن ہو جاتے ہیں کچھ مولانا و پنڈت اور نیتا پیسوں کی خاطر اپنا ضمیر بیچ دیتا ہے جھوٹ بول کر بھائی کو بھائی سے لڑا دیتا ہے محلے میں ہو رہا ظلم و زیادتی کے خلاف کچھ نہیں بولتے ہیں بلکہ وہاں بھی اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔کُچھ نوجوان نشے کی وجہ سے برباد ہو رہے ہیں نوجوانوں کو بچانے کی پلاننگ اور کوشش نہیں کرتے انسانیت کا (معیار)لیول اتنا گر چکا ہے کہ کئی لاکھ بچیاں دنیا میں آنے سے پہلے ہی اسقاط کے نام پر مار دیئے جاتے ہیں جو اکثر یہ پڑھنے کو اور سننے کو ملتا ہے تو دل کانپ جاتا ہے کہ انسان کا بچہ کسی نالے میں پڑا ہوا ملا ہے کسی کچڑے کے ڈبے میں ملا ہے تو کسی دریا کے کنارے کچڑے کے ساتھ بہائے ہوئے ملا۔ انسانیت کا لیول اتنا نیچے کیسے گر سکتا ہے یہ واقعی بہت سوچنے اور فکر کرنے کی بات ہے؟ کیا ہم انسان کو پھر اعلی مقام پر فیض ہونا پڑے گا اگر ہم اسے اس مالک کے بنائے ہوئے نظام کو دیکھیں اور غور و فکر کریں تو ہمیں احساس ہوگا کہ ایسے حالات پہلے کئی بارآچکے ہیں اور انسانیت کئی بار زندہ ہوئی ہے ہر دن سورج ڈوبتا ہے اندھیرا ہوتا ہے اور پھر سے ایک نیا سویرا ہوتا ہے اور نئی امید لگاتا ہے ہم بھی کوشش کرکے ایک نیا سویرا لا سکتے ہیں بس ہمیں اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی قربانی پیش کرنی ہوگی ہمیں خود سے کچھ وعدے کرنے ہوں گے اور اس مالک سے کچھ وعدے کرنے ہوں گے اسی پر بھروسہ کرنا ہوگا جس نے ہر چیز کو بنایا ہے سویرا سنوارا ہے اور ہم انسانوں کے حوالے کیے گئے ہیں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم ڈاکٹر ہیں تو ہم مریضوں کا علاج کریں گے چاہے ان کے پاس پیسے ہو یا نہ ہوں دوا کی کمی سے کوئی یتیم نہیں ہوگا کسی کا باپ نہیں مرے گا ہم سے جتنا ہو پائے گا ہم اپنی کوشش کریں گے اس کے لئے پلاننگ اور مشورہ کریں گے لوگوں کے پاس جائیں گے انہیں بیماریوں کے سلسلے میں ہوشیار کریں گے انہیں صحت کی اہمیت اور اس کی (خاصیت)امپورٹنٹ بتائیں گے اگر ہم وکیل ہیں,جج ہیں تو ہم ہمیشہ سچ کو سچ کہیں گے اور بتائیں گے بے گناہ کو بچائیں گے. گنہگاروں کو سزا دلوائیں گے ایسا انصاف قائم کریں گے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا ہے تاکہ کوئی انسان کسی انسان کو بری نگاہ سے دیکھنے سے پہلے 10 بار سوچے گا۔ کوئی جرم کرنے سے پہلے اس کے ہاتھ کانپیں گے اگر ہم مولوی یا پنڈت ہیں اور علم دان ہیں تو ہم لوگوں کو صحیح غلط میں فرق بتائیں گے چاہے ہمیں پیسہ ملے یا نہ ملے چاہے ہمیں عزت ملے یا نہ ملے ہم اتنی محنت کریں گے کہ جو بچہ اپنے ماں باپ کو تڑپاتااور مارتا تھا وہ ان کے قدموں میں چمٹ کر ان کی خدمت کرے گا جو شوہر اپنی بیوی کو تڑپاتا و مارتا ہے۔ وہ اسے اپنے گھر کی مہارانی بنا کر رکھے گا جو بیوی اپنے شوہر کو اپنی جوتی کے نوک پر رکھتی ہے وہ اسے اپنے سر کا تاج سمجھے گی جو باپ اپنی بیٹی کو بوجھ سمجھتے ہیں وہ اس بیٹی کو رحمت اور برکت بنا کر خوش دلی سے پرورش کریگا ۔
میرے بھائیو اور دوستو! ہم نے انسان کی عظمت کو دیکھ لیا ہم پھر ان کی برائیوں کو بھی دیکھ لیا اور اسے دور کرنے کی ترکیب بھی سوچ لیا اور وعدے بھی کر لیا لیکن یقین جانیئے ہم اپنا وعدہ اور اپنی ذمہ داری نہیں پورا کر سکتے جب تک کہ ہم اپنے محلے کو ایک اچّھا سماج نہ بنا لیں، یا ایک اچھا معاشرہ نہ بنا لیں۔آپ کہیں گے کہ معاشرہ کیا ہوتا ہے یا سماج کسے کہتے ہیں اصل میں یہ انسانوں کا جماورہ ہوتا ہے جس کا مقصد ایک ہوتا ہے حالانکہ اس میں الگ الگ صلاحیتوں اور الگ الگ خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں اور اس صلاحیت کے لوگ ہوتے ہیں کوئی ڈاکٹر ہوتے ہیں کوئی انجینیئر ہوتے ہیں تو کوئی وکیل ہوتے ہیں تو کوئی عالم ہوتے ہیں کوئی مفتی ہوتے ہیں تو کوئی پنڈت ہوتے ہیں کوئی ہندو ہوتے ہیں کوئی مسلمان ہوتے ہیں کوئی سیکھ ہوتے ہیں کوئی عیسائی ہوتے ہیں کوئی سائنٹسٹ ہوتے ہیں الگ الگ طبقے کے لوگ ہوتے ہیں الگ الگ سوچ کے لوگ ہوتے ہیں لیکن سبھی کا مقصد ایک ہوتا ہے جیسے محلے یا قصبہ یا مُلک کو ایک سماج کہا جاتا ہے معاشرہ کہا جاتا ہے سوچئے کہ کون سا ایسا کار خیر مقصد ہو سکتا ہے جو ساری انسانیت کو ایک کر دے۔ جب آپ بڑے بڑے اسکالر کو پڑھیں گے یا بدھ جیویوں کو دیکھیں گے یا ان سے بات کریں گے تو اپ کو پتہ چلے گا کہ وہ مقصد کو سمجھنا اوراُس مقصد تک پہنچنا بالکل آسان ہوجائیگا۔ جتنے بھی بزرگانِ دین دنیا میں آئے سبھوں نے انسانیت پر محنت کی لوگ جوڑتے چلے گئے اب تک جتنے اولیاء اللہ آئے جنہوں نے انسانیت کی سیوا کی انسانوں کو راہ دکھایا انسانی بھید کو دکھایا انسانی بھید کو ایک صحیح راہ دکھائی انسانوں کو اندھیرے سے نکالا اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے انسان کو انسان بنایا اور سمجھایا سکھایا ان سبھی میں ایک بات کامن (common )تھی کہ وہ سبھی لوگ اپنے کام صرف اور صرف اسے اللہ کے لئے اس مالک کے خوشی کے لئے کام کرتے تھے جس نے یہ پوری زمین و آسمان پوری انسانیت پوری مخلوق اور اس میں رہنے والے جاندار اور بے جان چیزوں یعنی پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داری اچھی سے پوری کر سکیں اور ہمارا سماج واقعی ایک سماج بنے ہمارا معاشرہ واقعی ایک معاشرہ بنے تو ہمیں اپنا سارا کام اس مالک کے خوشی کے لئے کرنا ہوگاجس نے ہمیں پیدا کیا ہمیں پیسے کی محبت چھوڑنی ہوگی دولت،عزت،شہرت، محبت اور لالچ اور چاہت چھوڑ دینی ہوگی تبھی ہم اپنی ذمہ داری کو پورا کر سکتے ہیں اپنی حقیقی مالک کو چھوڑ کر کسی اور کی غلامی کرنا ہی اصل میں ساری تباہیوں کی جڑ ہے۔ جب تک ہم اپنے اس اصلی مالک کے علاوہ کسی اور کو اپنا مالک سمجھتے رہیں گے تب تک ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکتے۔ اس لئے اُس مالک نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہم تمہاری ہر غلطیوں کو معاف کر سکتے ہیں لیکن تم میرے علاوہ کسی اور کی غلامی کرو گے یا کسی کو میری جگہ شریک کروگے یا اُسکی بندگی کروگے ہم کبھی معاف نہیں کریں گے۔
اِس لئے آئیں آج سے ہم رب سے رشتہِ جوڑتے ہیں اُنکو راضی ہونے کے اسباب تلاشتے ہیں۔ آج سے ہم لوگ عہد کریں کہ ہم ایک اچھا معاشرہ بنانے کے لئے ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اس کے لئے ہمیں جو بھی قربانی کرنی ہوگی ہم دل سے قبول کریں گے انشاءاللہ۔۔۔
ایک اچھا سماج ایک اچھا معاشرہ بنائیں گے ۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    مارچ 27, 2026
    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی  نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    مارچ 27, 2026
    سری لنکائی پارلیمانی وفد نے جل جیون مشن اور سوَچھ بھارت مشن  گرامین کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کا دورہ کیا

    سری لنکائی پارلیمانی وفد نے جل جیون مشن اور سوَچھ بھارت مشن گرامین کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کا دورہ کیا

    مارچ 27, 2026
    وزیر خارجہ ایس جے شنکر جی 7 وزرائے  خارجہ کی میٹنگ کے لیے فرانس جائیں گے

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر جی 7 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے لیے فرانس جائیں گے

    مارچ 27, 2026
    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    مارچ 27, 2026
    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی  نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    مارچ 27, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist