دیوبند، ،سماج نیوز سروس: بھارتیہ کسان یونین (ورما )اور پچھم پردیش مکتی مورچہ کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما پورے ضلع سہارنپور میں چلنے والی شوگر فیکٹریوں پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ شوگر فیکٹریاں روزانہ تقریباً 40؍ لاکھ روپے کے گنے کم تول کر کسانوں کا استحصال کررہی ہے ،انہوں نے اس بے ایمانی کے لئے حکومت ،ضلع انتظامیہ اور گنا محکمہ کو راست طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ،بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ اس سال مغربی اترپردیش میں تیس سے چالیس فیصد تک گنے کی کم پیداوار ہوئی ہے ،جس کی وجہ سے کسانوں کو بہت بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے 30؍روپے فی کوئنٹل گنے کی قیمت میں اضافہ کئے جانے کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے جیسا کہ کسانوں کے گھروں میں دولت بھر گئی ہو جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں اس سال گنے کی ڈھلائی کا کرایہ تین روپے فی کوئنٹل زیادہ کاٹا جارہا ہے جو ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے شوگر کنٹرول آرڈر 1966کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شوگر فیکٹریوں پر گنے کی قیمتوں کی ادائیگی اور سود کی رقم باقی ہے ۔بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ اب گنے کی کھیتی کرنا کسانوں کے لئے نقصان کا باعث ثابت ہورہی ہے جبکہ حکومت کو گنے سے ہر سال ہزاروں کروڑ روپے کا ٹیکس مل جاتا ہے ۔بھگت سنگھ ورما نے صوبائی وزیر اعلیٰ کو تحریر بھیج کر شوگر فیکٹریوں میں گنا کم تولے جانے پر روک لگانے اور قصور وار مالکوں کو جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا ۔بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ پنجاب کی بھگونت مان حکومت نے کسانوں کو67.50؍ روپے کوئنٹل اپنے کھاتے سے دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اترپردیش کی حکومت اس طرح کی مدد کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے گنے کی قیمت 700؍ روپے فی کوئنٹل کی جانی چاہئے ۔مٹینگ کی صدار ت تنظیم کے صوبائی نائب صدر ڈاکٹر مرتضی سلمانی نے کی اور نظامت کے فرائض صوبائی سکریٹری ماسٹر رئیس احمد نے انجام دیئے ،اس مٹینگ میں قومی صلاح کار رجت شرما ،جوائنٹ سکریٹری دھرم ویر چودھری ،میڈیا انچارج دشینت سنگھ ،سریندر سنگھ ایڈوکیٹ ،ضلع نائب صدر محمد وسیم ظہیر پور ،ضلع سکریٹری محبوب حسن ،سابق ضلع پنچایت رکن سدھیر چودھری ،روندر پردھان ،محمد واحد ،حاجی ساجد ،حاجی سلیمان ،محمد شاہد ،ہرپال سنگھ اور دیگر ذمہ داران وکارکنان موجود رہے ۔












