سرینگر،22؍ مئی،سماج نیوز سروس:موجودہ پارلیمانی انتخابات صرف سیاسی جماعتوں اور اُمیدواروں کے درمیان نہیں بلکہ یہ دو سوچوں کے درمیان لڑائی ہے، ایک طرف وہ لوگ ہیں جو فرقہ پرست اور فرقہ پرستوں کے آلہ کار و اعانت کار ہیں اور دوسری جانب وہ ہیں جو اس فرقہ پرست کیخلاف برسرجہد ہیں کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفر نس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی ہے جو فرقہ پرستی کو ہوا دینے کے کام میں مصروف ہے اور دوسری جانب انڈیا الائنس ہے، جس میں شامل تمام جماعتوں فرقہ پرستی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور میاں الطاف احمد صاحب اننت ناگ راجوری سے انڈیا الائنس کے اُمیدوار ہیں باقی جو بھی اُمیدوار ہیں ہ کہیں نہ کہیں پر کسی نہ کسی طرح بھاجپا کیساتھ جڑے ہوئے ہیں یا پھر بھاجپا کی مدد و اعانت کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پارٹی اُمیدوار میاں الطاف احمد لاوری کے حق میں انتخابی مہم کے سلسلے میں حلقہ انتخاب پہلگام کے عیشمام میں ایک بھاری ورکرس کنونشن سے خطاب کرتے نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ اننت ناگ راجوری نشست پر انتخابات کو ایک سازش کے تحت مؤخر کیا گیا ، وزیر داخلہ کا دورہ بھی اس کی ایک کڑی تھی، تاکہ وہ حکومتی اہلکاروں سے ملے، اپنے بی جے پی کے لوگوں سے ملے مقصد یہی کہ کس طرح سے نیشنل کانفرنس کے سامنے اڑچنیں پیدا کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میدان میں اُمیدوار وہ بھی ہیں جو ہند کو مسلم، کشمیری کو غیر کشمیری اور پہاڑی کو گوجرکے ساتھ لڑوانے میں لگے ہوئے ہیں اور اِن اُمیدواروں کا مسترد کرنا عوام کی ذمہ داری بنتی ہے، اس تقسیم کی حقیر سیاست نے ہمیں بہت نقصان پہنچایاہے۔ محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اب تو یہاں کچھ لوگوں کو یہ بھی راس نہیں آرہا ہے کہ میاں الطاف احمد صاحب ایک روحانی طاقت ہیں اور اُن کی پیرمریدی کا وسیع سلسلہ ہے اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی الزام لگاتی ہے کہ میاں صاحب ووٹوں کیلئے پیر مریدی کا استعمال کررہے ہیں۔ لیکن خود موصوفہ اپنے والد محرم مفتی محمد سعید کے نام پر ووٹ مانتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ مردِ مومن تھے، اُن کی جماعت میں بھی بہت سے ایسے لیڈران تھے جن کی پیر مریدی تھی، اب وہ لیڈران اُن کی جماعت سے الگ ہوگئے تو اب محبوبہ مفتی کو پیرمریدی سے اعتراض ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی لوگوں سے یہ بھی کہتی ہیں کہ میاں صاحب اننت ناگ راجوری سے تعلق نہیں رکھتے اور اُن کو یہاں سے الیکشن لڑنے کا حق نہیں،لیکن موصوفہ یہ بھی بھول جاتی ہیں کہ انہوں نے خود سرینگر نشست سے 1999 میں الیکشن لڑا۔ ’’محبوبہ جی اگر آپ کے سرینگر میں الیکشن لڑنے سے کسی کو اعتراض نہیں تھا تو میاں صاحب کا یہاں سے الیکشن لڑنا آپ کو راس کیوں نہیں آرہاہے؟آپ کی اسی دوغلی پالیسی کا خمیازہ آج یہاں کے عوام بھگت رہے ہیں، آپ نے 2014میں یہاں ،کے عوام سے بی جے پی کیخلاف ووٹ مانگے اور پھر اُسی بھاجپا کیساتھ ایک نہیں دو بار حکومت بنائی، جموں وکشمیر کے عوام جس دور سے آج گزر رہے ہیں، اُس کی براہ راست ذمہ دار آپ اور پی ڈی پی دوغلی پالیسی ہے، آج ہماری زمینوں، روزگارا ور وسائل کو اگر خطرہ لاحق ہے تو وہ آپ کی دوغلے پن کی وجہ ہے، یہاں کے عوام کو یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے اگر آپ اور آپ کے والد مرحوم نے 2015میں نیشنل کانفرنس کا دوستی ہاتھ قبول کرکے بھاجپا کو اس ریاست سے باہر رکھا ہوتا۔ آج ہمارا آئین ہوتا، آج اپنا جھنڈا اونچا ہوتا، ہماری زمینوں کو خطرہ نہیں ہوتا ،یہاں کے عوام بے بس نہیں ہوتے اور نہ ہی بے عزت ہوئے ہوتے، کاش اُس وقت آپ نے وہ دوستی کا ہاتھ قبول کیا ہوتا، لمحوں نے خطا کی ،صدیوں نے سزا پائی، معلوم نہیں کہ ہمیں کب تک اپنے حقوق کے حصول کیلئے لڑنے پڑے گا۔ ‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ بھاجپا کے سابق وزیر داخلہ شری راج ناتھ سنگھ جی جب بھی یہاں محبوبہ مفتی کیساتھ پریس کانفرنس کرتے تھے تو کہتے تھے کہ کشمیر مسئلے کا آخری حل جلد ہوگا اور ہم ان سے پوچھتے تھے کہ یہ حل کیا ہے اور ہمیں2019میں پتہ چلا کہ یہ لوگ کون سا حل بنا رہے تھے۔ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ کے ایوان میں کہاکہ دفعہ370کی منسوخی کیلئے ہم گذشتہ5سال سے کام کارہے تھے اور ان 5برس میں پی ڈی پی ساڑھے 3سال تک بھاجپا کی مدد کرتی تھی اور آج یہی پی ڈی پی والے حقوق کی بحالی کیلئے لڑنے کے فریبی نعرے دے رہے ہیں، یہ لوگ کس منہ سے ایسی باتی کر پاتے ہیں، جس چیز کو مٹانے میں پی ڈی پی نے بھر پور رول ادا کیا وہ اُسے واپس لانے کیلئے کیا جدوجہد کریگی ۔












