اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند روز سے ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سات خون معاف کے نام سے ایک فلمی ٹریلر چلایا جارہا ہے، بتایا جارہا ہے کہ ہم بہت طاقتور ہیں، بس اب بہت ہو گیا۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی بدترین لیڈر ہے اس نے بہن بیٹیوں کو جیلوں میں ڈالنے کی روایات ڈالی ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے ایوان میں کہا ہم میثاق معیشت کرنے کو تیار ہیں، لیکن ہماری دانشمندی کو ہماری کمزوری سمجھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت پی ٹی آئی پر پابندی کے لئے سپریم کورٹ میں کیس دائر کرے گی، بہت واضح ثبوت موجود ہیں کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے، آئین حکومت کو ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث جماعت پر پابندی لگانے کا اختیار دیتا ہے۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ حکومت نے سخت ترین کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سابق صدر عارف علوی، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس چلایا جائے، تینوں افراد کے خلاف وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا، ان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کئے جائیں گے، پارلیمان سے قرارداد منظور کی جائے گی، آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف پر پابندی کے لئے جواز موجود ہے، اس نے آئین کی خلاف ورزی کی، تحریک عدم اعتماد کے ہوتے ہوئے غیر آئینی طور پر اسمبلیوں کو تحلیل کیا، آئی ایم ایف کو خط لکھنا پی ٹی آئی ملک دشمن ایجنڈے کا حصہ تھا، ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو شرپسند عناصر پر پابندی لگانی ہی ہوگی۔












