لاہور، (یواین آئی )پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور تجربہ کار آل راؤنڈر شعیب ملک نے پاکستانی ٹیم کی اندرونی سیاست اور ناقص فیصلہ سازی پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔ ایک پروگرام کے دوران انہوں نے ٹیم کی موجودہ حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔شعیب ملک کا ٹیم کے ڈھانچے میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹیم میں کچھ کھلاڑیوں کا اثر و رسوخ اتنا بڑھ چکا ہے کہ یہ "پاکستان” کی ٹیم کے بجائے ان مخصوص کھلاڑیوں کی ذاتی ٹیم لگنے لگی ہے۔کچھ کھلاڑیوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی طاقت کا توازن بدل گیا ہے، جس کی وجہ سے چیزیں بدانتظامی کا شکار ہیں۔ سابق کپتان کے مطابق سلیکٹرز اور کوچز کی جانب سے کیے گئے غلط فیصلوں نے ٹیم کو نقصان پہنچایا ہے، صرف کھلاڑیوں کو قصوروار ٹھہرانا درست نہیں۔شعیب ملک نے نوجوان ٹیلنٹ، خصوصاً خواجہ نافع کی مثال دیتے ہوئے سلیکشن کمیٹی پر سوالات اٹھائےانہوں نے کہا کہ "خواجہ نافع کو صرف ایک میچ کھلا کر ڈراپ کرنے سے ہم نوجوانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ یہ عجیب و غریب حرکتیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔”سابق کپتان نے خبردار کیا کہ بڑے ٹورنامنٹس کے اہم مراحل (سپر 8) میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اگر وہاں غلط فیصلے کیے گئے تو حریف ٹیمیں دباؤ ڈال کر پاکستان کو مقابلے سے باہر کر دیں گی۔












