
گولڈا مائیر ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کی چوتھی وزیراعظم تھی۔ وہ 1898ء میں روس میں پیدا ہوئی، لڑکپن میں امریکہ چلی گئی اور 1921ء میں فلسطین میں منتقل ہوگئی۔ فلسطین پر قبضہ کرکے بنائی جانے والی ریاست کی سفیر پھر وزیر خارجہ اور 1969ء سے1974ء تک وزیراعظم رہی۔ کئی حوالوں سے اس کی شخصیت او ر اس کا دور بہت اہم ہے۔ حال ہی میں اس کا ایک ویڈیو انٹرویو دیکھنے کا موقع ملا، جس میں وہ 1948ء سے پہلے کے فلسطین کا تفصیلی احوال بیان کرتی ہے۔ وہ اعتراف کرتی ہے کہ 1921ء سے 1948ء تک وہ خود بھی فلسطینی پاسپورٹ رکھتی تھی۔ فلسطین، اس پر قائم کی جانے والی غاصبانہ ریاست اور فلسطینی عوام کے بارے میں اس کے کئی اقوال بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ اس سے پوچھا گیا کہ آپ کی زندگی کا خوف ناک ترین دن کون سا تھا اور سب سے خوش گوار دن کون سا؟ اس نے کہا کہ خوف ناک ترین دن 12 اگست 1969ء کا تھا جب مسجد اقصیٰ کے جلائے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ میں ساری رات سو نہیں سکی۔ مجھے لگتا تھا کہ کسی بھی وقت ہر طرف سے عرب فوجیں ہم پر ٹوٹ پڑیں گی۔ خوش گوار دن اس سے اگلا روز تھا، جب ہمیں تسلی ہوگئی کہ فوج کشی تو کجا کسی عرب حکومت نے اس کا سنجیدہ نوٹس بھی نہیں لیا۔ پھر وہ کہتی ہے کہ ہمیں ان عربوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، البتہ ہمیں اس دن سے ضرور ڈرنا چاہئے کہ ’’جب ان کی مسجدوں میں نماز فجر کے لئے اتنے لوگ آنا شروع ہوجائیں گے جتنے لوگ ان کی نماز جمعہ میں آتے ہیں‘‘۔
28جنوری 2020ء کو امریکی صدر ٹرمپ اور صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطین کے بارے میں اپنا ایک اہم منصوبہ پیش کرتے ہوئے اسے ’صدی کا سب سے بڑا سودا‘ (Deal of the Century)قرار دیا۔ اس دن سے فلسطین کے تمام شہروں میں ایک نئی فلسطینی قوم سامنے آرہی ہے۔ الفجر العظیم کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے فلسطینی عوام، ہزاروں کی تعداد میں نمازِ فجر مساجد میں ادا کرتے ہیں۔ کئی شہروں میں یہ تعداد نماز جمعہ ہی نہیں، عید کے اجتماعات سے بھی بڑھ جاتی ہے اور مساجد سے باہر سڑکوں پر دور دور تک نمازی امڈ آتے ہیں۔ یہ اجتماعات صرف گولڈا مائیر کے طعنے ہی کا جواب نہیں، بلکہ نیتن یاہو (عربی زبان میں نیتن کا مطلب ’مردار کی بدبو‘ ہے) کے اس اعلان کا بھی عملی جواب ہے کہ ’’اسرائیل اب ایک یہودی ریاست ہے اور پورے کا پورا بیت المقدس اس کا ابدی اور ناقابل تقسیم دار الحکومت ہے‘‘۔
صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے کی باز گشت گذشتہ تقریباً تین سال سے سنائی دے رہی تھی، لیکن جب تفصیل سامنے آئی تو وہ تحصیلِ حاصل بلکہ کسی ناجائز مردہ بچے کی ولادت سے زیادہ کچھ نہ نکلی۔ کوئی بھی معاہدہ یا سوداایک سے زیادہ فریقوں کے مابین ہوتا ہے، جبکہ یہاں صرف ایک ناجائز قابض اور اس کے سرپرست کے سوا کوئی دوسرا فریق تھا ہی نہیں۔ ٹرمپ، نیتن یاہو منصوبے میں وہ تمام تکلّفات بھی برطرف کردیئے گئے ہیں، جو گذشتہ ۲۷ سال سے دنیا کو دھوکا دینے کے لئے برتے جارہے تھے۔ پہلے بیت المقدس کو متنازعہ تسلیم کرنے کا ڈھونگ رچایا جاتا تھا۔ سرزمین فلسطین پر اس کے اصل شہریوں کا حقِ وجود تسلیم کرتے ہوئے ان کے لئے ایک آزاد ریاست تشکیل دینے کا وعدہ کیا جاتا تھا۔ صیہونی نوآبادیوں کو غیر قانونی قرار دیا جاتا تھا۔ گولان کے علاقے کو اسرائیل کے زیرتسلط شامی علاقہ مانا جاتا تھا۔ اب صیہونی جارحیت کے مکروہ عریاں بدن پر باقی یہ بچی کھچی دھجیاں بھی نوچ پھینکی گئی ہیں۔ ٹرمپ فخریہ انداز سے ان اقدامات کو اپنا تاریخی کارنامہ قرار دے رہا ہے کہ اس نے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرکے پورے بیت المقدس کو صیہونی علاقہ تسلیم کرلیا۔ اس نے گولان کو اسرائیلی علاقہ قرار دے دیا اور اب وہ صدی کے اس سب سے بڑے سودے کا اعلان کرتے ہوئے، اس قدیم تنازعے کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کررہا ہے۔
البتہ فلسطین اور دنیا کو اب بھی یہ دھوکہ دینے کی کوشش ضرور کی گئی ہے کہ باقی ماندہ فلسطینیوں کے لئے ایک فلسطینی ریاست بھی تشکیل دی جائے گی۔ اس سراب ریاست کی حقیقت یہ ہے کہ پہلے فلسطینی عوام کو چار سال تک یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس سمیت 85 فی صد سرزمین فلسطین پر صیہونی قبضہ تسلیم کرتے ہیں۔ ساری مسلم دنیا سے بھی یہ حقیقت منوانے کے بعد بالآخر کئی ٹکڑیوں میں تقسیم کیے گئے، کٹے پھٹے فلسطینی علاقے پر ایک ایسی ریاست قائم کی جائے گی جس کے شہریوں کا باہمی رابطہ بھی زیر زمین سرنگوں یا صیہونی چیک پوسٹوں کی اجازت سے مشروط گزرگاہوں کے ذریعے ہی ممکن ہوسکے گا۔اس ریاست کی نہ اپنی فوج ہوگی، نہ وہ کوئی دفاعی اسلحہ رکھ سکے گی، نہ اس کی کوئی اپنی خارجہ پالیسی ہوگی۔ اس کا اصل ہدف اور ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ وہاں بسنے والے فلسطینی شہریوں کو صیہونی ریاست کے خلاف کسی بھی کارروائی سے باز رکھے۔ اگر یہ سب شرائط پوری کردی گئیں تو پھر پانچ سال کی مدت تک اسے 50 ارب ڈالر کی امداد کی بتی کے پیچھے دوڑایا جاتا رہے گا تاکہ فلسطینی ریاست کے ڈرامے میں مزید رنگ آمیزی کی جاسکے۔
یہ سارا معاہدہ ایک ایسا دھوکہ اور ناقابل عمل منصوبہ ہے کہ جسے خود کئی اسرائیلی رہنماؤں اور تجزیہ نگاروں نے بھی مسترد کردیا ہے۔ درجنوں اسرائیلی تجزیہ نگاروں نے ٹرمپ، نیتن یاہو پر یہ پھبتی کسی ہے کہ انھوں نے اپنی حماقت سے مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر دنیا کا موضوع سخن بنادیاہے۔ پورا منصوبہ اس کے بنانے والوں کی زمینی حقائق سے لاعلمی کی دلیل قرار دیا جارہا ہے۔ ایک اسرائیلی تجزیہ نگار یہودا شاوؤل اسے ناقابلِ عمل دھوکا دہی قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے ’’جسے صدی کا بڑا سودا قراردیا جارہا ہے وہ بعینہٖ آج سے 40 سال پہلے متتیاہو ڈروپلس نامی صیہونی دانش ور نے بھی پیش کیا تھا۔ وہ یہودی نوآبادیوں کی تعمیر کا ایک اہم ذمہ دار تھا، لیکن وہ ٹرمپ اور اس کے (یہودی) داماد کو چنر سے زیادہ انصاف پسند تھا۔ اس نے فلسطینیوں کے لیے مجوزہ انتظامات کو کم از کم ریاست کا نام نہیں دیا تھا‘‘۔ گویا اگر یہ قابلِ عمل ہوتا تو40سال پہلے نافذ ہوجاتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس انتظام پر فلسطینی ریاست کانام چسپاں کرنا ایک تہمت ہوگی۔
کئی اسرائیلی اور مغربی اخبارات و تجزیہ نگاروں نے اس منصوبے کا اصل مقصد ٹرمپ کی اپنی صدارتی مہم اور نیتن یاہو کی اپنی انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ’اسرائیل‘میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں کوئی بھی جماعت اس قابل نہیں ہوسکی کہ وہ اکیلی یا دوسروں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کرسکے۔ اب 2مارچ کو ایک بار پھر انتخاب ہونا ہے اور نیتن یاہو اس میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے بے تاب ہے۔ اس کی بے تابی کی ایک بنیادی وجہ اس کے خلاف ثابت ہوجانے والے بڑی کرپشن کے چارمقدمات ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسمبلی کے ذریعے ایسی قانون سازی کرسکے جو اسے سزا سے محفوظ رکھ سکے۔ اسرائیلی روزنامے ’ہارٹز‘ برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ’’صدر ٹرمپ سے یہ اعلان کروانے میں دیگر لوگوں کے علاوہ ایک بنیادی کردار شیلڈن اولسن نامی ایک امریکی جواری اور اس کی اہلیہ کا ہے۔ انھوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لئے 100 ملین ڈالر کا چندہ بھی دیا ہے۔ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کروانے میں بھی ان دونوں کا اہم کردار تھا‘‘۔
امریکی پالیسی اور صیہونی عیاری کو دیکھیںتو گذشتہ 100 سال سے وہ ایک جانب فلسطینی عوام کے حقوق مسلسل اور مرحلہ وار غصب کرتے چلے جارہے ہیں، اور دوسری طرف فلسطینی ذمہ داران اور دنیا کو وعدۂ فردا کے لالچ پر ٹرخاتے چلے جارہے ہیں۔ ذرا 1993ء میں ہونے والے معاہدہ اوسلو پر ایک نگاہ دوڑائیے۔ اس وقت بھی اس معاہدے کو تاریخ ساز معاہدہ قرار دیتے ہوئے پورے خطے میں امن کی نوید سنائی گئی تھی۔ اس معاہدے کا ایک اہم کردار حالیہ فلسطینی ’صدر‘ محمود عباس تھے۔ انھوں نے اس معاہدے کے بارے میں ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل اپنی یادداشت لکھی ہے۔ ’طریق اوسلو‘ (اوسلو کا راستہ) کے عنوان سے لکھی گئی کتاب میں انھوں نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبے سارپسبرگ میں کئی ہفتے جاری رہنے والے خفیہ مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کی اندرونی کہانی بیان کی ہے۔ اپنی کتاب میں وہ صیہونی ریاست کے ساتھ درپیش آنے والے معاملات اور اس دوران حاصل ہونے والی ’اہم کامیابیوں‘ کا ذکر کرتے ہوئے صفحہ 324پر لکھتے ہیں کہ ’’1988ء میں فلسطینی قومی مجلس کا اجلاس مراکش میں منعقد ہوا۔ اس دوران امریکی صدر بش نے مراکش کے شاہ حسن الثانی کے نام خصوصی خط میں اس مجلس کے لئے ایک خصوصی ’تحفہ‘ بھجوایا۔ تحفہ یہ تھا کہ ’’امریکی انتظامیہ آج کے بعد فلسطینیوں کو صرف فلسطینی کہنے کے بجائے ’فلسطینی عوام‘ کہا کرے گی‘‘۔ گویااب سمجھو کہ بس تمہاری ریاست قائم ہونے جارہی ہے۔
محمود عباس جنھیں یاسر عرفات کو زہر دے کر مارنے کے بعد بڑی آؤ بھگت اور کئی اندرونی سازشیں کرتے ہوئے فلسطینی رہنما کا منصب دیا گیا تھا، پہلے دن سے آزادیِ فلسطین کے لئے کسی بھی طرح کی جہادی سرگرمی کے مخالف تھے۔ وہ ہمیشہ اعلان کیا کرتے تھے کہ ان کا اصل مقصد ’’ تحریکِ انتفاضہ سے عسکریت کا خاتمہ‘‘ ہے۔ وہ مسلسل اپنے صیہونی دوستوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ فلسطینی عوام کو بھی ہمیشہ یہی باور کرواتے رہے کہ ہم بہت کچھ حاصل کررہے ہیں۔ اپنی اسی کتاب میں وہ اوسلو معاہدے کی شقوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’معاہدے کی شق 7 میں فلسطینی اتھارٹی کو بجلی، پانی، ماحولیات، پٹوار خانے اور بندرگاہ کے انتظامات دیئے گئے ہیں۔ ان سارے اختیارات میں اس خود مختاری کے کافی پہلو شامل ہیں، جو ہم مستقبل میں حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ بیت المقدس کے مستقبل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’بیت المقدس کو اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کے ایک فیصلے کے تحت اسرائیلی سرزمین کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اب اوسلو معاہدے میں بیت المقدس کو حتمی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرلیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے‘‘۔
محمود عباس اپنی کتاب میں ایک طرف اس طرح کے بودے دلائل دیتے ہوئے صیہونی انتظامیہ سے ہونے والے معاہدوں کو خوش نما بنا کر پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف ان مذاکرات اور معاہدے پر دستخط ہونے کے آخری لمحے تک، صیہونی ذمہ داران کی طرف سے ضد اور ہٹ دھرمی کی مثالیں پیش کررہے ہیں۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل نے تنظیم آزادی فلسطین کو بحیثیت فریق ثانی قبول نہیں کیا تھا۔ سارے مذاکرات اسرائیل اور ’اُردنی و فلسطینی مشترک وفد‘ کے مابین ہوئے۔ معاہدہ تیار ہوگیا تو گویا اسرائیل نے تنظیم آزادی فلسطین کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرلیا۔ اس موقع پر یاسر عرفات نے تجویز پیش کی کہ معاہدے کے آخر میں تنظیم کانام ثبت کیا جائے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں اس ساری شٹل ڈپلومیسی کی تفصیل بھی لکھی ہے، جو تنظیم آزادی فلسطین کا نام لکھنے کے لئے کی گئی۔
اس ضمن میں کی گئی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں تو یاسر عرفات نے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک نہ ہونے کی دھمکی دے دی۔ اس دوران صبح 9بجے اہم امریکی ذمہ دار جیمز بیکر عرفات کی اقامت گاہ پر آئے۔ انھوں نے پوچھا معاہدے پر دستخط کس وقت ہونا ہیں؟ عرفات نے بتایا کہ گیارہ بجے صبح۔ بیکر نے کہا اسرائیلی وفد 10:58 پر راضی ہوجائے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا، معاہدے سے چند لمحے قبل اسرئیل نے ترمیم قبول کرنے کا عندیہ دے دیا۔ میزیں سج گئیں، دستخط کرنے سے قبل ہم نے مسودہ دیکھنے کا تقاضا کیا، تو اس پر حسب سابق شمعون پیریز از حکومت اسرائیل اور محمود عباس از فلسطینی وفد لکھا ہوا تھا۔ میں نے پھر واضح طور پر کہا کہ یاسر عرفات اسے کسی طور قبول نہیں کریں گے، بالآخر مزید ردوکد کے بعد کہا گیا کہ محمود عباس دستخط کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ترمیم کرتے ہوئے ’فلسطینی وفد‘ کا لفظ کاٹ کرتنظیم آزادی فلسطین لکھنا چاہیں تو لکھ لیں‘‘۔
یہ ہے وہ کل حاصل محصول جو ان گذشتہ 72 سالہ مظالم اور اس دوران امن مذاکرات اور معاہدوں کی دھوکا دہی کے ذریعے فلسطینی عوام کے ہاتھ آیا۔ ’ڈیل آف دی سنچری‘ سے پہلے بھی مذاکرات کے سیکڑوں دور ہوئے، درجنوں معاہدے ہوئے، روڈ میپ پیش کئے گئے، امن کانفرنسیں منعقد ہوئیں، لیکن عملاً ہربار صیہونی جارحیت اور غاصبانہ قبضے میں مزید توسیع ہوئی اور فلسطینی عوام مزید تباہ و برباد کیے گئے۔ یاسر عرفات اپنے سارے اخلاص کے باوجود اسی مذاکراتی گورکھ دھندے اور صیہونی عیاری کی نذر ہوگئے۔ انھیں جتنا استعمال کیا جانا تھا، کیا گیا اور پھر بالآخر فرانس کے ایک ہسپتال میں زہر دے کر ان کی جان لے لی گئی۔ محمود عباس پہلے دن سے مشکوک قرار پائے۔ اپنے قریبی فلسطینی دوستوں کا اعتماد بھی حاصل نہ کرسکے۔ اب ان کے بارے میں بھی صیہونی اخبارات لکھنا شروع ہوگئے ہیں کہ ’’محمود عباس کا اکلوتا ہدف خود کو یاسر عرفات کے انجام سے بچانا رہ گیا ہے‘‘۔
ایک جانب یہ کھلی دھوکے بازی اور فریب ہے، اور دوسری جانب آج بھی کئی مسلم حکمران اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لالچ میں اسی فریب کے جال میں گرفتار ہونے پر مصر ہیں۔ ’ڈیل آف دی سنچری‘ کا لفظ سب سے پہلے مصر کے خونی ڈکٹیٹر جنرل سیسی کی زبان سے سننے کو ملا تھا۔ اس نے ٹرمپ سے ملاقات کے دوران میں اس منصوبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا، لیکن ٹرمپ، نیتن یاہو کے اعلان کردہ منصوبے پر سامنے آنے والے ردعمل (بالخصوص فلسطینی عوام کی طرف سے) کی وجہ سے سیسی سمیت کوئی بھی عرب اور مسلمان حکمران اس کی حمایت کی جرآت نہ کرسکا۔ عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں بھی اسے اتفاق راے سے مسترد کرنا پڑا۔ اس کے باوجود کئی عرب حکمران اب بھی اسی صیہونی عطار سے دوا لینے پر مصر ہیں۔ سوڈان میں صدر عمر البشیر کا تختہ الٹ کر حکمران بننے والے جنرل عبدالفتاح البرھان نے اسی عرصے میں یوگنڈا کے دار الحکومت میں نیتن یاہو سے خفیہ ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات اتنی خفیہ رکھی گئی کہ سوڈانی وزیر خارجہ سمیت اکثر وزرا نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ صیہونی حکومت نے اپنی دیرینہ عیاری کا ثبوت دیتے ہوئے اس ملاقات کا بھانڈا خود ہی پھوڑ دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت وہ کئی عالمی شخصیات کے ساتھ کوئی خفیہ ڈیل کرتے ہیں اور انھیں شیشے میں اتار لینے کے بعد اسے بے نقاب کردیتے ہیں، تاکہ ایک طرف اسے بلیک میل کیا جاتا رہے اور دوسری طرف اس کے دیگر ہم جنس عناصر کو پھانسا جاسکے کہ اس ڈیل میں تم تنہا نہیں ہو۔
سوڈانی صدر کی یہ خفیہ ملاقات خفیہ نہ رہی، تو اس نے تاویل کی کہ سوڈان کو بلیک لسٹ سے نکالنے اور سوڈان پر عائد پابندیاں ختم کروانے کے لئے ملاقات کی ہے۔ اسرائیل ہماری مدد کرے گا۔ حالانکہ سوڈان کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ صدر ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ نہیں، امریکی کانگریس ہی کرسکتی ہے۔ اسی طرح سوڈان پر 60 ارب ڈالر کے قرض اور اقتصادی پابندیوں کا معاملہ پیرس کلب اور یورپی یونین کے پاس ہے، ٹرمپ یا نیتن یاہو کے پاس نہیں۔ ایسے میں اسرائیل کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے کا کوئی ادنیٰ فائدہ بھی سوڈانی عوام کو کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ جنرل برہان، نیتن یاہو ملاقات کے چند روز بعد ہی اسرائیلی ایئرلائن نے جنوبی امریکہ اور افریقہ کے کئی ممالک تک پہنچنے کے لئے اپنے جہاز سوڈان کی فضائی حدود سے گزارنا شروع کردیئے۔ جنوبی امریکہ جانے والی ان پروازوں کا سفر اس راستے سے گزرنے کی وجہ سے تقریباً تین گھنٹے کم ہوگیا جو اس کے لئے سیاسی اور نفسیاتی ہی نہیں، ایک بڑی اقتصادی کامیابی ہے۔ نیتن یاہو نے اس کامیابی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا ’’سوڈان اب تک ہمارے لیے ایک سیکورٹی خطرہ تھا، اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے اس خطرے کا سدباب بھی کیا جاسکے گا۔ اب کوئی سوڈانی صحرا سے گزرتے ہوئے غزہ کو اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش نہیں کرسکے گا‘‘۔
یہ وہی سوڈان ہے جس کے دارالحکومت خرطوم سے 1967ء میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس نے تین اہم پیغام دیئے تھے۔ یہ اعلان ’اللائات الثَّلاثَ‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہا گیا تھا: ’’اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے، اسرائیل سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور اسرائیل کے ساتھ کبھی امن (معاہدہ) نہیں ہوگا‘‘۔
نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا: ’’ہم اس وقت عرب اور مسلمان ملکوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں عروج تک پہنچ چکے ہیں۔ آپ کو اس وقت صرف سطح سمندر پر برفانی تودے کا اْوپری سرا دکھائی دے رہا ہے، سمندر کی تہ تک پہنچنے والے اس تودے میں بہت سی کارروائیاں جاری ہیں جن سے پورے مشرق وسطیٰ کا چہرہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل عالمی اور علاقائی سطح پر ایک سپر پاور کی حیثیت سے ابھرے گا، یہ ہماری کامیاب پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ہم اسرائیل کو ایک بڑی قوت بنا چکے ہیں اور یہ سارے ممالک اس بڑی قوت کے ساتھ اپنے تعلقات قائم اور معاہدات تحریر کررہے ہیں‘‘۔
اب ایک طرف کئی حکمرانوں کی یہ خیانت اور اقتدار کا لالچ ہے اور دوسری جانب تمام تر مظالم کے باوجود آزادی اقصیٰ کے لئے مسلسل قربانیاں دینے والی فلسطینی قوم۔ اپنے ان اُمّتیوں کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد ہر صاحب ایمان کے لئے ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تھا: ’’ میری اُمت کا ایک گروہ ایسا ہوگا جو بہرصورت حق کے ساتھ مضبوطی سے جما رہے گا۔ اپنے دشمنوں کو زیر کرتا رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے انھیں تکالیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ وہ اسی طرح (ثابت قدم) رہیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حتمی فیصلہ آن پہنچے گا۔ صحابہؓ نے دریافت کیا: یارسولؐ اللہ! یہ لوگ کہا ں ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ بیت المقدس اور اس کے گردونواح میں ہوں گے‘‘۔
فلسطین کے ہر بچے کو یہ حدیث اَزبر ہے اور اس کی روح اسی یقین سے سرشار ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی حقانیت اس سے زیادہ کیسے واضح ہوگی کہ سو سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا، دنیا کی ساری بڑی قوتیں، تمام خائن حکمران او رسارے صیہونی وسائل سرزمین اقصیٰ کو ہڑپ کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں لگے ہیں، لیکن ان کا یہ خواب نہ پورا ہوسکا اور نہ ان شاء اللہ کبھی پورا ہوسکے گا۔ اہل فلسطین کو یقین ہے کہ فتح مبین اہل ایمان کا مقدر ہوکر رہے گی۔ غلیلوں اور پتھروں سے شروع کیا جانے والا ان کا سفر ،تمام تر صعوبتوں کے باوجود اب جدید ہتھیاروں میں بدل چکا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068












