واشنگٹن(ہ س)۔اسرائیل کو امریکہ کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز روکے جانے سے فلسطینی اتھارٹی ٹوٹتی ہے تو اس کیاثرات بہت برے ہوں گے۔حتی کہ اتھارٹی کے ٹوٹنے کے اثرات خود اسرائیل پر بھی بہت منفی ہوں گے۔یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکہ نے اپنے اتحادی پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے روکے ہوئے محصولات کی آمدنی بحال کی جائے۔ اس امر کا کھلے عام اظہار امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے صحافیوں سے بات چیت میں کیا۔ترجمان نے کہا ‘ اسرائیل کی حکومت پر ہم نے براہ راست واضح کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا خاتمہ اسرائیل کے لیے سب سے بڑے سٹریٹجک نقصان کے مترادف ہو گا۔ اور اس کے خلاف کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے مغربی کنارے میں استحکام برقرار رکھنے میں بہت ساتھ دیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی حریف حماس کے ساتھ اسرائیل کی غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد بھی کوئی مسئلہ نہیں ہونے دیا۔امریکی ترجمان نے کہا’ اگر آپ فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے اور مغربی کنارے میں عدم استحکام کو پھیلتے دیکھتے رہے تو یہ صرف فلسطینیوں کے لیے مسئلہ نہیں ہو گا۔یہخود اسرائیلی ریاست کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنے گا۔یاد رہے 1990 کی دہائی میں اوسلو معاہدے کے تحت، اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بھی ٹیکسوں کی رقم جمع کر رہا ہے، ٹیکسوں سے ملنے والی یہ رقم فلسطینیوں کا حق ہے اس لیے ان کو ملنی چاہیے مگر اسرائیل جب چاہتا ہے اس رقم کو روک لیتا ہے۔ جیسا جنگ کے شروع سے ہی اسرائیل نے یہ رقم روک رکھی۔












