سرینگر ،سماج نیوز سروس: پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے لئے بھی بھرپور تیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے تینوں خطوں کا متحد ہونا لازمی ہے ۔تفصیلات کے مطابق نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ایک پُرقار تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی۔ تقریب کا اہتمام سینئر پارٹی لیڈر و راجیہ سبھا رکن ایڈوکیٹ چودھری محمد رمضان کے پارٹی کے معاون جنرل سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پارٹی کی جانب سے انہیں پھولوں کے ہار پہنچائے گئے اور عزت افزائی پیش کی گئی۔تقریب میں پارٹی کے جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، صوبائی صدر ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، دیگر سینئر رہنما، اراکینِ قانون سازیہ اور ضلع صدور بھی شریک تھے۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام اس وقت ایک نہایت مشکل دور سے گزر رہے ہیں، جہاں انہیں سخت آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان حالات کا مقابلہ صرف اتحاد، اتفاق، صبر اور برداشت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے پہلے بھی نہایت کٹھن اور پُرآشوب حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، اور یہ کامیابی کارکنان، شہداء اور مخلص قیادت کی قربانیوں کی بدولت حاصل ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو کمزور کرنے کی کوششیں ابتدا سے جاری ہیں، لیکن عوام کی حمایت اور قربانیوں نے اسے ہمیشہ مضبوط رکھا ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور یونین ٹیریٹری میں تبدیلی کے بعد سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا ہے، اور حدبندی کے عمل کے ذریعے سیاسی توازن کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد مخصوص سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچانا تھا اور 5 اگست 2019 کے فیصلوں کو تقویت دینا تھا۔لیکن الیکشن میں لوگوں نے اپنی ہر دل عزیز اور آبائی جماعت نیشنل کانفرنس شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا اور آج ہماری عوامی حکومت گذشتہ10سال کے غلط، غیر سنجیدہ اور عوام کُش فیصلوں کی اصلاح کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ آنے والے پارلیمانی اجلاس کے حوالے سے انہوں نے خواتین کے لئے مجوزہ ریزرویشن بل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو ابھی سے تیاری کرنی چاہیے اور تعلیم یافتہ و باصلاحیت خواتین کو آگے لانا چاہیے۔ انہوں نے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے لئے بھی بھرپور تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔












