نئی دہلی، جامعہ ہمدرد کے حکیم عبدالحمید آڈٹوریم میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں ٹریننگ حاصل کرنے والی لڑکیوںنے اپنے ہاتھوںسے تیار کئے گئے لباس پہن کر فیشن شو میں حصہ لیا۔ ٹریننگ کے اس پہلے بیچ میں 43 لڑکیوںنے حصہ لیا تھا اور اب دوسرے بیچ کی تیاری بھی شروع کردی گئی ہے۔ اس تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی تیاری صرف تین دن میں کرلی گئی تھی جس میں شوکت مفتی کا اہم رول رہا۔ اس تقریب کا افتتاح جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم نے کیا ۔ ا س موقع پر مہمانان خصوصی کے طور پر مسز ڈاکٹر ولی، مسز افشار عالم وغیرہ شامل رہیں۔ بی ای بی کے سکریٹری شوکت مفتی نے جامعہ ہمدرد ، حکیم عبدالحمید اور بی ای بی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے اس ادارے کو پچاس سال مکمل ہوگئے ہیں اور چند روز قبل ہی اس ادارے کی گولڈن جبلی تقریب یہیں منعقد کی گئی تھی۔ انھوںنے بتایا کہ بی ای بی کی بنیاد حکیم عبدالحمید نے ۲۷۹۱ میں اس مقصد کے ساتھ رکھی تھی کہ یہاں بے روزگاروں کو ٹریننگ دے کر انھیںبرسرروزگار بنایا جائے ۔ حکیم صاحب جب تک حیات رہے وہ اسی مشن اور مقصد کے ساتھ کام کرتے رہے اور ان کے وفات کے بعد یہ ادارہ ترقی کی راہیں طے کررہا ہے اور اب تک سینکڑوں بے روزگاروں کو روزگار مل چکا ہے۔ اس کار خیر میں ہمیں چانسلر حماد احمد ، حامد احمد اور ساجد احمد کا مکمل تعاون حاصل رہا ہے۔ انھوںنے بتایا کہ یہ سبھی بچیوں کو مفت ٹریننگ دی گئی ہے اور اب ہم دوسرے بیچ کی تیاری کررہے ہیں۔وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم نے کہاکہ ہمیں خوشی ہے کہ بی ای بی نے اپنے پچاس سال پورے کئے ہیں اور یہ ادارہ حکیم صاحب کی ایک عظیم یادگار ہے جو لوگوں کو روزگار سے جوڑ رہا ہے۔ جامعہ ہمدرد کا پورا تعاون اس ادارے کے ساتھ ہے۔ میں سبھی بچیوں کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ مقامی کونسلر بھگویر سنگھ نے جامعہ کی اس کاوش کی خوب ستائش کی اور بتایا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے حکیم صاحب کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا ہے اور آخری وقت تک اپنے مریضوں کا علاج کرتے رہے۔ پروفیسر فرحت بصیر خاںنے کہاکہ آج کے دوران میں بڑی بڑی ڈگریاں لے کر نوجوان بے روزگار ہیں اور در در کی ٹھوکریں کھار ہیں مگر جامعہ ہمدرد کے بی ای بی ادارے جو کارنامہ انجام دے رہا ہے وہ غیر معمولی ہے۔ یہاں بے روزگاروں کو ٹریننگ دے کر برسرروزگار کیا جاتا ہے ، جو واقعی خدمت خلق ہے۔ بچیوں کو سیلائی کی ٹریننگ دینے والی رخسار کا کہنا ہے کہ یہاں سبھی بچیوںنے بڑی محنت سے سیلائی کا کام سیکھا ہے اور آج جتنی بھی بچیاں لباس پہنے ہوئے ہیں ، یہ سب ان بچیوںنے اپنے ہاتھوں سے سیلائی کر تیار کیا ہے۔












