نئی دہلی،شیخ الحدیث مفتی ذکاوت حسین قاسمی مفتی راغب و مفتی محمد طیب قاسمی کی دعوت پر امیر الہند جمعیت علماءہند کے صدر و صدرالمدرسین علامہ و مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم نے مدرسہ امینیہ میں دیا بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس حضرت امیرالہند نے طلباءکو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امام بخاری نے اپنی حیات میں کوئی بھی عمل ایسا نہیں کیا جو اخلاص اور اللہ کی رضا سے خالی ہو اس لئے ہمیں چاہئے کہ کوئی بھی عمل ہمارا ایسا نا ہو جو رضاءالٰہی سے خالی ہو۔حضرت والا نے مزید فرمایا کہ آجکل ہم حقوق العباد سے بالکل لاپرواہ ہوتے جارہے ہیں جو ہمارے اعمال کیلئے ناسور ہے۔ہم نے کسی کا مال ہڑپ لیا کسی کے اوپر ظلم کردیا تو کسی کو گالی دیدی بہن بھائیوں کا بزور و زبردستی حق مار لیا وغیرہ جس سے اسکو تکلیف پہنچی ہو ہم چاہے جتنی بھی روحانی و جسمانی عبادات کرلیں کتنی توبہ کرلیں جب تک ہم انکا مال انکو نا لوٹادیں یا انکے ہاتھ پیر پکڑ کر معافی نا مانگ لیں اور معاف نا کریں تب تک ہم جنت میں جانے کے مستحق نہیں ہوسکتے،ہاں اگر وہ معاف کردیں تو بات بن سکتی ہے۔مزید حضرت نے ایک واقعہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نوراللہ مرقدہ کا نقل فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب مدینہ منورہ میں پیارے نبی محمدالرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر پر مراقب ہوئے تو آپکو کشف ہوا کہ قبر کے اندر سے ایک نور نکلا اور پوری دنیا میں ان لوگوں کے قلوب تک پہنچ گیا جو کسی نا وسیلہ و حیلہ سے حدیث مبارک سے منسوب ہیں۔مدرسہ امینیہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا امین الدین اورنگ آبادی نے چاندنی چوک کی سنہری مسجد میں آزادیٔ ہند سے 50 برس پہلے سنہ 1897 میں قائم کیا تھا،جب جگہ کی قلت ہونے لگی تو سنہ 1918 یعنی 21 سال بعد مسجد پانی پتیان کشمیری گیٹ میں منتقل کردیا تھا جو آج مدرسہ امینیہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔شروع کے دنوں میں فقیہ العصر علامہ انور شاہ کشمیری نوراللہ مرقدہ نے بھی قریب ساڑھے چار سال تک یہاں درس حدیث دیا ہے۔ایسے ہی قریب نصف صدی مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ نے مدرس مابعد مہتمم کی حیثیت سے تاحات اپنی خدمات پیش کیں 1952 میں آپکی وفات ہوگئی تھی۔اب ادارے کے مہتمم مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ کے پوتے دارالعلوم کے فاضل اور دہلی یونیورسٹی ذاکر حسین کالج کے پروفیسر (عربک) ریٹائر مولانا انیس الرحمن قاسمی ہیں۔
امیر الہند کی دعاءپر کچھ اسطرح سے اجلاس کا اختتام ہوا کہ جب درس مکمل ہوا تو امیرالہند نے مدرسہ شیخ الحدیث مفتی ذکاوت حسین قاسمی سے کہا کہ دعاءآپ کرائیں یہ آپ ہی کا حق ہے مگر مفتی صاحب نے پھر یہ کہا کہ آپ ہمارے استاذ ہیں بلکہ ہمارے اساتذہ کے بھی استاذ ہیں ہماری آپکے سامنے کیا حیثیت ہے۔اسلئے آپ ہی دعاءکرائیں اسطرح سے امیرالہند کی دعاءپر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔اجلاس میں کثیر تعداد میں علماءو دانشوران خصوصی طور پر مولانا مسلم قاسمی مفتی عبدالرازق آل انڈیا امام فاؤ نڈیشن کے چیئرمین مولانا محمد عارف قاسمی مولانا محمد ضیاءاللہ قاسمی مفتی محمد سلمان اسعدی مفتی عبدالباسط یوسفی قاسمی مفتی مبین تھانوی مفتی وسیم قاسمی مولانا محمد شاہد مفتی زبیر بلی ماران وغیرہ نے شرکت کی۔مدرسہ امینیہ کے تمام اساتذہ مفتی راغب مفتی محمد طیب قاسمی مفتی مونس حسان مولانا محمد سعد مولانا عبدالکریم مولانا محمد اسلم مفتی محمد صداقت مولانا محمد جاوید اظہر نے اپنی انتھک محنتوں سے کامیاب کرایا۔40 طلباءکو دستار فضیلت سے نوازا گیا جس میں 19 امسال اور 21 طلباء2020 میں فارغ ہوئے تھے لالک ڈاؤ ن کی بناءپر انکو بھی اسی سال دستار باندھی گئی۔












