نئی دہلی، 21 نومبر ۔ سماج نیوز سروس ۔سپریم کورٹ نے ایلوپیتھک ادویات اور ویکسینیشن کے خلاف اشتہارات دینے پر پتنجلی آیوروید کی سرزنش کی ہے۔ عدالت نے پتنجلی آیوروید کو خبردار کیا کہ وہ ایسے گمراہ کن اشتہارات کو ہٹائے ورنہ بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ صحت سے متعلق گمراہ کن اشتہارات پر قابو پانے کی تجویز لے کر آئے۔قبل ازیں سماعت کے دوران عدالت نے بابا رام دیو کے ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے پوچھا تھا کہ بابا رام دیو کو کیا ہوا؟ یوگا کو مقبول بنانے کے لیے ہم ان کا احترام کرتے ہیں لیکن انھیں علاج کے دیگر طریقوں پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔ انہیں دوسروں پر تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ عرضی انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے دائر کی ہے۔ درخواست میں بابا رام دیو کے کورونا ویکسین اور ایلوپیتھک ادویات کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو کنٹرول کرنے کے لیے گائیڈ لائنز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آئی ایم اے نے عرضی میں کہا ہے کہ آیوش کمپنیاں بھی اپنے بیانات سے عام لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹر ایلوپیتھک ادویات لیتے ہیں لیکن وہ بھی کورونا کا شکار ہو گئے۔ آئی ایم اے نے کہا ہے کہ اس طرح کے گمراہ کن بیانات کو روکنے کی ضرورت ہے۔
آئی ایم اے نے اپنی عرضی میں مرکزی حکومت، ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈس کونسل آف انڈیا، سینٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی اور پتنجلی آیوروید کے علاوہ مرکزی حکومت اور مرکزی وزارت صحت اور خاندان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اشتہارات اور بیانات پر پابندی لگانے کے لیے رہنما خطوط جاری کریں۔ قابل ذکر ہے کہ بابا رام دیو کے ایلوپیتھی پر دیئے گئے بیانات کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں بھی عرضی داخل کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران بابا رام دیو کے بیانات پر اعتراض ظاہر کیا












