بچے کسی بھی ملک اور قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔جو قومیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتی ہیں ،ان کو میدان کارزار میں ہمیشہ کارپرداز میسر رہتے ہیں ۔اس کے برعکس جو قومیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت سے غافل رہتی ہیں ،وہ ہمیشہ اہل افراد کی عدم دستیابی کا رونا روتی ہیں۔جیسا کہ اس وقت ہم اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں ۔آج مسلم امت کو کسی بھی سطح پر اچھے اور قابل افراد میسر نہیں ،نہ اچھے معلم ہیں ،نہ اچھے امام ہیں ،نہ اچھے منیجر ہیں ،اچھے مضمون نگار ،اچھے تاجر ،یہاں تک کہ لیبر کلاس میں اچھے ٹیکنیشین اور مزدور تک نہیں ہیں ،ہر شہر میں جس کی آبادی لاکھوں میں ہے وہاں گنتی کے چند لوگ ہیں جن کی طرف نظریں اٹھتی ہیں ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے بچوں کو اچھا اور کارآمد بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی ۔اسی ملک میں جب ہم برادران وطن کی تنظیم آر ایس ایس کو دیکھتے ہیں تو اس کی سو سالہ محنت کا پھل سب کے سامنے ہے ۔اس کو اپنے مقصد کے افراد ہر جگہ دستیاب ہیں ۔پیارے نبی کی سیرت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے بچوں کو بہت اہمیت دی،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اپنی اولاد کی عزت کرو“ اور پھر فرمایا ”باپ کا اپنی اولاد کو بہترین تحفہ اس کی تعلیم و تربیت ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے کانوں میں اذان اور تکبیر کہا کرو تا کہ نیکی کی بات ہی کان میں پڑے۔آپ ﷺ اپنے زیر ِ تربیت بچوں کے لیے دعا کیا کرتے تھے کہ ”اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر“۔آپ ﷺ کے پاس جب بھی نیا پھل آتا تو آپ ﷺ محفل میں موجود سب سے چھوٹے بچے کو پہلے دیتے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ”بچوں کو چوما کرو کہ اس کے بدلہ میں تم کو جنت میں بدلہ ملے گا۔ جو بچوں کے ساتھ شفقت اور رحمت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں“۔
ایک دفعہ آپﷺ اپنے بچوں کو چوم رہے تھے تو ایک بدو نے دیکھ کر کہا کہ اے رسول خدا! میرے 10 بچے ہیں میں نے انہیں کبھی نہیںچوما آپ ﷺ نے فرمایا!” اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت نکال لی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں“۔ پھر ایک موقع پر فرمایا کہ:” جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ نماز پڑھاتے وقت اگر کسی بچے کے رونے کی آواز آپﷺ سن لیتے تو نماز مختصر کر دیتے اور فرمایا کرتے کہ” اس کا رونا اس کی ماں پر گراں گزرتا ہے۔“ کیونکہ آپﷺ کے اندر بچوں کے لیے ماں سے بھی بڑھ کر محبت والا دل تھا۔ اس لیے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے بڑھ کر بچوں کے ساتھ حسن ِ سلوک کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں 10 سال تک آپﷺ کی خدمت میں رہا۔ آپ ﷺ نے مجھے ان دس سالوں میں ایک دفعہ بھی نہیں جھڑکا۔ ایک دفعہ عید کے روز ایک بچہ ایک جگہ افسردہ کھڑا تھا۔ آپ ﷺ نے محسوس کر لیا کہ یہ دوسرے بچوں کو حسرت سے دیکھ کر رو رہا ہے کہ ان کے ماں باپ ہیں اس لئے ان بچوں نے نئے کپڑے پہنے ہیں۔ آپ ﷺ اس بچے کو گھر لے گئے۔ نئے کپڑے دئیے، نیا جوتا دیا اور فرمایا آج سے محمد تمہارے باپ، عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن ہے۔ پیارے آقا ٰﷺ بچوں کو گود میں اٹھاتے، ان کے منہ چومتے، سینے سے لگاتے، ان کے لیے دعائیں کرتے، ان کو دین کی باتیں سکھاتے۔ اس حسن سلوک کی وجہ سے بچوں کو بھی آپﷺ سے بے پناہ محبت تھی۔ بچے جب آپ ﷺ کو دیکھتے تو خوشی اور شوق سے بھاگ کر آتے اور آپ ﷺ باری باری ان کو گود میں اٹھا کر پیار کرتے۔ آپ ﷺ کی عادت تھی کہ ہمیشہ بچوں کو خود پہلے سلام کرتے۔ ان سے پاکیزہ مذاق بھی کرتے اور نیک اور اچھی باتیں بھی بتاتے۔ایک دفعہ آپ ﷺ کے نواسے نے کسی بچے کو اونٹ پر سوار دیکھ کر کہا کہ مجھے بھی اونٹ پر بیٹھنا ہے۔ آپ نے اسے کاندھے پر سوار کرکے اونٹ کی طرح چلنا شروع کر دیا۔ کسی نے دیکھ کر کہا :”کتنی پیاری سواری ہے“ تو آپ ﷺ نے فوراً فرمایا ”سوار بھی تو کتنا پیارا ہے“
کسی بھی تحریک کو برپا کرنے میں نوجوانوں کا بڑا کردار ہوتا ہے۔لیکن یہ نوجوان ایک دو دن میں فراہم نہیں ہوتے ،اگر بچوں کو ابتدا سے ہی ایک مقصد اور نصب العین کے تحت تعلیم دی جائے تو وہ جوان ہوکر تحریک کے سپاہی بن جاتے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں بہت کم عرصہ میں ہی والدین نے بچوں کی اس طرح تربیت کی کہ وہ تحریک اسلامی میں نمایاں رول ادا کرنے کے جذبہ سے سرشار ہوگئے اور جب جب موقع ملا انھوں نے صف باطل میں کہرام مچادیا۔غزوہ بدر کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں، رسول خدا نے اسلامی لشکر کی صف بندی کردی ہے۔ سامنے کفار کا آہنی لشکر کھڑا ہے، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے دائیں بائیں دوسگے بھائی کھڑے ہیں جن کا شمار بھی بچوں میں ہوتا ہے۔ جب معرکہ آرائی ہوتی ہے تو ایک بھائی چپکے سے حضرت عبدالرحمنؓ سے پوچھتا ہے کہ مجھے بتاؤ ابوجہل کون ہے؟ دوسرا بھائی بھی چپکے سے پوچھتا ہے کہ چچا جان ابوجہل کہاں ہے؟ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ ابوجہل کی طرف اشارہ کردیتے ہیں،یہ دونوں بچے صفیں چیرتے ہوئے ایک دوسرے سے پہلے ابوجہل کا کام تمام کردینا چاہتے ہیں۔ دونوں بچوں کے حملے کی تاب نہ لاکر لشکر کفار کا سردار زمین پر ڈھیر ہوجاتا ہے اور دونوں اپنے اس عہد کو پورا کردکھاتے ہیں کہ محمد کے سب سے بڑے دشمن کا خاتمہ کرنا ہے۔ دوڑ کر اللہ کے رسول کے پاس پہنچتے ہیں اور ابوجہل کے قتل کی خوش خبری سناتے ہیں، شوق جہاد میں دونوں بچے اس کارنامے کو اپنی اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول تلوار کی طرف نظر اٹھاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ دونوں کی تلواریں خون میں لت پت ہیں،دونوں بچوں کی شاباشی دیتے اور ان کے حق میں کلمات خیر کہتے ہیں۔ایک سال بعد مکہ کے مشرکین دوبارہ مدینہ پر یلغار کرتے ہیں، حضور اکرم اپنے ساتھیوں کو لے کر ان کے مقابلے کے لیے نکلتے ہیں، جہاد میں شرکت کے لیے دوبچے بھی خوشی خوشی جارہے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں تو واپس ہونے کاحکم دیتے ہیں۔ ان میں ایک بچہ رافع بن خدیج ایڑیوں کے بل کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ کے رسول میں تو بڑا ہوں۔ پیارے نبی کو اس کی ادا پر پیار آجاتا ہے اور آپ اسے اجازت دے دیتے ہیں۔ تبھی ایک دوسرا بچہ سمرہ بن جندب دوڑا دوڑا آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ کے رسول اگر آپ نے رافع کو جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے تو مجھے بھی اجازت دے دیجئے میں تو اس سے زیادہ طاقت ور ہوں ، میں کشتی میں بھی اس کو بچھاڑ دیتا ہوں۔ پیارے نبی دونوں کی کشتی کراتے ہیں ، واقعی سمرہ بن جندبؓ رافع بن خدیج کو پچھاڑ دیتے ہیں اور اللہ کے رسول سمرہ بن جندب کو بھی شرکت کی اجازت مرحمت فرمادیتے ہیں۔یہ حضرت معصب بن عمیرؓ ہیں جو ابھی نوعمروں میں شمار کیے جاتے ہیں، نہایت عیش وعشرت کی زندگی گزاررہے ہیں، مشہور ہے کہ جس لباس پر مکھی بیٹھ جاتی ہے اسے دوبارہ نہیں پہنتے، جس گلی سے گزرجاتے ہیں وہ گلی معطر ہوجاتی ہے، گھر میں سامان عیش وآرائش کی فراوانی ہے۔ایک سرمایہ دار گھرانے کا پروردہ یہ نونہال جب اسلام قبول کرتاہے تو اس کی عیش وعشرت اس سے چھین لی جاتی ہے، اسے مصیبت وتنگی کی چکی میں پیسا جاتا ہے لیکن اسلام کا یہ عاشق عیش وعشرت پر فقروفاقہ کو ترجیح دیتا ہے۔ اسلام کے لیے ہر ابتلاوآزمائش کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اللہ کے راستہ میں شہید ہوتا ہے تو اس کے پاس کفن کے لیے کپڑا بھی نہیں۔ استعمال میں آنے والی ایک چھوٹی سی چادر ہے۔ چھوٹی بھی اتنی کہ سر ڈھانپتے ہیں تو پیر کھلے رہ جاتے ہیں، پیر ڈھانپتے ہیں تو سر خالی رہ جاتاہے۔ یہ دیکھ کر پیارے نبی اورصحابہ کرامؓ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ان واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچوں نے اسلام کی ترقی میں کتنا اہم رول ادا کیا ہے۔مکہ کی وادیاں ہوں یا مدینہ کی گلیاں، بدر واحد کے غزوے ہوں یا طائف حنین کے معرکے ،ہر مرحلہ پر بچوں نے اسلام کے لیے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں اور اسلام کی عزت وسربلندی کو چار چاند لگائے ہیں!
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
آج بھی مسلمان بچے اسلامی کاز کے لیے اہم رول ادا کرسکتے ہیں بس ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی حیثیت اور اپنے مقام کا شعور پیدا ہوجائے اور ان پر ان کی طاقت وقوت منکشف ہوجائے ! انہیں یہ احساس ہوجائے کہ انہوںنے اپنی نرم ونازک کلائیوں سے باطل کے بڑے بڑے طوفانوں اور سیلابوں کانہ صرف مقابلہ کیا ہے بلکہ اُن کا رُخ موڑاہے۔












