اسلام آباد، (یو این آئی) امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک بات چیت جاری رہی، مگر کوئی حتمی معاہدہ طے نہ ہو سکا۔ امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وک آف اور جریڈ کشنر کر رہے تھے، جبکہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باغیر غالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت 71 افراد شامل تھے۔ مذاکرات کے اختتام کے بعد دونوں وفود اپنے اپنے ممالک واپس لوٹ گئے۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا، "ہم گزشتہ 21 گھنٹوں سے بات چیت کر رہے تھے اور کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہوا، مگر افسوس کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے طویل مدت تک جوہری ہتھیار نہ بنانے کی کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ان کا مسلسل رابطہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے رہا، اور دیگر اعلیٰ حکام جیسے مارکو ربیو پیٹ ہیگ سیتھ، اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر ایڈمرل براڈ کووپر سے بھی مشاورت کی گئی۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغئی نے کہا کہ کچھ امور پر اتفاق ہوا، مگر دو تین اہم نکات پر اختلاف برقرار رہا، جس کے باعث کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ انہوں نے اس مذاکراتی دور کو گزشتہ ایک سال میں سب سے طویل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت 40 دن کی جنگ کے بعد عدم اعتماد کے ماحول میں ہوئی، اس لیے کسی بڑے اتفاقِ رائے کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے نئے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ ترجمان نے زور دیا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی اور یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر دوست ممالک کے درمیان رابطے جاری رہیں گے، اور پاکستان کی حکومت و عوام کا مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ بھی ادا کیا۔دریں اثنا ایران اور امریکہ کئی امور پر متفق ہوئے لیکن دو تین اہم معاملوں پر عدم اتفاق کی وجہ سے اسلام آباد میں ہوئی بات چیت کے بعد معاہدہ نہیں ہوسکا۔ یہ اطلاع ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دی ہیں۔مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، مسٹر بقائی نے کہا کہ ہمارے درمیان کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا لیکن دو تین اہم امور پر ہمارے خیالات مختلف تھے اور آخر کار مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔” امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آٹھ اپریل کی رات ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد، ایران اور امریکہ نے ہفتہ کو اسلام آباد میں مذاکرات کیے۔اتوار کی صبح امریکی وفد کے سربراہ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران اور امریکہ طویل بات چیت کے دوران کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں اور امریکی وفد کسی معاہدے کے بغیر واپس جاررہا ہے۔ دریں اثنا ایران نےآبنائےہرمز سے روزانہ تقریباً 10 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں سپر ٹینکروں کے لیے فیس 20 لاکھ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یہ اطلاع دی اسٹریٹ وال جرنل کی ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق مختلف ممالک کے جہاز مالکان اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ساتھ اس آبی راستے سے گزرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو مخصوص طے شدہ راستوں پر ہی چلنا ہوگا اور ضروری اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ قابلِ ذکر ہے کہ بدھ کی رات امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کیا۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا میں تقریباً 20 فیصد تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔












