واشنگٹن، (یو این آئی) جیسے جیسے دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہورہا ہے، اس کے استعمال کے ضوابط کے حوالے سے فکرمندی بڑھ رہی ہے، بعض ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج نے انتھروپک کمپنی کے اے آئی ماڈل کلاؤڈ کو اس ماہ کے آغاز میں وینزوئیلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے ایک عمل میں استعمال کیا۔
یہ امکان اس بات کا ثبوت ہوسکتا ہے کہ پینٹاگون اے آئی ماڈلز پر بڑھتا ہوا انحصار کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ کلاؤڈ کے استعمال کے رہنما اصولوں میں اسے تشدد میں معاونت، ہتھیار بنانے یا جاسوسی کی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی سختی سے ممانعت ہے، جیسا کہ وول اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔
انتھروپک کے ترجمان نے اس معاملے پر کہا کہ وہ یہ بیان نہیں دے سکتے کہ کلاؤڈ یا کوئی اور اے آئی ماڈل کسی مخصوص، خفیہ یا غیر خفیہ کارروائی میں استعمال ہوا یا نہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ کلاؤڈ کا کوئی بھی استعمال، خواہ پرائیویٹ سیکٹر میں ہو یا سرکاری اداروں کے ذریعے، استعمال کی پالیسیوں کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا:ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ تمام سرگرمیاں ان پالیسیوں کے مطابق ہوں۔ادھرامریکی محکمہ دفاع نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
ماضی میں ذرائع نے بتایا تھا کہ انتھروپک کمپنی کے اندر خدشات پیدا ہوئے کہ پینٹاگون کس طرح کلاؤڈ کو استعمال کر رہا ہے، جس کے باعث انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں نے کمپنی کے 200 ملین ڈالر کے معاہدے کو ختم کرنے پر غور کیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انتھروپک پہلی کمپنی تھی جس نے اے آئی ماڈل تیار کیا جو ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کی خفیہ کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا تھا۔مزید برآں ممکن ہے کہ وینزوئیلا میں اس کارروائی میں دیگر اے آئی ٹولز بھی استعمال ہوئے ہوں، جو غیر خفیہ سرگرمیوں جیسے دستاویزات کے خلاصے یا خودکار ڈرونز کے کنٹرول کے لیے کام آ سکتے ہیں۔
انتھروپک کے سی ای او داریو آمودی اور دیگر قیادت نے عوامی طور پر ان ماڈلز کی طاقت اور سماج پر پڑنے والے ممکنہ خطرات کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔
آمودی نے کئی صنعت کے رہنماؤں سے مختلف ہوتے ہوئے اے آئی کے ضوابط میں اضافہ اور سخت قوانین بنانے کی بات کی تاکہ اس کے ممکنہ نقصانات کو روکا جاسکے، جیسا کہ وول اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔جنوری میں ایک تقریب میں جس میں پینٹاگون اور کمپنی ایکس اے آئی کے تعاون کا اعلان کیا گیا، امریکی وزیر دفاع بیٹ ہگسٹھ نے کہا کہ محکمہ دفاع ایسے اے آئی ماڈلز استعمال نہیں کرے گا جو جنگ کے لیے اجازت نہ دیں، یہ انتھروپک کے ساتھ انتظامیہ کی بات چیت کی جانب اشارہ تھا۔












