جب رسوائی عام ہو جائے تب کسی بھی باشعور انسان کو یہ چاہئے کہ وہ اس نقصان کی بھر پائی کرے۔خاص طور پر سیاسی میدان ہی جس کا اوڑھنا بچھونا ہو اس کے لئے تو یہ فرض عین ہے کہ وہ اپنا احتساب کرے اور اپنی کوتاہیوں کے لئے ان لوگوں سے معافی مانگے جن کی تائید سے اس کا قد بڑھا ہے اور مقبولیت ملی ہے۔جمہوری طرز حکومت میں یہ بہت ضروری ہے اور اس کوہتک عزتی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اس سے عوامی سطح پر اس شخص کا قد بلند ہوتا ہے اور اسے عوام کے سامنے جانے میں شرمندگی نہیں ہوتی۔لیکن اسی امر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک انسان غلطیوں پر غلطی کرتا چلا جائے لیکن اسے نہ تو خود اپنی غلطیوں کا احساس ہو اور نہ کسی کی سنے ،الٹے وہ اپنی ہر غلطی کا بھونڈا سا جواز فراہم کر دے اور یہ کہتا چلا جائے کہ اس کا ہر عمل غلطیوں سے پاک ہے اور جو وہ کہتا یا کرتا ہے وہی حق ہے لہٰذا اس پر اعتراض کرنے والے واجب سزا ہیں تو ھر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ایسا شخص خود پرست ہے اور اس کا کسی ائینی اور جمہوری عہدے پر رہنا ملک کےلئے مہلک ہے۔انسان کو حیوان سے الگ کرنے والی جو شئے ہے وہ ہر انسان کے دماغ میں موجود ہے۔اس کی جگہ بھی متعین ہے۔پہلا حصہ سر کے اگلے حصے میں ہوتا ہے اور جو انسان کو راہ مستقیم پر چلنے کا مشورہ دیتا ہے اور سر کے پچھلے حصے کا دماغ اس کی رہنمائی مخالف راستے کی طرف کرتا ہے ،جہاں خسارہ ہی خسارہ ہوتا ہے۔یہ خسارہ وقتی بھی ہوتا ہے اور اس کے نتائج تاخیر کے بعد بھی سامنے آتے ہیں۔لیکن خسارہ یقینی ہوتا ہے۔
عوامی زندگی میں قائدانہ صلاحیت کا حامل اس شخص کو سمجھا جاتا ہے جو خود سے زیادہ دوسروں کو آسانیاں فراہم کرنے کےلئے کوشاں ہو اور کسی ایک شخص کا بھی نقصان اس کےلئے پورے عالم کا نقصان ہو۔
اس دنیا کو بنانے والے خالق کی یہی منشا ہے اور اسی کے لئے اس نے ہر دور میں پیغمبروں کو مبعوث کئے۔جدید سائنس اور ٹکنالوجی نے انسانی زندگی کو سہولیات فراہم کرنے کے بیش بہا خدمات انجام دیں۔یہ الگ بات ہے کہ مثبت فکر کے ساتھ جو ٹکنالوجی حاصل ہوئی اس کے استعمال کے لئے دماغ کے پچھلے حصے میں بیٹھا تخریبی گائیڈ بھی حرکت میں آیا اور مثبت فکر پر غالب آگیا۔مذہب اور سائنس میں ایک بنیادی فرق ہے اور وہ یہ کہ سائنس انسان کے اندر موجود صلاحیتوں کا استعمال کر کے اس سے نئے نئے کارنامے انجام دلواتا ہے۔ سائنس ہمارے شعور کے محدود دائرے میں ہی کائنات کی تشریح کرتا ہے جبکہ مذہب اس پوری کائنات کے خالق کی جانب سے کائنات کی اصل حقیقت ہمارے سامنے واشگاف کرتا ہے اور اس کائنات کو برتنے کے سلسلے میں ہماری ذمہ داریاں طے کرتا ہے۔موجودہ دور میں اگر پوری دنیا میں افرا تفری ہے تو اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ انسانوں نے خالق کائنات کی جگہ خود کو ہی عالم فاضل سمجھ لیا ہے اور وہ قدم قدم پر اس کے ذریعہ قائم کئے ہوئے حدود کو پھلانگتا رہتا ہے۔آج کے انسانوں نے خودکو خالق کائنات سمجھنے کی غلطی کی ہے۔انہیں اندازہ ہی نہیں کہ جس علم کے بل پر وہ اس پوری کائنات کو سمجھنے کا دعوی کرتا ہے وہ علم نہایت محدود ہے اور اسی کی ودیعت کردہ ہے جس نے اسے گندے پانی کے ایک قطرے سے بنایا ہے۔
اس دنیا میں یہ حالت نئے نہیں ہیں۔تاریخ انسانی کے باب در باب ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں جہاں کوئی بادشاہ ، کوئی فوج کا سربراہ ،کوئی سیاسی رہنما ،کوئی فلسفی ،کوئی سائنسداں اور کوئی مذہبی رہنما۔خود کو عقل کل سمجھ بیٹھا اور اپنے حدود کی شناخت بھول گیا۔لیکن پھر اس کا انجام بھی بہت برا ہوا اور پھر خالق کائنات نے رہتی دنیا تک اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔
جدید ترقی کے اس دور میں نہ صرف انسانی اقدار سے لوگ منحرف ہوئے بلکہ فطرت کے بے دریغ استحصال کا رویہ اس قدر عام ہو گیا ہے کہ یہ پوری دنیا تباہی کے کگار پر آ کھڑی ہوئی ہے۔موجودہ سیاست کے سرخیلوں نے اقتدار کے ہوس کو تاج سمجھ کر اپنے سروں پر سجا لیا اور وہ یہ بھول چکے ہیں قدرت کی طرف سے ودیعت ہوا اور پانی کے ان ذخائر پر ہی اس دنیا کا وجود قائم ہے۔انہیں اس امر کا احساس ہی نہیں کہ ان کے ذریعہ استعمال کئے جانے والے ایٹمی اور کیمیائی اسلحہ جات سے یہ دنیا کبھی بھی بھک سے آگ کے ایک گولے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔لیکن ان سب کے باوجود شرمندگی کے جذبے کا دور دور تک پتہ نہیں۔اقتدار پر قبضہ حاصل کرنے اور پھر اس کو برقرار رکھنے ،قوت کا حصول اور اس کے بل پر ساری دنیا پر حکمرانی کرنے کا سر میں سودا لئے سیاستدان انسانیت کی تعریف بھول چکے ہیں۔وہ یہ بھول چکے ہیں کہ ان کی اصل حقیقت موت ہے اور اس سے کسی کو مفر نہیں۔












