کولہا پور کو جلانے کی سازش !
خبر ہے کہ مہاراشٹر کے کولہاپور شہر میں بدھ کے روز سوشل میڈیا پر اورنگزیب کی تعریف کے پوسٹ پر دو گروہ کے درمیان تصادم کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی۔یہ ہے ہمارا آج کا ماڈرن ہندوستان جو وشو گرو بننے جا رہا ہے ۔ایک ایسا ملک جو اپنے ماضی سے نفرت کرتا ہے۔ جس ملک کا حکمران طبقہ اپنے ہی ملک کی ایک ہزار سالہ تاریخ سے نفرت کرتا ہو اور اس پورے دور کو اس لئے برا سمجھتا ہو کہ اس دور کے حکمراں ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتے تھے جس کا آغاز عرب سے ہوا تھا توپھر ایسے ملک کے وشو گرو بن جانے کو دنیا کیسے تسلیم کر لیگی ،وہ عرب ممالک کیسے تسلیم کرلیںگے ،پڑوسی ممالک جنہیں عرب نہیں کہا جاتا لیکن وہاں کا سرکاری مذہب وہی اسلام ہے ،ایران ،افغانستان ،پاکستان ،بنگلہ دیش ،انڈونیشیا ،کیسے تسلیم کر لینگے کہ آپ اچھے پڑوسی ہو جب آپ ان کے مذہب ،ان کی تہذہب اور ان کے ہیروز سے نفرت کروگے ۔ایک ایسے دور میں جب ساری دنیا ٹیکنو کریٹ ہو چکی ہے یا اس جانب قدم بڑھا چکی ہے ۔ہمارے ملک میں آج بھی چھوا چھوت کا بھوت ایسا سر میں سمایا ہوا ہے کہ گجرات میں کرکٹ کھیلنے دوران جب گیند باؤنڈری لائن کے باہر چلی جاتی ہے اور ایک دلت بچہ اس گیند کو اٹھا لیتا ہے تو اس کی انگلی کاٹ دی جاتی ہے ۔جس ملک میں عالمی چیمپئن لڑکیوں کے ساتھ حکمران جماعت کا ممبر پارلیمنٹ چھیڑخانی کرتا ہے ،سپریم کورٹ کے حکم سے کیس درج ہوتا ہے اور پھر ان لڑکیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر احتجاج کرنے سے روکا جاتا ہے ، اس نابالغ لڑکی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنا کورٹ میں دیا گیا بیان بدل دے جس میں اس نے ایم پی پر چھیڑ خانی کا الزام لگایا ہے ۔لیکن اسی ملک میں 1658 سے 1707 تک تقریباً 50 سال اس ملک پر حکومت کرنے والے ایک بادشاہ کی چند لوگوں کے ذریعہ تعریف کرنے پر فساد بھی برپا ہو جاتا ہے ۔کیونکہ اس بادشاہ کا وہی مذہب ہے جس سے موجودہ حکمراں جماعت کو نفرت ہے ۔
بہر حال مہا راشٹر کے کولہا پور میں جاری کشیدگی کا رشتہ اسی سیاست سے ہے جس کی سیاست کرکے حکمراں جماعت گجرات سے پھیلتی ہوئی دہلی تک آ پہنچی ہے اور اب جب ایک بار پھر عام انتخاب سر پر ہے وہ ہندو مسلم فسادات کے ایونٹ منعقد کر کے ووٹرس کو پولورائزڈ کرنے کی کوشش میں لگ گئی ہے ۔بتایا جا رہا ہے کہ مغل بادشاہ اورنگزیب کے پوسٹر کو مبینہ طور پر لہرانے پر پورا تنازعہ شروع ہوا تھا۔ کولہاپور میں کشیدگی ہے اور انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے بدھ کے روز کہا کہ حکمراں پارٹی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی’’حوصلہ افزائی‘‘کر رہی ہے۔
میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر مغل حکمران اورنگزیب کی تعریف کرنے والی پوسٹ پر دونوں فریقین کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ اس پوسٹ میں لوگوں کو اورنگزیب اور ٹیپو سلطان کے پوسٹرز کے ساتھ جشن مناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔دائیں بازو کے گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد شیواجی چوک پر جمع ہو کر شہر بند کی کال دی۔ اس کے فوراً بعد تشدد پھوٹ پڑا اور پولیس کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ کولہاپور واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے سی ایم ایکناتھ شندے نے کہا،ریاست میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میں عوام سے بھی امن و سکون کی اپیل کرتا ہوں۔ پولس کی تحقیقات جاری ہے اور جو قصوروار پائے جائیں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی سی ایم دیویندر فڈنویس نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی حرکتیں برداشت نہیں کی جائیں گی اور یقین دلایا کہ شرپسندوں کی شناخت کے لیے تفصیلی انکوائری کی جائے گی۔ فڑنویس نے کہا، ایک خاص کمیونٹی کے لوگ اورنگ زیب کی تعریف کر رہے ہیں… یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں اورنگ زیب کی ایک ساتھ تعریف کی جا رہی ہے… یہ اچانک نہیں ہو سکتا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے،ادھر این سی پی نے سرکار کے رویے پر تنقید کی۔واضح ہو کہ مہاراشٹر میں بی جے پی شیوسینا کی حکومت بننے کے بعد سے کئی فرقہ وارانہ جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ احمد نگر ضلع کے سنگمنیر علاقے میں منگل کو ساکل ہندو سماج کی ریلی کے بعد دو گروپوں کے درمیان فرقہ وارانہ تصادم ہوا۔ کولہاپور میں، دائیں بازو کی ہندو تنظیموں نے بدھ کو مغل بادشاہ اورنگزیب سے متعلق ایک مبینہ قابل اعتراض پوسٹ پر بند کی کال دی۔ اس کے بعد تشدد بھی ہوا۔ اب اسے پورے مہاراشٹر میں پھیلانے کی سازش ہوگی ،لیکن ایسا لگتا نہیں ہے کہ اب ملک کے عام لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کے جھانسے میں آئینگے اس میں مجھے شک اس لئے بھی ہے کہ مہاراشٹرا میں آج بھی برہمن وادی قوتوں کے خلاف انڈر کرینٹ ہے اور عام لوگ جانتے ہیں کہ برہمن وادی فکر معاشرے میں اونچ نیچ کو پھیلنے میں مدد کرتی ہے ۔اور مہاراشٹر کے عام لوگوں نے کافی جدوجہد کی ہے تب جاکر وہ تعلیمی میدان کی اصل شاہراہ تک پہنچے ہیں ۔وہ اب کسی بھی قیمت پر ان کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں ۔
(شعیب رضا فاطمی )












