تل ابیب(ہ س)۔گذشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے "طوفان الاقص?” آپریشن شروع ہونے کے فورا بعد اسرائیلی شہریوں نے موت کے خوف سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر راہ فرار اختیار کر لی۔ اس آپریشن کے پہلے روز ہی اسرائیل میں 1200 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ تقریبا 250 کو قیدی بنا لیا گیا۔عبرانی زبان کی ویب سائٹ "پاسپورٹ نیوز” کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے فوری بعد ملک چھوڑ کر جانے والے اسرائیلیوں کی تعداد تقریبا 1.4 لاکھ تھی۔ یہ اعداد و شمار 7 اکتوبر سے 17 اکتوبر 2023 تک کے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ اس تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ بالخصوص لبنان میں جارحیت اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد اسرائیل سے جس بڑے پیمانے پر ہجرت دیکھی جا رہی ہے اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ” کے مطابق رواں سال کے پہلے سات ماہ میں اسرائیل سے ہجرت کرنے والوں کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ رہی یعنی 2023 کے مقابلے میں ماہانہ اوسط میں 2200 افراد کا اضافہ ہوا۔اخبار کے مطابق 2023 میں 55 ہزار سے زیادہ افراد نے اسرائیل سے کوچ کیا جب کہ 2022 میں یہ تعداد 38 ہزار تھی۔ یہ عمومی طور سے بڑھتی ہوئی تعداد ہے کیوں کہ گذشتہ دہائی کے عرصے میں اوسط سالانہ تعداد تقریبا 37 ہزار رہی۔ہجرت کرنے والے افراد کے اعداد شمار کے مطابق قابض ریاست سے مہاجرین کی اکثریت نوجوان مرد اور خواتین ہیں۔ مہاجرین کی مجموعی تعداد میں بیس اور تیس کی دہائی کی عمر کے افراد کا تناسب 40% ہے۔ یہ اسرائیل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کہ اس عمر کے افراد معاشرے میں اہم افرادی قوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔اسرائیلی نشریاتی ادارے کے زیر انتظام چینل CAN نے 7 اکتوبر کے واقعات کے ایک سال گزر جانے پر عوامی سروے کرایا۔ سروے رپورٹ کے مطابق سیاست اور امن و امان کے حوالے سے غیر مستحکم صورت حال کے سبب ایک سال کے اندر 23% اسرائیلیوں نے ملک سے کوچ کر جانے کے بارے میں سوچا۔چینل نے واضح کیا ہے کہ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسرائیل سے منفی زاویے سے ہجرت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس لیے کہ حالیہ برسوں میں اسرائیل چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد ملک میں آنے والے نئے مہاجرین کی تعداد سے زیادہ ہے۔












