نئی دہلی، (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسو سرما کی مبینہ اشتعال انگیز تقریر سے متعلق معاملہ میں دائر عرضیوں پر سماعت کے دوران تبصرہ کیا کہ سیاسی لڑائیاں، خاص طور پر انتخابات کے دوران اکثر عدالتوں میں لڑی جاتی ہیں۔یہ تبصرہ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس این وی انزاریا پر مشتمل بنچ نے آسام کے وزیر اعلیٰ کی مبینہ اشتعال انگیز تقریر اور متعلقہ مواد سے متعلق دو عرضیوں پر سماعت کے دوران کیا۔ایک درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ نظام پاشا نے دلیل دی کہ یہ معاملہ ایک سیاسی عہدیدار کی طرف سے کی گئی مبینہ اشتعا ل انگیز تقریر سے متعلق ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں وزیر اعلیٰ مبینہ طور پر اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہوئے تبصرہ کر رہے ہیں۔ اس دلیل پر ردعمل دیتے ہوئے جسٹس سوریہ کانت نے کہا، مسئلہ یہ ہے کہ جب انتخابات آتے ہیں تو ایسے معاملات اکثر یہاں سپریم کورٹ میں ہی لڑے جاتے ہیں۔ ہم دیکھیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) کی رہنما اینی راجہ کی جانب سے دائر کردہ ان عرضیوں میں وزیر اعلیٰ کی 27 جنوری کی عوامی تقریر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی آسام اکائی کے ایکس ہینڈل پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو کو چیلنج کیا گیا ہے۔ویڈیو میں مسٹر سرما دو مسلم مردوں کی اینیمیٹڈ تصاویر کی طرف بندوق سے گولی چلاتے ہوئے نظر آرہے تھے۔عرضیوں کے مطابق عوامی خطاب کے دوران مسٹرسرما نے کہا تھا کہ چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹرز کو ووٹرفہرست سے نکال دیا جائے گا اور ہیمنت بسو سرما اور بی جے پی براہِ راست میاؤں کے خلاف ہیں ۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ لفظ میاں مسلمانوں کے لیے توہین آمیز طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔عرضیوں میں بتایا گیا ہے کہ 7 فروری کو بی جے پی کی آسام اکائی نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں وزیر اعلیٰ کو دو مسلم مردوں کی اینیمیٹڈ تصویر پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جس کے ساتھ پوائنٹ بلینک شاٹ اور نو مرسی (کوئی رحم نہیں) جیسے جملے لکھے تھے۔ اگرچہ عوامی ردعمل کے بعد سرکاری ہینڈل سے ویڈیو ہٹا دی گئی، لیکن درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہ دیگر پلیٹ فارم پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے۔سی پی آئی (ایم) نے دلیل دی ہے کہ ایسا مواد اقلیتی برادری کے خلاف دشمنی، بائیکاٹ اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرتا ہے۔












