ممبئی، 25 اپریل (یو این آئی )لوک سبھا انتخابات میں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے مسلمانوں کی کم نمائندگی ایک مسلم تنظیم مسلم ووٹرز کونسل آف انڈیا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کو ایک کھلا خط جاری کیا جس میں اہم سیاسی شخصیات بشمول ال انڈیا کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے ، این سی پی سربراہ شرد پوار، اور شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ آدتیہ ٹھاکرے کو مخاطب کیاگیا ہے ۔کونسل نے 21 اہم ریاستوں بشمول نئی دہلی، گجرات، جھارکھنڈ، راجستھان، مدھیہ پردیش، پنجاب تمل ناڈو، تلنگانہ، کرناٹک اور مہاراشٹر میں انتخابی نامزدگیوں میں مسلم امیدواروں کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی ہے ۔ کونسل کے مطابق ہندوستان میں مسلمز 300ملین سے زائد آبادی پر مشتمل ہیں ۔ ہندوستان میں مسلم آبادی کے تناسب کے مطابق 80 سے زیادہ نشستیں مسلم امیدواروں چاہیے کو دی جانی چاہئے تھی مگر پارلیمنٹ کی 543 نشستوں میں سے صرف 28 مسلم امیدواروں کو انڈیا الائنس نے میدان میں اتارا ہے ۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے :
کانگریس 15،ایس پی 4،آر جے ڈی 2
سی پی آئی (ایم) 2،جے کے این سی 3
IUML -2،ریاستی تقسیم:،آندھرا پردیش 1،آسام 2،کرناٹک 1،اڈیشہ 1
بہار 4 (کانگریس 2 آر جے ڈی 2)
کیرالہ 3 (کانگریس 1 IUML 2)
اتر پردیش 6 (کانگریس 3 ایس پی 4)
مغربی بنگال 7 (کانگریس 5 سی پی آئی (ایم) 2)
جموں کشمیر 3 (جے کے این سی 3 کانگریس 0)مسلم ووٹرز کونسل اپنے خط میں 543 رکنی لوک سبھا میں کم نمائندگی کے اہم مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں کی شمولیت اور ان کی نمائندگی کے تئیں انڈیا الائنس اور مہاراشٹر وکاس اگھاڑی (MVA) کی وابستگی پر سوال اٹھایا ہے ۔خط میں کہا گیا ہے کہ”جیسا کہ ہم پولنگ کے دوسرے مرحلے کے قریب پہنچ رہے ہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہندوستانی مسلم ووٹروں کو ان اتحادوں کی حمایت کیوں جاری رکھنی چاہئے ،” ساتھ ہی اس معاملے میں انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور شیو سینا کے رہنماؤں سے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔مسلم ووٹرز کونسل آف انڈیا کے کنوینر خان عبدالباری خان نے کہا کہ مسلم ووٹر کونسل آف انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ ان خدشات کو فوری طور پر دور کیا جائے اور امید ہے کہ مسلمانوں کی منصفانہ نمائندگی کا مطالبہ پورے سیاسی میدان میں گونجے گا، اور پارٹیوں پر زور دے گا کہ وہ اپنی انتخابی حکمت عملیوں میں مزید جامع طرز عمل اپنائیں۔












