نئی دہلی، (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سیاست میں کبھی بھی فل اسٹاپ نہیں ہوتا اور اس میں شامل افراد ہمیشہ معاشرے اور ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دیتے رہتے ہیں۔ مسٹر مودی نے یہ بات اگلے ماہ راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے والے 59 ارکان کو رخصت کرتے ہوئے کہی۔ ایوان بالا میں ارکان کی مدت چھ سال ہے، اور ہر دو سال بعد، ایک تہائی ارکان ریٹائر ہو جاتے ہیں، ان کی جگہ نئے ارکان آتے ہیں، جس سے ایوان کو مسلسل فعال بنایا جاتا ہے۔ سبکدوش ہونے والے ارکان میں سینئر ارکان جیسے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش، قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے، سابق وزیراعظم ایچ ڈی۔ دیوے گوڑا، شرد پوار، رام داس اٹھاولے، اور تروچی سیوا شامل ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ سیاست میں کبھی بھی فل اسٹاپ نہیں ہوتا ہے، اور ملک اور سماج کو ہمیشہ لیڈروں کی طرف سے فعال تعاون ملتا رہے گا۔ مسٹر کھرگے، مسٹر گوڑا اور مسٹر پوار کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ان ارکان نے اپنی پارلیمانی زندگی کی نصف سے زیادہ مدت اپنی پارلیمانی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے گزاری ہے اور یہ سب کے لیے تحریک کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان سے سیکھ سکتے ہیں کہ انہیں جو بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کے لیے کس طرح وقف رہنا ہے۔ملیکارجن کھرگے نے اپنی تقریر میں جب کہا کہ نریندرمودی آج کل اپنی تقاریر میں شاعری نہیں کرتے، تو اس پر جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ کھرگے جی کی خواہش کے مطابق ایک شعر کے ذریعے اپنی بات پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:”ایسا کام کرو کہ جہاں سے تمہاری نظر گزرے، وہاں سے تمہیں سلام آئے۔”ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے طویل عرصے تک اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں اور سب کا اعتماد جیتنے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا تجربہ بہت وسیع ہے اور جب ایوان نہیں چلتا تو وہ نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے ہیں اور ملک کے تئیں بیداری پیدا کرنے کا کام کرتے رہتے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہمسٹر اٹھاولے ہمیشہ خوش مزاج رہنے والے رہنما ہیں اور آئندہ بھی لوگوں کی زندگی میں خوشی اور مزاح شامل کرتے رہیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے اراکینِ پارلیمنٹ کو سینئر اراکین کے تجربے سے فائدہ ملتا رہے گا۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو ایک دوسرے کی تکمیلی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی زندگی میں اہم فیصلے کرتے وقت دوسرا نقطۂ نظر جاننا ضروری ہوتا ہے اور اس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اسی طرح دونوں ایوانوں میں بحث و مباحثہ سے خیالات کو نیا رخ ملتا ہے اور فیصلہ سازی کا عمل مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی ہمارے جمہوری نظام کی اصل طاقت ہے۔مسٹر کھرگے نے اپنے خطاب کا آغاز ایک شعر سے کرتے ہوئے کہا، "مجھے نہیں معلوم کہاں سے شروع کروں۔ آپ کے جانے کا ذکر میرے دل کو دکھ سے بھر دیتا ہے۔












