ملک کا موجودہ سیاسی منظر نامہ اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے کہ ذہن کو کسی ایک تصویر پر مرتکز کرنا مشکل ترین امر ہے۔ابھی کل ہی کی بات ہے جب ممتا بنرجی بنگال میں بی جے پی کو چاروں خانہ چت کر کے دہلی تشریف لائی تھیں تو انہوں نے سونیا گامدھی اور راہل گاندھی سے ملاقات کر کے یہ تاثر دیا تھا کہ آنے والے عام انتخاب میں ایک ایسا محاذ بن سکتا ہے جس کی مضبوط ستون ممتا بنرجی بنیںگی۔لیکن پھر مرکزی حکومت کی جانب سے بنگال میں انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور ممتابنرجی بیک فٹ پر چلی گئیں،اور اب جب ہم ان کے تازہ بیان کا تجزیہ کرتے ہیں جس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ راہل گاندھی کو بی جے پی ہی ہیرو بنا رہی ہے تاکہ 2024 میں اس کا ہدف آسان ہو جائے تو اس پر حیرت سے زیادہ ہنسی آتی ہے کہ یہ بیان ممتا بنرجی کا ہے یا مایا وتی کا۔کانگریس شاید یہ بات پہلے ہی سمجھ چکی ہے کہ بہر حال 2024 کا انتخاب اسے اپنی قوت پر ہی لڑنی ہوگی اور انتخاب سے قبل کسی بڑے محاذ کی توقع فضول ہے کیونکہ علاقائی پارٹیوں نے اپنی اپنی ریاستوں میں اپنی اپنی سرکار بنا کر خود کے لئے ایک محفوظ قلعہ بنا لیا ہے اور اس میں وہ کسی بھی قیمت پر کانگریس کی شراکت کے حق میں نہیں ہیں۔بی جے پی کی قوت کا ادراک تو ساری پارٹیوں کو ہے لیکن فی الوقت اس سے دو بدو جنگ کرتی صرف کانگریس ہی نظر آرہی ہے،اور خود بی جے پی بھی یہ بات سمجھ چکی ہے کہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ کانگریس کو حاشیے پر ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔
تازہ واقعے میں جس طرح ممتا بنرجی کے ساتھ ان کے نئے حواری اکھلیش یادو ابھر کر سامنے آئے ہیں اور سماجوادی پارٹی کے ورکرس کی میٹنگ پہلی بار ریاست سے باہر اور وہ بھی بنگال میں کر رہے ہیں وہ بظاہر بے تکی سی بات ہے کیونکہ بنگال اور اتر پردیش کے ووٹر اور ان کا مائنڈ سیٹ بالکل الگ الگ ہے۔ لہٰذا بنگال جاکر اکھلیش یادو کا سماج وادی پارٹی کا اجلاس کرنا سمجھ سے پرے ہے ۔اگر ممتا بنرجی اور اکھلیش یادو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے ذریعہ دیا گیا ایک ایسا بیان جو کانگریس کے خلاف ہوگا انہیں سیاسی فائدہ پہنچائے گا تو یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ آج ملک کا ہر وہ شہری جو بی جے پی کے اقتدار کو ناپسند کرتا ہے وہ یہی چاہتا ہے کہ حزب اختلاف کی تمام پارٹیاں متحد ہو کر بی جے پی کا مقابلہ کریں۔ اور اس متحدہ محاذ سے الگ رہنے والی پارٹیاں اس کی ہمدردی کے دائرے سے اسی طرح نکل جائینگی جیسے مایاوتی نکل گئی ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اتر پردیش ایک ایسی ریاست ہے جہاں اگر بی جے پی کو نقصان ہوتا ہے تو اس کے دوررس نتائج ہونگے ،لیکن وہاں ممتا بنرجی اکھلیش کی بھلا کیامدد کر پائینگی ؟جبکہ کانگریس وہ واحد پارٹی ہے جو ہار کر بھی ان دونوں پارٹیوں کے جملہ ممبران پارلیمنٹ سے زیادہ سیٹ حاصل کرے گی۔ایسے میں اکھلیش اور ممتابنرجی دونوں کا کانگریس پر حملہ یہ بتاتا ہے کہ یہ لوگ بی جے پی کے پچ پر بیٹنگ کر کے اپنی کھال بچاناچاہتے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ایک طرف ان دونوں پارٹی سربراہوں کا کانگریس اور راہل پر حملہ بھی جاری ہے اور دوسری طرف پارلیمنٹ میں جو تنازعہ جاری ہے اس میں ان دونوں پارٹیوں کے ممبران کانگریس کے ساتھ کھڑے باقی کے حزب اختلاف کے ساتھ بھی کھڑے ہیں،جو یہ سمجھنے کےلئے کافی ہے کہ ممتا اور اکھلیش بی جے پی کی ایجنسیوں سے بری طرح خوفزدہ ہیں اور ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“تو کیا موجودہ صورت حال میں جب ملک کی جمہوریت پر خطرات کے بادل جھوم کر برسنے کو تیار ہےں اور بی جے پی بھی اپنے وجود کو بچانے کےلئے بے شرمی کی حد کو پار کرچکی ہے۔ممتا بنرجی اور اکھلیش یادو کی اس دور اندیشی کو مفاد پرستی کا نام نہیں دیا جائے گا اور خود ان کی ریاستوں کے ووٹر اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ ان کی ابن الوقتی کو نہیں سمجھ پائینگے۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ مغربی بنگال میں جب سے ایک ضمنی انتخاب میں کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کا مشترکہ امیدوار اسمبلی انتخاب جیتا ہے ممتا بنرجی کے ماتھے کی شکن میں اضافہ ہو گیا ہے وہ جارحانہ انداز میں کانگریس اور لیفٹ فرنٹ پر حملے کر رہی ہیں۔لیکن انہوں نے سیاسی حد اس وقت پار کر لی جب انہوں نے لیفٹ اور کانگریس دونوں کو بی جے پی کا ایجنٹ قرار دے دیا۔یقینا ساگر دیگھی میں ترنمول کانگریس کی شکست کی بڑی وجہ مسلم ووٹرس ہیں جو اب کانگریس یا لیفٹ کی طرف مراجعت کا من بنا چکے ہیں اور ممتا بنرجی اس سے ہراساں ہیں۔ لیکن یہ صرف بنگال میں نہیں ہوا ہے ،پورے ملک میں ایسی فضا بن چکی ہے اور اکھلیش کمار یادو کو بھی بہت جلد اس صورت حال کا سامنا کرنا ہوگا۔اتر پردیش میں کانگریس بھی اس بار تنہا لڑنے کا ارادہ کر چکی ہے اور اگر وہ تنہا انتخاب لڑتی ہے تو پھر اکھلیش یادو کو بہت کچھ سوچنا اور سمجھنا پڑے گا کیونکہ اتر پردیش میں بھی مسلمانوں کے ووٹ کے بغیر اکھلیش یادو اسی طرح بے یار ومددگار ہو سکتے ہیں جس طرح ممتا بنرجی بنگال میں ہو سکتی ہیں۔












