علم انسان کو یہ ادراک کراتی ہے کہ وہ کیا ہے اور دنیا میں اسے کیسے رہنا ہے۔ اسی مقصد سے ترقی کی منزل پر بڑھتے ہوئے انسانوں نے سماج کی تشکیل کی اور اس سماج میں رہنے کے کچھ اصول مرتب کئے اور ان اصولوں کو نہ ماننے والوں کے لئے کچھ سزائیں تجویز کیں۔ معاشرہ آگے بڑھتا رہا اور سماج بڑا ہوتا رہا اس کا دائرہ وسیع ہوتا رہا یہاںتک کہ ریاستیں بنیں اور پھر بہت ساری ریاستوں کو ملا کر ملک بنایا گیا۔لیکن یہ اصول ہر جگہ نافذ رہا کہ سماج میں رہنے والے لوگوں کو کچھ اصولوں اور ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا۔ جدید دور میں اپنے اپنے ملک کی ضرورت کے تحت آئین بنائے گئے اور اس میں درج احکامات کی روشنی میں قوانین کو نافذ کرنے کے لئے پولیس کا محکمہ بنایا گیا تاکہ ملک کا کوئی شہری مادر پدر آزاد نہ ہو جائے اور وہ سماج میں امن و امان کے قیام میں رکاوٹ نہ کھڑی کرے، اور اگر کوئی شخص ایسا کرتا پایا جائے تو پولیس اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے تاکہ آئین و قانون کی روشنی میں اس کو سزا دی جائے، اور اس سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ امن و امان کا گہوارہ بنا رہے اور عوام خوش و خرم زندگی گذار سکیں۔سرکار اس سارے معاملے پر کڑی نظر رکھنے کے لئے ہی تشکیل دی جاتی ہے اور اس کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ ملک کے آئین کو نافذ کرائے اور ان تمام ایجنسیوں پر کڑی نظر رکھے جن کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ساری دنیا میں یہی نظام رائج ہے اور دنیا اسی اصول کے تحت ترقی کرتی ہوئی آج 21 ویں صدی تک آ پہنچی ہے۔یہ سارا سسٹم انسانوں کو اس کے انسانی اقدار پر قائم رکھنے کے لئے ہی بنائے گئے ہیں اور دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان کا بھی بنیادی کام یہی ہے کہ وہ انہیں انسانیت کے دائرے سے باہر نکلنے نہ دیں اور بغیر جبر کئے ہر انسان کو اس کے زندہ رہنے کے اصول بتائے اور باہمی رشتوں کی اہمیت بتا کر انہیں امن و امان سے رہنے کے لئے ٹرینڈ کرے۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب ایک دوسرے سے نفرت کی تلقین نہیں کرتا یہ صرف کتابی باتیں نہیں ہیں بلکہ سچائی بھی یہی ہے کہ اس پوری دنیا کے بنانے والے خالق نے نفرت کو زہر قرار دے دیا ہے اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے والوں کو اپنے مذہب کا غدار قرار دیا ہے اور اس کے لئے سخت سزاؤں کا اعلان کر دیا ہے۔یعنی اس دنیا کے نظام کو چلانے والے ہر اس نظام کی تائید کی ہے جس نظام میں انسانی اقدار کی پامالی نہ ہو اور ہر شہری کو اس کی صلاحیت کے مطابق حق حاصل ہو اور وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کی محنت و مشقت کا صلہ کسی اور کو مل رہا ہے اور وہ بنیادی ضروریات کے لئے بھی کسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو مجبور ہے۔ یعنی دنیا کے تمام نظام قانون بنانے والوں نے بھی فطری طور پر اس دنیا کے بنانے والے کے اصولوں کی بنیاد پر ہی اپنے اپنے ملک و ریاست کے قوانین مرتب کئے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے تمام مذاہب اپنے اپنے طور پر اس دنیا میں نافذ نظام زندگی، آئین اور قوانین کی حمایت میں ہی کھڑے ہوئے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ آئین میں درج شقوں کو نافذ کرنے کےلئے ایک نظر آنے والی سرکار یا عوام کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی سرزنش کے لئے پولیس اور جیل کا اہتمام ہوتا ہے لیکن مذہبی رہنما اخلاقی طور پر انسانوں کو تعلیم دےکر اچھا شہری بننے کے لئے تیار کرتے ہیں اور ان اصولوں کو نہ ماننے والوں کو نظر نہ آنے والے خدا کا خوف دلا کرنظر نہ آنے والے دوزخ کا خوف دلاتے ہیں۔
افسوس….! کہ آج ہمارے تعلیم یافتہ کہے جانے والے معاشرے میں ان بنیادی نکات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں کہ یہ سارا معاملہ صرف اور صرف انسانوں کو انسانیت کی راہ سے نہ بھٹکنے دینے کے لئے ہی ہیں لیکن ہم نے ان مذاہب کے بنیادی مقصد کو سمجھے بغیر اپنے اختیار کئے ہوئے مذہب کو سب سے اچھا مذہب بتانے کی دھن میں دوسرے مذاہب کی تضحیک شروع کر دی اور اس کا جنون ہمارے اندر اس قدر بالیدہ ہو گیا کہ ہم دوسرے کے مذہب سے نفرت کرنے لگے اور ان کے اکابرین و رہنماؤں کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی کردار کشی کرنے لگے۔دنیا میں اس نفرت کی بنیاد پر جنگیں بھی لڑی گئیں اور لاکھوں کروڑوں انسانوں کا قتل بھی ہوا لیکن بات وہیں پر آ کر رکی کہ اس دنیا میں نفرت کے لئے کوئی جگہ نہیں اور باہمی اختلافات کو ختم کرنے کےلئے جن مذاہب نے جنم لیا تھا ان کے ہی جاہل اور کم فہم نمائندوں نے اسی مذہب کو نفرت کا ہتھیار بنا لیا۔جنونی لوگوں نے مذہب کا چولا اوڑھ لیا اور اپنے مفاد اور اقتدار کے حصول کے لئے امن و امان قائم کرنے کی جگہ ایک دوسرے کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ہمارے ملک بھارت میں اس کی زندہ مثال ان دنوں دیکھنے کو مل رہی ہے اور پورا معاشرہ آہ و زاری کر رہا ہے۔حالانکہ ایسے مذہبی جنونی مٹھی بھر ہوتے ہیں لیکن جب نااہل حکمرانوں کے ذریعہ ان کی سرپرستی کی جانے لگتی ہے تو پھر ان کی قوت میں ہزاروں گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
کم فہم حکمرانوں کو اس کا احسا بھی نہیں ہوتا کہ جن جاہل لوگوں کو وہ اکسا کر کسی مخصوص مذہب یا نسل کے خلاف صف آرا کرتے ہیں وہ جنونی کسی بھی اصول کے پابند نہیں ہوتے، بے حد لالچی اور خود غرض ہوتے ہیں، معاشرے کے ناپسندیدہ لوگ ہوتے ہیں، بے رحم ہوتے ہیں اور جیسے ہی انہیں موقع ملتا ہے اپنے آقاؤں کو بھی نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔اور یہ لوگ یہ سب اس لئے نہیں کرتے کہ اس سے ان کے مذہب کا فروغ ہوگا بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ملک میں مذہبی منافرت کا ماحول بنے گا اور اکثریتی اور اقلیتی طبقہ کے درمیان کھائی گہری ہوگی اور ایک خاص سیاسی پارٹی کااقتدار پر قبضہ برقرار رہے گا۔ انہیں اس کا اندازہ بھی نہیں کہ راشٹر بھکتی کے جس نشہ میں وہ چور ہیں اس راشٹر بھکتی سے ان کے راشٹر کا چہرہ ساری دنیا میں داغدار ہو رہا ہے۔












