• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, مارچ 27, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

انسانی اقدار سے بھٹکتی سیاست

(شعیب رضا فاطمی)

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 13, 2023
0 0
A A
انسانی اقدار سے بھٹکتی سیاست
Share on FacebookShare on Twitter

علم انسان کو یہ ادراک کراتی ہے کہ وہ کیا ہے اور دنیا میں اسے کیسے رہنا ہے۔ اسی مقصد سے ترقی کی منزل پر بڑھتے ہوئے انسانوں نے سماج کی تشکیل کی اور اس سماج میں رہنے کے کچھ اصول مرتب کئے اور ان اصولوں کو نہ ماننے والوں کے لئے کچھ سزائیں تجویز کیں۔ معاشرہ آگے بڑھتا رہا اور سماج بڑا ہوتا رہا اس کا دائرہ وسیع ہوتا رہا یہاںتک کہ ریاستیں بنیں اور پھر بہت ساری ریاستوں کو ملا کر ملک بنایا گیا۔لیکن یہ اصول ہر جگہ نافذ رہا کہ سماج میں رہنے والے لوگوں کو کچھ اصولوں اور ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا۔ جدید دور میں اپنے اپنے ملک کی ضرورت کے تحت آئین بنائے گئے اور اس میں درج احکامات کی روشنی میں قوانین کو نافذ کرنے کے لئے پولیس کا محکمہ بنایا گیا تاکہ ملک کا کوئی شہری مادر پدر آزاد نہ ہو جائے اور وہ سماج میں امن و امان کے قیام میں رکاوٹ نہ کھڑی کرے، اور اگر کوئی شخص ایسا کرتا پایا جائے تو پولیس اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے تاکہ آئین و قانون کی روشنی میں اس کو سزا دی جائے، اور اس سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ امن و امان کا گہوارہ بنا رہے اور عوام خوش و خرم زندگی گذار سکیں۔سرکار اس سارے معاملے پر کڑی نظر رکھنے کے لئے ہی تشکیل دی جاتی ہے اور اس کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ ملک کے آئین کو نافذ کرائے اور ان تمام ایجنسیوں پر کڑی نظر رکھے جن کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ساری دنیا میں یہی نظام رائج ہے اور دنیا اسی اصول کے تحت ترقی کرتی ہوئی آج 21 ویں صدی تک آ پہنچی ہے۔یہ سارا سسٹم انسانوں کو اس کے انسانی اقدار پر قائم رکھنے کے لئے ہی بنائے گئے ہیں اور دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان کا بھی بنیادی کام یہی ہے کہ وہ انہیں انسانیت کے دائرے سے باہر نکلنے نہ دیں اور بغیر جبر کئے ہر انسان کو اس کے زندہ رہنے کے اصول بتائے اور باہمی رشتوں کی اہمیت بتا کر انہیں امن و امان سے رہنے کے لئے ٹرینڈ کرے۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب ایک دوسرے سے نفرت کی تلقین نہیں کرتا یہ صرف کتابی باتیں نہیں ہیں بلکہ سچائی بھی یہی ہے کہ اس پوری دنیا کے بنانے والے خالق نے نفرت کو زہر قرار دے دیا ہے اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے والوں کو اپنے مذہب کا غدار قرار دیا ہے اور اس کے لئے سخت سزاؤں کا اعلان کر دیا ہے۔یعنی اس دنیا کے نظام کو چلانے والے ہر اس نظام کی تائید کی ہے جس نظام میں انسانی اقدار کی پامالی نہ ہو اور ہر شہری کو اس کی صلاحیت کے مطابق حق حاصل ہو اور وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کی محنت و مشقت کا صلہ کسی اور کو مل رہا ہے اور وہ بنیادی ضروریات کے لئے بھی کسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو مجبور ہے۔ یعنی دنیا کے تمام نظام قانون بنانے والوں نے بھی فطری طور پر اس دنیا کے بنانے والے کے اصولوں کی بنیاد پر ہی اپنے اپنے ملک و ریاست کے قوانین مرتب کئے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے تمام مذاہب اپنے اپنے طور پر اس دنیا میں نافذ نظام زندگی، آئین اور قوانین کی حمایت میں ہی کھڑے ہوئے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ آئین میں درج شقوں کو نافذ کرنے کےلئے ایک نظر آنے والی سرکار یا عوام کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی سرزنش کے لئے پولیس اور جیل کا اہتمام ہوتا ہے لیکن مذہبی رہنما اخلاقی طور پر انسانوں کو تعلیم دےکر اچھا شہری بننے کے لئے تیار کرتے ہیں اور ان اصولوں کو نہ ماننے والوں کو نظر نہ آنے والے خدا کا خوف دلا کرنظر نہ آنے والے دوزخ کا خوف دلاتے ہیں۔
افسوس….! کہ آج ہمارے تعلیم یافتہ کہے جانے والے معاشرے میں ان بنیادی نکات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں کہ یہ سارا معاملہ صرف اور صرف انسانوں کو انسانیت کی راہ سے نہ بھٹکنے دینے کے لئے ہی ہیں لیکن ہم نے ان مذاہب کے بنیادی مقصد کو سمجھے بغیر اپنے اختیار کئے ہوئے مذہب کو سب سے اچھا مذہب بتانے کی دھن میں دوسرے مذاہب کی تضحیک شروع کر دی اور اس کا جنون ہمارے اندر اس قدر بالیدہ ہو گیا کہ ہم دوسرے کے مذہب سے نفرت کرنے لگے اور ان کے اکابرین و رہنماؤں کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی کردار کشی کرنے لگے۔دنیا میں اس نفرت کی بنیاد پر جنگیں بھی لڑی گئیں اور لاکھوں کروڑوں انسانوں کا قتل بھی ہوا لیکن بات وہیں پر آ کر رکی کہ اس دنیا میں نفرت کے لئے کوئی جگہ نہیں اور باہمی اختلافات کو ختم کرنے کےلئے جن مذاہب نے جنم لیا تھا ان کے ہی جاہل اور کم فہم نمائندوں نے اسی مذہب کو نفرت کا ہتھیار بنا لیا۔جنونی لوگوں نے مذہب کا چولا اوڑھ لیا اور اپنے مفاد اور اقتدار کے حصول کے لئے امن و امان قائم کرنے کی جگہ ایک دوسرے کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ہمارے ملک بھارت میں اس کی زندہ مثال ان دنوں دیکھنے کو مل رہی ہے اور پورا معاشرہ آہ و زاری کر رہا ہے۔حالانکہ ایسے مذہبی جنونی مٹھی بھر ہوتے ہیں لیکن جب نااہل حکمرانوں کے ذریعہ ان کی سرپرستی کی جانے لگتی ہے تو پھر ان کی قوت میں ہزاروں گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
کم فہم حکمرانوں کو اس کا احسا بھی نہیں ہوتا کہ جن جاہل لوگوں کو وہ اکسا کر کسی مخصوص مذہب یا نسل کے خلاف صف آرا کرتے ہیں وہ جنونی کسی بھی اصول کے پابند نہیں ہوتے، بے حد لالچی اور خود غرض ہوتے ہیں، معاشرے کے ناپسندیدہ لوگ ہوتے ہیں، بے رحم ہوتے ہیں اور جیسے ہی انہیں موقع ملتا ہے اپنے آقاؤں کو بھی نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔اور یہ لوگ یہ سب اس لئے نہیں کرتے کہ اس سے ان کے مذہب کا فروغ ہوگا بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ملک میں مذہبی منافرت کا ماحول بنے گا اور اکثریتی اور اقلیتی طبقہ کے درمیان کھائی گہری ہوگی اور ایک خاص سیاسی پارٹی کااقتدار پر قبضہ برقرار رہے گا۔ انہیں اس کا اندازہ بھی نہیں کہ راشٹر بھکتی کے جس نشہ میں وہ چور ہیں اس راشٹر بھکتی سے ان کے راشٹر کا چہرہ ساری دنیا میں داغدار ہو رہا ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    مارچ 27, 2026
    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی  نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    مارچ 27, 2026
    سری لنکائی پارلیمانی وفد نے جل جیون مشن اور سوَچھ بھارت مشن  گرامین کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کا دورہ کیا

    سری لنکائی پارلیمانی وفد نے جل جیون مشن اور سوَچھ بھارت مشن گرامین کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کا دورہ کیا

    مارچ 27, 2026
    وزیر خارجہ ایس جے شنکر جی 7 وزرائے  خارجہ کی میٹنگ کے لیے فرانس جائیں گے

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر جی 7 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے لیے فرانس جائیں گے

    مارچ 27, 2026
    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    مارچ 27, 2026
    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی  نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    مارچ 27, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist