• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, جنوری 15, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

آلودگی سانس کی صحت کو نگلتا ہوا ایک زندہ عفریت

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 30, 2025
0 0
A A
آلودگی سانس کی صحت کو نگلتا ہوا ایک زندہ عفریت
Share on FacebookShare on Twitter

وہ شہر جو کبھی تاریخ کے سینے پر فخر سے سر اٹھائے کھڑا تھا، جہاں تہذیبوں نے آنکھ کھولی، سلطنتوں نے جنم لیا اور علم و ثقافت نے سانس لی—آج خود سانس لینے کے حق سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ بن چکا ہے جہاں فضا زندگی کو پالنے کے بجائے نگلنے پر تلی ہوئی ہے۔ تیس ملین سے زائد انسانوں کا یہ عظیم شہر اب دھوئیں، زہریلے ذرات اور کیمیائی گیسوں کی ایسی قید میں جکڑا ہوا ہے کہ سانس لینا بھی ایک خطرناک عمل بن چکا ہے۔ دہلی کی فضا اب محض آلودہ نہیں، بلکہ قاتل ہے-خاموش، بے آواز مگر مسلسل۔ دسمبر 2025 کے آخری ایام میں دہلی کی ہوا کا حال یہ ہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس اکثر 220 سے 270 کے درمیان جھولتا رہتا ہے، کبھی “خراب” تو کبھی “بہت خراب” کے خانے میں۔ یہ وہ اعداد نہیں جو صرف اسکرینوں پر نظر آئیں؛ یہ وہ نمبرز ہیں جو بچوں کے پھیپھڑوں، بوڑھوں کے سینوں اور مریضوں کی سانسوں میں اتر کر ان کی زندگی کی لکیر چھوٹی کر رہے ہیں۔ اس سے کچھ ہی دن پہلے شہر نے “شدید” آلودگی کے وہ ایام دیکھے جب AQI 400 سے تجاوز کر گیا اور بعض دنوں میں 450 کی حد بھی پار کر گیا۔ یہ وہ لمحے تھے جب دہلی گویا ایک کھلے گیس چیمبر میں تبدیل ہو گئی، جہاں ہر سانس ایک سزا اور ہر لمحہ ایک آزمائش بن گیا۔ فضا میں معلق باریک ذرات، خصوصاً PM2.5 اور PM10، اس تباہی کے اصل کردار ہیں۔ یہ وہ قاتل ذرات ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجھل مگر انسانی جسم کے لیے نہایت مہلک ہیں۔ ان کا حجم اتنا باریک ہے کہ یہ ناک اور حلق کی حفاظتی دیواروں کو عبور کر کے پھیپھڑوں کی گہرائیوں میں جا بیٹھتے ہیں، اور وہاں سے خون کے بہاؤ میں شامل ہو کر پورے جسم میں زہر گھول دیتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت جن حدود کو محفوظ قرار دیتا ہے، دہلی کی فضا ان سے بیس سے تیس گنا زیادہ زہریلی ہو چکی ہے۔ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، اوزون اور کاربن مونو آکسائیڈ کی بلند سطحیں اس زہر کو مزید مہلک بنا دیتی ہیں۔ سردیوں میں درجہ حرارت کی الٹی تہہ اور ہوا کی کم رفتار اس آلودگی کو زمین کے قریب قید کر دیتی ہے، اور یوں دہلی ایک ایسی دھند میں لپٹ جاتی ہے جو محض نظر ہی نہیں چھپاتی، زندگی بھی چھین لیتی ہے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ مسئلہ کہاں سے پیدا ہو رہا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ دہلی کی آلودگی ایک ہی ماخذ کی پیداوار نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور اندھے ترقیاتی جنون کا نتیجہ ہے۔ سڑکوں پر دوڑتی لاکھوں گاڑیاں، جو فوسل فیول جلا کر دھواں اگلتی ہیں، اس بحران کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ اندازوں کے مطابق PM2.5 میں ان کا حصہ اٹھارہ سے بیس فیصد ہے، جبکہ مجموعی مقامی اخراج میں نقل و حمل پچاس فیصد سے بھی زیادہ کردار ادا کرتی ہے۔ ہر نئی کار، ہر نیا ٹو وہیلر، ہر بھاری ٹرک گویا فضا میں ایک نیا زخم لگاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تیز رفتار شہری تعمیرات سے اٹھنے والی گرد، صنعتی علاقوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں، کھلے عام کوڑے کی جلائی اور رہائشی علاقوں میں بایو ماس کا استعمال اس آتش فشاں میں ایندھن کا کام کرتا ہے۔ کبھی دہلی کی آلودگی کا الزام زیادہ تر پنجاب اور ہریانہ میں فصلوں کی باقیات جلانے پر رکھا جاتا تھا، اور اس میں شک نہیں کہ ماضی میں اس کا کردار نمایاں رہا ہے۔ مگر 2025 میں سیلابی تباہ کاریوں کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچنے سے اس عمل میں کمی آئی، اور اس کا حصہ اکثر دنوں میں پانچ سے پندرہ فیصد تک محدود رہا۔ یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ دہلی کی ہوا کو زہر آلود کرنے والے اصل عوامل شہر کے اندر ہی پنپ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ شہر ایک ایسی دھند میں ڈوب جاتا ہے جہاں دن اور رات کا فرق مٹنے لگتا ہے۔ اس زہریلی فضا کا سب سے بھیانک اثر انسانی سانس کے نظام پر پڑتا ہے۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں، بلکہ اعداد و شمار کی چیخ ہے۔ 2022 سے 2024 کے درمیان دہلی کے بڑے اسپتالوں میں دو لاکھ سے زائد شدید سانس کی انفیکشن کے کیسز درج ہوئے، جن میں تیس ہزار سے زیادہ مریضوں کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ دمہ، برونکائٹس، دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری، نمونیا اور الرجک رائنائٹس جیسے امراض میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ مطالعات واضح طور پر بتاتے ہیں کہ جیسے ہی آلودگی بڑھتی ہے، سانس کی بیماریوں میں پندرہ سے بیس فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ قلیل مدتی نمائش فوری حملوں اور ایمرجنسی کی صورت پیدا کرتی ہے، بھارت پہلے ہی آلودگی سے منسلک دائمی سانس کی اموات کا سب سے بڑا بوجھ اٹھا رہا ہے، اور دہلی اس المیے کا مرکزی اسٹیج بن چکا ہے۔ اس تباہی کا سب سے کربناک پہلو یہ ہے کہ اس کا وار سب پر یکساں نہیں پڑتا۔ بچے، جن کے پھیپھڑے ابھی تشکیل کے مراحل میں ہوتے ہیں، اس زہر کو زیادہ مقدار میں جذب کرتے ہیں۔ ان کی سانسوں میں گھرگھراہٹ، بار بار انفیکشن اور پھیپھڑوں کی نشوونما میں رکاوٹ مستقبل کی کمزور زندگی کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ بوڑھے افراد، جن کے جسم پہلے ہی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں، اس آلودگی کے سامنے مزید بے بس ہو جاتے ہیں؛ دل اور پھیپھڑوں کے عارضے شدت اختیار کر لیتے ہیں اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کم آمدنی والے طبقات، جو شاہراہوں یا صنعتی علاقوں کے قریب رہنے پر مجبور ہیں، زیادہ نمائش اور کم سہولتوں کے دوہرے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٹریفک پولیس، مزدور، دکاندار اور وہ سب لوگ جو روزانہ کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں، ہر دن کئی گھنٹے زہریلی ہوا سانس لیتے ہیں، اور یوں یہ بحران صحت کی عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ دمہ اور الرجک امراض دہلی میں گویا ایک وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ہر “شدید” AQI والے دن کے ساتھ انہیلرز کا استعمال بڑھتا ہے، اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ بھر جاتے ہیں اور صحت کا نظام دباؤ میں آ جاتا ہے۔ الرجک رائنائٹس، جو بظاہر معمولی لگتی ہے، لاکھوں افراد کے لیے روزمرہ زندگی کو اذیت بنا دیتی ہے—مسلسل چھینکیں، ناک کی بندش، آنکھوں میں جلن اور نیند کی کمی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یہ بحران صرف جسمانی بیماریوں تک محدود نہیں۔ دہلی کی آلودگی نے روزمرہ زندگی کے معمولات کو تہس نہس کر دیا ہے۔ اسکول بار بار بند ہو کر آن لائن منتقل ہو جاتے ہیں، بچوں کی کھیل کود ختم ہو جاتی ہے، پارک ویران ہو جاتے ہیں اور ورزش ایک خطرناک مشغلہ بن جاتی ہے۔ گھروں میں قید زندگی موٹاپے، ذہنی دباؤ اور اضطراب کو جنم دیتی ہے۔ مستقل دھند اور گھٹن انسان کے ذہن پر بھی حملہ کرتی ہے، چڑچڑاہٹ، بے چینی اور مایوسی کو فروغ دیتی ہے۔ معاشی اعتبار سے صحت کے بڑھتے اخراجات، کام کے دنوں کا ضیاع اور پیداواری صلاحیت میں کمی خاندانوں اور قومی معیشت دونوں کے لیے ایک خاموش خسارہ ہیں۔ حکومت نے 2025 میں گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان کو کئی بار نافذ کیا، دسمبر کے وسط میں اسٹیج IV تک جانا پڑا جہاں تعمیرات پر پابندیاں، ٹرکوں کے داخلے پر روک اور اسکولوں کی ہائبرڈ تعلیم جیسے سخت فیصلے کیے گئے۔ کچھ دنوں بعد AQI میں عارضی بہتری آئی تو یہ اقدامات واپس لے لیے گئے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، مکینیکل سویپرز، سخت اخراج معیارات اور علاقائی تعاون جیسے اقدامات امید کی کرن ضرور ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ نفاذ میں کمزوریاں، نگرانی کی کمی اور مقامی ذرائع کی بالادستی اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔ مسئلہ عارضی اقدامات سے حل نہیں ہوگا؛ یہ ایک مستقل جنگ ہے جس کے لیے مستقل عزم درکار ہے۔ آگے کا راستہ مشکل مگر ناگزیر ہے۔ کوڑے کے ڈھیروں کو جلانے کے بجائے بحالی اور ری سائیکلنگ کے نظام قائم کرنا ہوں گے، اور کسانوں کو فصل کے باقیات کے محفوظ متبادل فراہم کرنے ہوں گے۔ افراد کی سطح پر بھی ذمہ داری ناگزیر ہے—AQI پر نظر رکھنا، N95 ماسک کا استعمال اور گھروں میں ایئر پیوریفائر جیسے اقدامات خود حفاظتی ڈھال بن سکتے ہیں، مگر یہ حل نہیں، محض بچاؤ ہیں۔ آخرکار سوال یہ ہے کہ کیا صاف ہوا کوئی آسائش ہے یا بنیادی انسانی حق؟ دہلی کا موجودہ منظرنامہ اس سوال کا کڑوا جواب دیتا ہے۔ جب ایک شہر کے باسی سانس لینے سے پہلے AQI چیک کرنے پر مجبور ہوں، تو یہ ترقی نہیں، ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ دسمبر 2025 تک دہلی کی ہوا کا بحران یہ چیخ چیخ کر اعلان کر رہا ہے کہ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ دو لاکھ سے زائد سانس کی بیماریوں کے کیسز، غالب مقامی آلودگی کے ذرائع اور مسلسل صحت کا بوجھ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ فیصلہ کن، جرات مندانہ اور طویل المدتی اقدامات کیے جائیں۔ سانس لینا کوئی استحقاق نہیں ہونا چاہیے، یہ زندگی کا بنیادی حق ہے۔ اگر دہلی کو واقعی زندہ، صحت مند اور قابلِ زیست شہر بنانا ہے تو ہمیں اس حق کی حفاظت کے لیے متحد ہونا ہوگا—حکومت، ماہرین اور شہری سب کو ایک صف میں آنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ گواہ رہے گی کہ ہم نے ایک عظیم شہر کو آہستہ آہستہ دم گھٹنے دیا، اور خاموشی سے اس کی سانسیں چھین لیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    کویت میں رہائشی علاقوں میں قائم اسکول بند کرنے کا فیصلہ

    کویت میں رہائشی علاقوں میں قائم اسکول بند کرنے کا فیصلہ

    جنوری 15, 2026
    سینیٹرز نے ٹرمپ کی فوجی طاقت کو محدود کرنے کے لیے بل پیش کیا

    سینیٹرز نے ٹرمپ کی فوجی طاقت کو محدود کرنے کے لیے بل پیش کیا

    جنوری 15, 2026
    نیو یارک کے میئر زہران ممدانی اہلیہ کے ہمراہ نئے گھر میں منتقل

    نیو یارک کے میئر زہران ممدانی اہلیہ کے ہمراہ نئے گھر میں منتقل

    جنوری 15, 2026
    ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی

    ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی

    جنوری 15, 2026
    کویت میں رہائشی علاقوں میں قائم اسکول بند کرنے کا فیصلہ

    کویت میں رہائشی علاقوں میں قائم اسکول بند کرنے کا فیصلہ

    جنوری 15, 2026
    سینیٹرز نے ٹرمپ کی فوجی طاقت کو محدود کرنے کے لیے بل پیش کیا

    سینیٹرز نے ٹرمپ کی فوجی طاقت کو محدود کرنے کے لیے بل پیش کیا

    جنوری 15, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist