بن گئی بات ،
نتیش کمار اور ملکارجن کھڑگےکے درمیان مثبت ملاقات
تیجسوی اور راہل بھی تھے ساتھ ،2024کے عام انتخاب سے قبل نظریاتی بنیاد پر حزب اختلاف جماعتوں کا ہوگا اتحاد۔
نئی دہلی 12 اپریل شعیب رضا فاطمی :
بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے بدھ کے روز نئی دہلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور کانگریسی لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کی ۔اس ملاقات کے دوران نتیش کمار کے ساتھ جدیو کے ریاستی صدر للن سنگھ اور تیجسوی یادو کے ساتھ آر جے ڈی کے صدر منوج کمار جھا بھی موجود تھے ۔گھنٹوں چلی اس میٹنگ کے بعد ایک جوائنٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر نے اس میٹنگ کو تاریخی نوعیت کی میٹنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میٹنگ کا اصل مقصد حزب اختلاف کو متحد کرنا اور ایک ساتھ مل کر چناؤ لڑنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں بہت سارے موضوعات پر گفتگو بھی ہوئی اور فیصلے بھی لئے گئے ۔بعد ازاں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بھی نہایت سدھے ہوئے لیکن پر اعتماد انداز میں کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے سلسلے میں منعقد یہ میٹنگ نہایتبکامیاب رہی اور اب ہم پورے ملک کے حزب اختلاف کو متحد کرینگے ۔ساری پارٹیوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہمارا مقصد ہے اور ہم اس مقصد میں کامیاب رہینگے ۔میٹنگ میں موجود کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی پریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے ایک سلسلے کی شروعات کی ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ ہمخیال پارٹیوں کو ایک اپوزیشن اتحاد کے طور پر جوڑا جائےگا ۔ہم ہمخیال پارٹیوں کے ساتھ مل کر ایک نظریاتی اتحاد قائم کرینگے اور ملک میں اپنے نظریات کی بنیاد پر اپنی لڑائی لڑینگے ۔راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ ملک میں سرکاری اداروں پر ہو رہے حملوں کا ہم متحد ہو کر مقابلہ کرینگے ۔
نتیش کمار اور کانگریس لیڈر کے درمیان کی اس میٹنگ کا پورے ملک کو انتظار تھا ۔اور گذشتہ دنوں خود نتیش کمار نے پٹنہ میں کسی نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس کو جلد از جلد 2024 کے عام انتخاب کے سلسلے میں اپنے موقف کی وضاحت کر دینی چاہئے ۔یوں تو اپوزیشن کے متحدہ محاذ پر کافی دنوں سے باتیں ہو رہی ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ پہلی بار دو سنجیدہ اور تجربہ کار لیڈروں ملکارجن کھڑگے اور نتیش کمار نے اور موجودہ سیاسی منظر نامہ کے دو قدر نوجوان ستارے راہل گاندھی اور تیجسوی یادو نے للن سنگھ اور پروفیسر منوج کمار جھا جیسے سیاسی مفکروں کے ساتھ مل کر 2024کی انتخابی حکمت عملی پر گفتگو کی ہے اور جسے خود کانگریسی صدر نے تاریخی میٹنگ قرار دیا ہے ۔












