ہوبلی، (یو این آئی) اپنی شاندار گیند بازی سے جموں و کشمیر کو پہلے رنجی خطاب کے قریب پہنچانے والے تیز گیند باز عاقب نبی نے کہا ہے کہ "نتائج کے بارے میں سوچنے کے بجائے مثبت سوچ برقرار رکھنے” سے انہیں ایک اور یادگار رنجی ٹرافی سیزن کھیلنے میں کامیابی ملی ہے۔عاقب نبی نے رنجی ٹرافی فائنل کے تیسرے دن کرناٹک کے خلاف تین وکٹیں حاصل کیں اور چوتھے دن اسے ‘پنجے (5 وکٹ) میں تبدیل کر دیا۔ اس کارکردگی کی بدولت جموں و کشمیر نے پہلی اننگز میں برتری حاصل کر کے اپنے پہلے رنجی خطاب کی جیت تقریباً یقینی بنا لی ہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں نبی کی شاندار کارکردگی کا سلسلہ برقرار ہے؛ گزشتہ دو سیزن میں انہوں نے 13.58 کی اوسط سے 108 وکٹیں لی ہیں، جن میں سے 60 وکٹیں اسی سیزن میں آئی ہیں جو کہ مشترکہ طور پر سب سے زیادہ ہیں۔ہوبلی میں کرناٹک کے خلاف چوتھے دن کے کھیل کے بعد انہوں نے کہا، میں نے اپنی اسکلز پر کوچز کے ساتھ اور نیٹس میں کافی محنت کی ہے۔ میں نے نتائج کے بارے میں سوچنے کے بجائے مثبت سوچ رکھی، جس سے مجھے بہت مدد ملی۔”فائنل سے قبل جموں و کشمیر کے گیند بازی یونٹ کی کافی بحث تھی جس کی قیادت عاقب نبی کر رہے ہیں۔ اس یونٹ میں بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز سنیل کمار اور بائیں ہاتھ کے اسپنر عابد مشتاق بھی شامل ہیں۔ ان کا سامنا کرناٹک کے تجربہ کار بلے بازوں جیسے کے ایل راہل، میانک اگروال، کرون نائر اور دیودت پڈیکل سے تھا۔ نبی نے کے ایل راہل اور کرون نائر کو بہترین گیندوں پر آؤٹ کر کے کرناٹک کا اسکور 57 رن پر 3 وکٹ کر دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اس سیزن کے ٹاپ اسکورر آر اسمرن کو ‘گولڈن ڈک پر آؤٹ کر کے کرناٹک کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔ میچ کے چوتھے دن 160 رن بنا کر کھیل رہے میانک اگروال کو ایل بی ڈبلیو کر کے انہوں نے کرناٹک کی واپسی کی تمام امیدیں ختم کر دیں۔کرون نائر کو کلین بولڈ کرنے والی گیند پر نبی نے بتایا، "میں صرف صحیح جگہ پر گیند بازی کر رہا تھا۔ کوچز نے بھی یہی ہدایت دی تھی کہ صرف درست جگہ پر گیندبازی کروں۔ میرا مائنڈ سیٹ یہ تھا کہ بلے باز کی پرواہ کیے بغیر اپنی بہترین گیند بازی کروں۔ مجھے بہت سے پیغامات بھی ملے تھے کہ تمہیں کے ایل راہل کو آؤٹ کرنا ہے!”اگر میچ کا نتیجہ (ہار جیت) نہیں بھی نکلتا، تب بھی جموں و کشمیر پہلی اننگز کی اہم برتری کی بنیاد پر اپنا پہلا رنجی ٹرافی خطاب جیت لے گا۔












