امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اہم فوجی اہداف کی تفصیلی فہرست موصول ہوئی ہے، جبکہ صدر ایران پر ممکنہ حملے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، جیسا کہ برطانوی روزنامہ ڈیلی میل نے رپورٹ کیا ہے۔واشنگٹن میں مقیم غیر منافع بخش تنظیم ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف محاذ نے 50 اہداف پر مشتمل ایک فائل مرتب کی اور اسے پیر کی صبح وائٹ ہاؤس کے حکام کو پیش کیا، جو اہم سیکیورٹی اجلاسوں سے قبل پیش کی گئی، جیسا کہ تنظیم نے ڈیلی میل کو خصوصی طور پر بتایا۔اس دستاویز میں ثر اللہ میں قدس ریولوشنری گارڈ کے ہیڈکوارٹرز کے بالکل درست جغرافیائی کوآرڈینیٹس شامل ہیں، جو مظاہرین کے خلاف مہم کی نگرانی کا مرکز ہے۔ یہ ہیڈکوارٹر دراصل فوج کا مرکزی کمانڈ سینٹر ہے، جہاں پولیس کی فوجی کارروائیوں پر کنٹرول رکھا جاتا ہے۔یہ مقامات اور یونٹس کی نشاندہی کرنے کے بعد امریکی فوج کے پاس اب ایرانی گارڈ کی صلاحیتوں کا نقشہ موجود ہے کہ وہ کس طرح اپنے شہریوں کے خلاف مہمات کو مربوط کرتا ہے، جو صدر ٹرمپ کو برہم کر گیا اور انہیں مظاہرین کی حمایت کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کرنے پر مجبور کیا۔ایران کے نیشنل سیکیورٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (UANI) میں ایران ریولوشنری گارڈ ریسرچ ڈائریکٹر کسری عرابی نے ڈیلی میل کو بتایا:یہ احتجاج اور مظاہرین کے خلاف مہم تب تک جاری رہیں گی، جب تک کہ غیر مسلح ایرانی شہریوں اور اس اسلحہ بردار نظام کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل نہ ہو۔اہم قیادت کےمراکز کے ساتھ ساتھ فائل میں تہران بھر میں چھپی ہوئی بنیادی انفراسٹرکچر کی تفصیل بھی شامل ہے، جو نظام کے زیادہ تر یونٹس کے لیے ایک مرکزی کمانڈ نیٹ ورک کا کام کرتی ہے اور انٹیلیجنس، پولیس اور نفسیاتی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتی ہے۔یہ اہداف 23 علاقائی اڈوں پر مشتمل ہیں ،جو ایرانی ریولوشنری گارڈ کے ماتحت بسیج فورسز کے کنٹرول میں ہیں، اور ہر ایک اڈا تہران کے 22 مختلف علاقوں میں واقع ہے۔ بسیج فورسز، ریولوشنری گارڈ کی مقامی شدت پسند ملیشیا ہیں۔اس فہرست میں جسے تنظیم ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف محاذ (UANI) نے فراہم کیا، وہ آپریشنل یونٹس شامل ہیں، جو مظاہرین کے خلاف کارروائی کی قیادت کر رہی ہیں، جن میں دو اہم بریگیڈز ہیں:بریگیڈ آل محمد شمال مشرقی تہران میں تعینات ہے جبکہ بریگیڈ الزہراء جنوب مشرقی تہران میں تعینات ہے۔ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایرانی مظاہرین کے ہلاک شدگان کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، بعض گرفتار افراد کو نظام کی جیلوں میں فوری سزائے موت کا سامنا ہے۔












