نریندر مودی ان دنوں زبردست ذہنی دباؤ میں نظر آ رہے ہیں ،اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دس سال کی طویل جدوجہد کے باوجود ان کے سامنے کانگریس پھر ایک متحدہ محاذ بنا کر کھڑی ہے ۔”کانگریس مکت بھارت”کا ان کامشن ہنوز پایہ تکمیل تک نہ پہنچا ہے اور نہ ہی سونیا گاندھی ،راہل گاندھی یا پرینکا واڈرا کو وہ سلاخوں کے پیچھے پہنچا سکے ۔ہمارے قارئین یہ تصور کر سکتے ہیں کہ خود کو دنیا کا سب سے بہادر اور مقبول لیڈر مشتہر کرانے والا جب کانگریس اور جواہر لعل کے خاندان کو دیکھتا ہوگا تو اس کی ذہنی کیفیت کس قدر ہیجان میں مبتلا ہوتی ہوگی کہ آخر موتی لعل نے کیا کھلا کر جواہر لعل کی پرورش کی ہوگی کہ ان کی پانچویں اور جواہر لعل کی چوتھی نسل بھی سڑک پر کھڑا ملک کی فلاح و بہبود کے لئے ،گنگا جمنی تہڈیب کی بقا کے لئے ،آئین کے تحفظ کے لئے ،نفرت سے پاک بھارت کو اس کی قدیم سماجی وراثت واپس دلانے کے لئے بر سر پیکار ہے ۔اور وہ بھی ایک ایسی پارٹی ،تنظیم ،ادارے اور نظریات سے لڑرہا ہے جس کا کوئی اصول نہیں ہے ۔وہ خوفزدہ نہیں ہے اس کے باوجود کہ اس کے باپ اور دادی کو دہشت گردوں نے گولیوں اور بموں سے چیتھڑوں میں تبدیل کر دیا تھا ۔ابھی چند روز پہلے جب راہل گاندھی” بھارت جوڑو نیائے یاترا "کے دوسرے مرحلے کا اختتامی خطبہ دے رہے تھے تب ممبئی کے آزاد میدان سے انہوں نے قوت کے غلط استعمال کے سلسلے میں جب بات کی اور نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا تو اس کی مار سیدھی وزیر اعظم تک پہنچی اور انہوں نے اپنے ایک خطاب میں اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی کے جملوں کے مفہوم سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگے تب راہل گاندھی نے وزیراعظم کی تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں میری باتیں پسند نہیں،اسلئے ان کا مطلب بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اپنے سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے بددیانتی، بدعنوانی اور جھوٹ کی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں اور کانگریس اسی طاقت کے خلاف لڑ رہی ہے۔ راہل گاندھی نے پیر کو ٹوئیٹر پر لکھا کہ’’مودی جی کو میری باتیں پسند نہیں ہیں، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے ان کا مطلب بدلنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میں نے سچ بولا ہے۔ جس طاقت کا میں نے ذکر کیا ہے، مودی جی اس طاقت کا نقاب ہیں جس سے ہم لڑ رہے ہیں، وہ ایک ایسی طاقت ہے جس نے آج ہندوستان کی آوازکو، ہندوستان کے اداروں کو، سی بی آئی، آئی ٹی، ای ڈی، الیکشن کمیشن، میڈیا، ہندوستان کی صنعت اور پورے آئینی ڈھانچے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ہندوستان اس کے چنگل میں ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ اسی طاقت کی وجہ سے نریندر مودی جی ہندوستانی بینکوں سے ہزاروں کروڑ کے قرضے معاف کراتے ہیں، جبکہ ایک ہندوستانی کسان چند ہزار روپے کا قرض ادا نہ کر پانے پر خودکشی کر لیتا ہے۔ ہندوستان کی بندرگاہوں، ہندوستان کے ہوائی اڈوں کو تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہےجبکہ ہندوستان کے نوجوانوں کو اگنی ویر کا تحفہ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔اسی طاقت کو دن رات سلام کرتے ہوئے ملک کا میڈیا سچ کو دباتا ہے۔اسی طاقت کی وجہ سے نریندر مودی جی ملک کے غریبوں پر مہنگائی کو قابو میں کئے بغیر جی ایس ٹی لگا رہے ہیں، اس طاقت کو بڑھانے کیلئے ملک کے اثاثوں کی نیلامی کر رہے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ میں اس طاقت کو پہچانتا ہوں، نریندر مودی جی بھی اس طاقت کو پہچانتے ہیں، یہ کسی قسم کی مذہبی طاقت نہیں ہے، یہ بددیانتی، بدعنوانی اور جھوٹ کی طاقت ہے، اسلئے جب بھی میں اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہوں۔ مودی جی اور ان کی جھوٹ کی سلطنت میں افرا تفری مچ جاتی ہے ۔وہ مشتعل ہو جاتے ہیں ۔ "کانگریس پارٹی کے کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے تو مودی جی کو "قوت” کی تشریح ہی نہیں اس کی تفہیم کر کے بھی سمجھادیا کہ قوت دو طرح کی ہوتی ہے ایک شیطانی اور دوسری خدائی ۔لیکن یاد رکھیں کہ یہ الیکشن `’خدائی طاقت‘ اور’ شیطانی طاقت‘ کے درمیان ہے جس میں فتح خدائی طاقت کی ہی ہوگی، اب یہ ملک شیطانی طاقت سے نہیں بلکہ خدائی طاقت سے چلے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ جب کٹھوعہ، اُناؤ اور ہاتھرس کے واقعات ہوتے ہیں تب شکتی کی پوجا یاد نہیں آتی ، جب منی پور میں خواتین کو برہنہ دوڑایا جا رہا تھا، تب کون سی طاقت آپ کو خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کر رہی تھی؟جب خاتون پہلوان سڑکوں پر تھیں اور برج بھوشن شرن سنگھ آپ کے گھر میں تھے تب آپ کس طاقت کی پوجا کر رہے تھے۔
ان دنوں عام طور پر یہ کہا جانے لگا ہے کہ نریندر مودی کی شخصیت کے سحر کے سامنے ،کانگریس یا حزب اختلاف کا ٹھہرنا مشکل ہے ۔لیکن سچ یہ ہے کہ ان دنوں کانگریس قدم قدم پر بی جے پی اور ان کے بھگوان کو ذلیل کر رہی ہے ۔ابھی چند دن پہلے سپریم کورٹ نے جس طرح سرکار کے ناجائز قانون کا آپریشن کر کے الیکٹورل بانڈ نامی کینسر کو باہر نکالا ہے اس کے بعد تو اس سرکار اور بی جے پی کے بھگوان کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے ،لیکن افسوس !کہ اتنی ذلالت کے بعد بھی یہ پارٹی چار سو پار کے نعرے لگا رہی ہے ۔












