کلیگ سے تریتا یگ میں پرویش کی تیاری
اس سے پہلے کہ اپنے مکالمے کا آغاز کروں اپنے تمام قارئین کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔آج جب یہ تحریر میں لکھ رہا ہوں اس وقت سال کا آخری دن ہے لیکن کل جب آپ یہ تحریر پڑھینگے تو کیلینڈر بدل چکا ہوگا ۔لیکن اس نئے سال میں بھی ہم گذشتہ سال کے بہت سارے سلگتے ہوئے موضوعات کو ساتھ لے کر داخل ہونگے ۔جس میں خاص طور پر اپوزیشن اتحاد بنام I.N.D.I.A,میکالے کے لکھے آئی پی سی قانون میں تبدیلی جس پر 2023میں کوئی گفتگو ہی نہیں ہوئی لیکن اس پر گفتگو ہونی ہے اور زور دار ہونی ہے ۔ساتھ ہی رام مندر کی تعمیر کے بعد اعلان شدہ منادر کی تعمیر جس کا اعلان ہو چکا ہے اور جہاں سے مساجد و عید گاہوں کو مسمار کرنا ہے ۔پارلیمنٹ سے اپوزیشن لیڈروں کی معطلی کا مسلہ بھی ابھی پوری طرح حل نہیں ہوا ہے ۔اس نئے سال میں سب سے زیادہ جس موضوع پر مباحث ہونگی ان میں سیکولر آئین کی روشنی میں کی جائینگی جبکہ موجودہ حکومت اور متوقع حکومت کا سیکولرزم سے اللہ واسطے کا بیر ہے اور وہ پورے ملک کو تریتہ یگ میں لے جانے کو بضد ہے ۔
ہفتہ کے روز ایودھیا کے زیر تعمیر رام مندر کا جائزہ لینے کے دوران وزیر اعظم نے جس طرح دھن ورشا کی اسے دیکھ کر ایسا لگا جیسے دور شاہی پھر لوٹ آیا ہو ۔رام کے نام پر بنائی گئی سرکار کے سربراہ کو رام کی نگری پر دھن ورشا کرنی بھی چاہئے ۔اس نئے سال پر سرکار نے بھارت کےاکثریتی طبقہ کو رام مندر کی شکل میں جو تحفہ دیا ہے اس کے بدلے بس ایک اور پانچ سالہ سرکار کی ہی تو گذارش کرنے تو گئے تھے وزیر اعظم ۔اور ایسے وقت میں دھن ورشا تو ہونی ہی چاہئے ۔حالانکہ یہ کام سرکار ضرور کر رہی ہوگی کہ اسے اب آئین میں ترمیم کر کے جلد از جلد ایک بل اور پاس کرا لینا چاہئے جس میں پورے ملک میں منادر کی تعمیر اور اس کے رکھ رکھاؤ کے لئے ایک وزارت کی تشکیل کی سفارش ہو ۔حالانکہ اس میں ابھی بھی کوئی رخنہ نہیں آ رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں اس کی ضرورت پڑنے والی ہے ۔ابھی حال ہی میں ہندوؤں کی ایک تنظیم وشو ویدک سناتن سنگھ کا یہ اعلان اخبارات کی زینت بنا کہ متھرا،کاشی کے علاوہ مزید چالیس مذہبی مقامات کو آزاد کرانے کی پوری تیاری کر لی گئی ہے ۔اعلان میں تنظیم کے سربراہ جتیندر سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ 2024 میں بسنت پنچمی کے موقع پر 40 مذہبی مقامات کو ’آزاد‘ کرانے کی مہم کی شروعات کی جائے گی۔ یعنی ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر اگلے ماہ ایک وسیع رام مندر کا افتتاح ہونے کے بعد اس مسجد توڑو مندر بناؤ مہم کا بھی آغاز ہو جائے گا۔سب سے پہلے متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد اور وارانسی کی گیانواپی مسجد کا نمبر ہے جس پر ہندو فریقین دعویٰ کر رہے ہیں اور ان سے متعلق مقدمات کئی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اور سب سے اکثریتی ہندو طبقہ کی آستھا بھی جڑی ہے ۔اور خون خرابہ کی دھمکی دینے اور اسے انجام دینے کے لئے بھی کئی سینائیں موجود ہیں تو پھر عدالت کا فرض بھی ہے کہ وہ تمام فیصلے ان منادر کے حق میں کر دیں تاکہ اکثریتی طبقہ سے ملک کے مسلم اقلیتوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔جیتیندر سنگھ نے اپنے اعلان میں اس مہم کی تفصیل بھی بتائی ہے اور کہا ہے کہ مدھیہ پردیش کے دھار میں واقعہ مسجد کمال مولا کا معاملہ بھی عدالت میں زیر غور ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے 40 اور معاملات کو بھی عدالت میں لے جایا جائے گا۔وشو ویدک سناتن سنگھ نامی تنظیم کے سربراہ جتیندر سنگھ وسین نے دعویٰ کیا ہے کہ 2024 میں بسنت پنچمی کے موقع پر 40 مذہبی مقامات کو’آزاد‘ کرانے کی مہم کی شروعات کی جائے گی۔ جتیندر سنگھ نے کہا ہے ’’ایودھیا میں شری رام جنم بھومی کے معاملے پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ متھرا میں شری کرشنا جنم بھومی کیس میں کام جاری ہے۔ کاشی میں گیانواپی پیچیدہ تنازعہ پر بھی کام جاری ہے۔ مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالا کے معاملے پر بھی کام جاری ہے۔‘‘جتیندر سنگھ نے مزید کہا، ’’اب 40 دیگر مذہبی مقامات کی آزادی کے لیے بیک وقت عدالتی/آئینی مذہبی جنگ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ 2024 میں بسنت پنچمی کو آئینی مذہبی جنگ شروع کرنے کا بگل بجایا جائے گا۔‘‘
اب ایسے میں کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ سرکار پیش بندی کرتے ہوئے جلد از جلد ایک وزارت برائے مندر کی تشکیل کر کے اس کے لئے ایک معقول رقم مختص کرے تا کہ مندر تعمیر میں کوئی مالی دقت پیش نہ آئے ۔اس کام کو جلد از جلد انجام دینے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ابھی عام بجٹ سے پہلے نرملا سیتا رمن جی یکم فروری کو پارلیمنٹ میں عبوری بجٹ 2024 پیش کریں گی اسی میں مندر بجٹ بھی آجائے گا اور وزیر اعظم کو عام انتخابات کی ریلیوں میں اس تاریخی کارنامہ کا ذکر کرنے کا موقعہ مل جائیگا ۔ یہ عبوری بجٹ اگلے سال لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے ہی بنے گا۔ نئی حکومت بننے پر مکمل بجٹ دوبارہ پیش کیا جائے گا۔اس بجٹ میں لیے گئے فیصلے لوک سبھا انتخابات 2024 کے نتائج کا اعلان ہونے اور نئی حکومت کے اقتدار میں آنے تک کارگر رہیں گے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ عبوری بجٹ یکم اپریل 2024 سے شروع ہو کر 31 مارچ 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے پیش کیا جائے گا۔ حال ہی میں، ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے، پی ایم مودی نے کہا بھی ہے کہ بجٹ 2024 بنیادی طور پر کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور غریبوں کے لیے اقدامات پر توجہ مرکوز کرے گا۔ لیکن اس میں جب مندر تعمیر کا بجٹ بھی شامل ہو جائیگا تب ہی وزیر اعظم کے اعلان پر لوگ یقین بھی کرینگے کیونکہ اس سے قبل 2023-24 کے بجٹ میں جو وعدے کئے گئے تھے وہ تو پورے ہوئے نہیں ۔سوائے مندر کی تعمیر کے ۔ایسے میں اب ملک کے لوگوں کو یہ یقین ہو چکا ہے کہ مودی جی اپنا کوئی اور وعدہ پورا کریں یا نہیں لیکن مسجد توڑ کر مندر تعمیر کے وعدے کو ضرور پورا کرتے ہیں ۔اور اس طرح ان کے وعدوں کو کوئی سرے سے نکار نہیں سکتا ۔
(شعیب رضا فاطمی )












