سرینگر،صدر ہند دروپدی مرمو اگلے ماہ لداخ اور جموں و کشمیر کے اپنے پہلی دورے پر وارد ہو رہی ہے جس کے دوران وہ دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن گلیشیئرکا دورہ کرنے کے بعد لہہ میں فوج کے اعلیٰ افسران سے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گی ۔ اس کے علاوہ واپسی پر صدر ہند سرینگر میں بھی مختصر وقت تک قیام کریں گی ۔تفصیلات کے مطابق صدر ہند دروپدی مرمو اپنے پہلے دور ہ جموں کشمیر اور لداخ پر 3مئی کو وارد ہونگی ۔ لداخ میں صدر کے دورے کی عارضی تاریخیں 3 سے 5 مئی تک ہیں۔ تاہم، صدر کے سیکرٹریٹ نے ابھی تک باضابطہ طور پر شیڈول جاری کرنا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ لداخ میں، صدر کا دورہ زیادہ تر لیہہ تک محدود رہنے کا امکان ہے جبکہ جموں و کشمیر میں وہ سرینگر میں مختصر قیام کر سکتی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ صدر سیکرٹریٹ کی طرف سے فوج، فضائیہ اور لداخ کی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت سے طے شدہ وقتی شیڈول کے مطابق دروپدی مرمو لیہہ پہنچیں گی جہاں فوج اور آئی اے ایف کے اعلیٰ کمانڈرز ان کا استقبال کریں گے۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) بی ڈی مشرا اور سول اور پولس انتظامیہ کے سینئر افسران بھی موجود رہیں گے ۔ وہ سطح سمندر سے 18,875 فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ سیاچن گلیشیئر کے لیے اڑان بھریں گی اور پاکستان کے ساتھ سٹریٹجک سرحدوں کے دفاع کے لیے انتہائی مخالف موسمی حالات میں وہاں تعینات فوجی جوانوں سے بات چیت کریں گی۔صدر مملکت سیاچن گلیشیئر کے دورے کے دوران اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے ہمراہ ہوں گے جو انہیں اعلیٰ ترین میدان جنگ میں فوج کے جوانوں کی تعیناتی کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ توقع ہے کہ وہ ایک گھنٹے تک گلیشیئر پر ٹھہرے گی۔لیہہ میں اپنے قیام کے دوران صدر سے توقع ہے کہ وہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر، اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور دیگر معززین سے ملاقات کے علاوہ مذہبی اور تاریخی اہمیت کے مقامات کا دورہ کریں گی۔ذرائع نے بتایا کہ مرمو مرکزی دارالحکومت واپس آنے سے پہلے سرینگر کے لئے پرواز کر سکتے ہیں۔ ایسے میں وہ بادامی باغ چھاؤنی میں آرمی کمانڈروں سے ملاقات کریں گی۔گزشتہ سال جولائی میں ہندوستان کی پہلی قبائلی خاتون صدر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد یہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں لداخ اور جموں و کشمیر کا ان کا پہلا دورہ ہوگا۔ صدر کے انتخاب کی مہم کے دوران بھی دروپدی مرمو نے جموں و کشمیر اور لداخ کا دورہ نہیں کیا تھا۔












