• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 5, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

پرائمری تعلیمی نظام اور بھارت کا مستقبل

حکومت کو اعدادوشمار کے بجائے زمینی حقیقت سے واقف رہنا چاہئے اور ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہئے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 27, 2022
0 0
A A
پرائمری تعلیمی نظام اور بھارت کا مستقبل
Share on FacebookShare on Twitter

عبدالغفار صدیقی
تعلیم کی اہمیت و افادیت سے کون ناواقف ہے ۔ہر شخص کی زبان پر اس کے فائدے ہیں ۔ہر شخص کے دل کی تمنا ہے کہ اس کے بچے پڑھیں ۔سرکار وں کے عزائم و ارادے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کے بچے پڑھ لکھ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالیں ۔اس کام کے لیے درجنوں اسکیمیں ہیں جو چلائی جارہی ہیں،مثال کے طور پر 1981میں راشٹریہ شاکشرتاا بھیان چلایا گیا ،جس کے تحت تعلیم بالغان و بالغات کے مراکز قائم کیے گئے ۔شاکشر بھارت مشن 2012میں لایا گیا ،اس کا مقصد تھا کہ بھارت کی شرح خواندگی کو اسی فیصد تک پہنچادیا جائے ،رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ 2010میں نافذ کیا گیا ،اس قانون کے تحت 6سے 14سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت دی گئی ۔اسکول میں بچوں کو مڈ ڈے میل کے نام سے مفت کھانا دیا گیا ۔یونیفارم اور کتابیں بھی مفت فراہم کی گئیں۔اسکول چلو ابھیان کے تحت گھر گھر جاکر بچے لائے گئے ۔ لاکھوں کروڑ روپے مختص کیے گئے ،بڑے بڑے اہداف مقر رکیے گئے ،ان اہداف کے حصول کے دعوے بھی کیے گئے ۔لیکن ان سب کے نتائج بہت مایوس کن ہیں ۔اگرچہ شرح خواندگی میں ہر سال اضافہ درج کیا جارہا ہے ۔جو 1981میں 40فیصد سے بڑھ کر2018میں 74فیصد ہوگیا ہے ۔بظاہر لگتا بھی یہی ہے کہ بھارت کی اکثریت لکھنے پڑھنے کے قابل ہوگئی ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے ۔یہ سرکاری اعداو شمار ہیں جو ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ۔سرکاری معیار خواندگی یہ ہے کہ کوئی فرد اپنا نام لکھنا اور پڑھناجانتا ہو۔اتنے کم معیار اور اعداو و شمار میں ہیرا پھیری کے باوجود ہمارے ملک کی شرح خواندگی عالمی معیار سے کم ہے ۔حالانکہ ہر ریاست میں تعلیم کی الگ وزارتیں ہیں ،بلکہ پرائمری اور اعلیٰ تعلیم کے لیے الگ الگ وزارتیں قائم ہیں ۔
جنوبی ہندوستان میں تعلیم کی شرح شمال کے مقابلے کہیں بہتر ہے ۔ شمالی ہندوستان میںپرائمری تعلیم میں ناکامی کے کئی اسباب ہیں ۔سب سے بڑی وجہ سرکاری نظام میں کرپشن کا ہونا ہے ۔قدم قدم پر رشوت کا بازار گرم ہے ۔جاتی واد کی بنیاد پر احتساب اور جائزے کا عمل کیا جاتا ہے۔کہیں اساتذہ نہیں ہیں ،کہیں ہیں تو اسکول کی عمارت اس قابل نہیں کہ تعلیم دی جاسکے ۔بعض اساتذہ ایسے بھی ہیں جو مدتوں اسکول نہیںجاتے انھوں نے اپنے اعلیٰ ذمہ داران سے سیٹینگ کررکھی ہے ،کہیں کوئی استاذ سسپینڈ ہے لیکن آدھی تنخواہ گھر بیٹھے پا رہا ہے ۔آدھی تنخواہ بھی پچیس تیس ہزار سے کم نہیں ہے ،گھر بیٹھے مفت ملتی رہے تو کیا حرج ہے ؟جب سسپینشن ختم ہوجائے گا تو سارا پیسا مل جائے گا ۔بعض مقامات پر اساتذہ سے دوسرے اتنے کام لیے جاتے ہیں کہ تعلیم کے لیے وقت نہیں ہے ۔ایک اسکول میں ایک ٹیچر ہے اور ایک شکشا متر ہے ۔سیکڑوں بچے ہیں ،ٹیچر کو بی ایل او بنادیا گیا ہے ،وہ بے چارہ گاؤں گاؤں گھوم کر ووٹر لسٹیں بنوارہا ہے ،شکشا متر کم تنخواہ کا رونا روتا ہے ۔اب تعلیم کون دے گا ؟شکشا متر بھی ایک عجیب پوسٹ ہے ۔سرکار اس سے کام پورا لینا چاہتی ہے لیکن دام کم دینا چاہتی ہے ۔ایسے میں وہ کام کیسے کرے۔
مفت مڈ ڈے میل کے نام پر بھی کرپشن کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں ،جس ملک میں جانوروں کا چارہ انسان کھاجاتے ہوں وہاں بچوں کا کھانا کیوں کر خرد برد سے محفوظ رہ سکتا ہے ،چنانچہ مڈ ڈے میل کے نام پر سو گرام اور ڈیڑھ سو گرام کی در سے ملنے والا راشن بھی ان تک پہنچنے سے پہلے ہڑپ کرلیا جاتا ہے ،کہیں گرام پردھان اور تعلیم کے اعلیٰ عہدیدران کی ملی بھگت سے یہ صرف فائلوں میں رہ جاتا ہے کہیں ماسٹر صاحب بھی اپنا حصہ لگالیتے ہیں ۔مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جو والدین باقی کے دو وقت اور چھٹیوں کے دنوں میں تینوں وقت اپنے بچوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں وہ مڈے میل کی جگہ اپنے بچوں کو کھانا کیوں نہیںکھلا سکتے ؟میں آج تک ایک بستی کے پرائمری اسکول میں مڈے میل کے انتظار میں بیٹھے ہوئے بچوں کا منظر نہیں بھول پاتا ہوں جب میں نے دیکھا کہ آدھے ادھورے کپڑے پہنے ،اسکول کے میدان میں بچے اپنے ہاتھوں میں پلیٹ اور کٹورا لیے بڑی حسرت سے چولہے کی طرف دیکھ رہے ہیں جہاں پانی میں دلیا ابالا جارہا تھا۔ بالکل ایسے جیسے بھکاری بچے ہوں۔مجھے افسوس ہوا کہ پرائمری اسکولوں میں بھارت کا مستقبل مفت خوری کا کٹورا لیے بیٹھا ہے ۔دوسری طرف ثواب کے نام پر مدارس میں بھی بچوں کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے ۔میرا خیال ہے اس سے معصوم ذہنوں کی خودی متاثر ہوتی ہے اور ضمیر مرجاتا ہے ۔ان بچوں سے آپ کسی باوقار بھارت کی تعمیر کی توقع نہیں کرسکتے ۔اس سے بہتر یہ ہے کہ سرکار کی طرف سے خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو کم قیمت پر جو راشن دیا جارہا ہے اسی میں ان بچوں کا حصہ شامل کردیا جائے ۔اس سے اسکولوں میں کھانا بنا نے کے نام پر جو کرپشن ہے اس پر بھی لگام لگے گی اور وقت بھی بچے گا۔
پرائمری نظام تعلیم میں ناکامی کا ایک سبب یہ بھی کہ سرکار کی طرف سے نصابی کتابیں وقت پر فراہم نہیں کی جاتیں۔اس ضمن میں اترپردیش حکومت نے ابھی تک اردو کی کتابیں فراہم نہیں کیں ۔اس کی جگہ سنسکرت کی کتابیں زبردستی دی جارہی ہیں۔ایک ذمہ دارحکومت کو یہ تعصب زیب نہیں دیتا ۔کتابوں کی وقت پر عدم فراہمی اور اردو کے ساتھ متعصبانہ رویہ بھارت کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔
ایک سبب یہ بھی ہے کہ سماج کے ہوش مند اور متمول خاندان کے بچے سرکاری پرائمری اسکولوں میں نہیں پڑھتے ،بلکہ وہ پرایؤیٹ تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں ۔ظاہر ہے اس کا سبب یہی ہے کہ سرکاری اداروں میں اس معیار کی تعلیم نہیں ہے جس معیار کی پرائیوٹ اداروں میں ہے ،نہ اس معیار کی سہولیات ہیں ،دہلی حکومت نے اس جانب توجہ دی تو اس کے بہتر نتائج دیکھنے کو ملے ہیں ۔اگر اچھے اور مالدار خاندان کے بچے وہاں پڑھتے تو ان کے سرپرست ان اسکولوں پر نظر رکھتے ،اساتذہ کو بھی بازپرس کا ڈر رہتا ۔اس کے بجائے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ غریب والدین کے بچے ہی وہاں جاتے ہیں ،جن کے اندر حصول تعلیم کا کوئی ذوق اور شوق نہیں پایا جاتا ،وہ مزدوروں کی اولاد ہیں ان کے پاس کوئی بلند نصب العین بھی نہیں ہے ،ان کا لائف اسٹائل انھیں بلند خواب تک دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طبقے کی شرح ملک میں لگ بھگ ستر فیصد ہے ۔مجھے یاد ہے کہ آج سے پچیس سال قبل ایک پرائمری اسکول میں ایک اعلیٰ ذات کا شخص اپنے بچے کو لے کر پہنچا ،وہاں کے ہیڈ ماسٹر صاحب بھی اعلیٰ ذات کے تھے ۔سلام دعا کے بعد ہیڈ ماسٹر ساحب نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ یہاں کے بجائے ششو مندر میں داخلہ دلائیے ،یہاں تعلیم نہیں ہوتی ،بچے کا مستقبل برباد ہوجائے گا۔اسی اسکول میں ایک مسلمان اپنے بچے کو لے کر پہنچا،تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے بڑی آؤ بھگت کی اور کہا کہ” میاں سرکار نے آپ لوگوں کی خدمت کے لیے ہی ہمیں یہاں بھیجا ہے “۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری پرائمری اداروں میں دلت و پسماندہ اور غریب بچے ہی رہ گئے ۔
پرائمری نظام تعلیم کی ناکامی کا ایک سبب قانون کا غلط استعمال بھی ہے ۔اس بات سے سب متفق ہیں کہ بچے کو مارا پیٹا نہ جائے ۔اس سے اس کی عزت نفس کو ٹھیس لگتی ہے ۔اس کو جسمانی سزا مجرم بنا سکتی ہے یا اسکول سے دور کرسکتی ہے ۔لیکن بچہ کس طرح روزانہ اسکول آئے ،ہوم ورک کرے ،اسکول کے قوانین کا پالن کرے اس بارے میں کوئی ہدایت و رہنمائی قانون میں نہیں ہے ۔اب صورت حال یہ ہے کہ کوئی بچہ پابندی سے اسکول نہیں آتا ،امتحانات تک میں شریک نہیں ہوتا لیکن اسے فیل بھی نہیں کیا جاسکتا ۔فیل کرنے پر استاذ کی باز پرس شروع ہوجاتی ہے اسی ڈر سے استاذ پاس کرنے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔کبھی کبھی لگتا ہے کہ سرکاریں جان بوجھ کر پرائمری نظام تعلیم کو صرف فائلوں میں کامیاب دیکھنا چاہتی ہے ۔اس لیے کہ زمینی سطح پر اگر بچے لکھ پڑھ گئے تو وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہوجائیں گے اور دلت و پسماندہ و اقلیتی بچوں کی آگاہی سرکاروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔
اس صورت حال میں ہم میں سے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گاؤں اور محلے کے سرکاری اسکول کا جائزہ لے ،وہاں کے اساتذہ سے بات کرے ،ان کے مسائل سمجھے اور ذمہ دار افراد تعلیم کے اعلیٰ آفیسران تک بات پہنچائیں ،گرام پردھانوں ،نگر پالیکاؤں کے چیرمینوں اور منتخب نمائندوں کی یہ دستوری اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ان کے علاقوں میں جو بھی سرکاری ادارے ہیں ان کو قانون کے مطابق کام کرنے کے مواقع فراہم کریں اور ان کے مطلوبہ نتائج پر نظر رکھیں۔مسلم نمائندوں کو یہ کام دینی فریضے کے طور پر بھی انجام دینا چاہئے ۔مسلم تنظیمیں جو اصلاح معاشرہ اور دعوت دین کا کام کرنے کا بڑا شور مچاتی ہیں اور بڑی بڑی رپورٹیں شائع کرتی ہیں اگر وہ صرف اتنا کام کرلیں کہ اپنے دائرہ عمل میں سرکاری اداروں کو چست درست کرادیں تو بڑی تبدیلی آسکتی ہے ۔ورنہ اس وقت کی ناگفتہ بہ صورت حال سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ بھارت کا مستقبل جو ان اداروں میں زیر تعلیم ہے کسی بڑے انقلاب کا بار اپنے کاندھوں پر اٹھا سکتا ہے ۔اہل حکومت سے گزارش ہے کہ وہ صرف اعداو شمار پر اعتماد نہ کریں بلکہ زمینی حقیقت پر نظر رکھیں اور بھار ت کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist