ہندوستانی سےاست اقدار اسی وقت خالی ہوگئی تھی جب ملک مےں بھارتےہ جنتا پارٹی اور اس کے جنم داتا آر اےس اےس کا عروج حاصل ہوا تھا۔ کچھ لوگ کچھ خواہ مخواہ ےہ وہم پالے ہوئے ہےں کہ آر اےس اےس کے لوگ اےماندار، مہذب اورمعاشرے کے تئےں وفادار ہوتے ہےں۔ کسی کا اصلی اور حقےفی چہرہ اس وقت سامنے آتا ہے جب ان کے ہاتھ مےں طاقت آتی ہے۔ کسی جانور کے درندہ ہونے ےا نہ ہونے کا اندازہ اس وقت لگاےا جاسکتاہے جب اسے کھلے مےں چھوڑ دےا جائے۔ ےہی حال آر اےس اےس اور بی جے پی کا ہے۔ اگر وہ شرےف ہے( حالانکہ وہ کبھی شرےف نہےں رہی)تو اس کا اظہار قوت کے وقت ہوتا ہے۔جب آر اےس ےس کو طاقت ملی ہے اس کاہمےشہ بے جا استعمال کےا۔ ہندوستان کی آئےن پر ےقےن نہ کرنے والی ےہ تنظےم ملک کے قوانےن کی دھجےاں اڑائی ہے۔اس گروہ مےںکوئی اےسا لےڈر دکھائی نہےںدےتا جس سے کسی مہذب بات کی توقع کی جائے ۔ جب بھی بولتا ہے زہر اگلتا ہے، ےا کسی کا مذاق اڑاتا ہے، کسی پر طنز کرتا ہے، کسی کو ملک کا باغی قرار دےتا ہے تو کسی کو غدار بتاتا ہے۔کسی کو بے اےمان کہتا ہے تو کسی کو چور کے لقب سے نوازتا ہے۔ ےہ اس پارٹی کی سطح ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ گندے اور نفرت، اشتعال، دشمنی اور کسی طبقہ کے خلاف گندی ذہنےت رکھنے والی بےچ سے اچھی پےداوار کی امےد نہےں کی جاسکتی ہے۔ ےہی حال اس وقت ہندوستان کی سےاست کا ہے۔وزےر اعظم نرےندر مودی بھی اپنے مخالفےن کو ملک دشمن اور پاکستانی کہنے سے باز نہےں آتے۔ ان کی فوج کا تو کہنا کےا۔ ابھی بنارس مےں ہندو ےونےورسٹی کے اساتذہ و طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹوں کی منسوخی کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور لیڈروں پر ‘پاکستان کی طرح حکمت عملی اختیار کرنے اور بے ایمانوں کو بچانے کے لئے ‘سیاسی تحفظ فراہم کرنےوالا تک کہہ دےا۔ پاکستان دراندازوں کو بھیجنے کے لئے سرحد پر فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، "ہماری فوج ادھر مصروف ہو جاتی ہے اور دہشت گرد لپک کر گھس جاتے ہیں۔ پاکستانی فوج دراندازوں کو ‘کور دیتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح بے ایمانوں کو بچانے کے لئے اپنے ملک میں ‘سیاسی تحفظ دیا جا رہا ہے۔ ” انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جیب کترا جیسے ہی پاکٹ مار تا ہے، اس کے ساتھی پولیس کو بھٹکانے کے لئے دوسری طرف چور چور کا شور مچاتے ہیں۔ پولیس کی توجہ ہٹتے ہی جیب کترا نکل جاتا ہے۔ بے ایمانوں کو بچانے کے لئے نہ جانے کیسی کیسی ترکیبیں اختیار کی جا رہی ہیں۔مسٹر مودی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ 1970 سے ملک کی معیشت کی کور ٹیم میں تھے۔ ڈاکٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ جس ملک میں 50 فیصد لوگ غریب ہوں وہاں کیش لیس نظام کے لئے نئی ٹیکنالوجی کس طرح لائی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بتانا چاہئے کہ 10 برس وہ وزیر اعظم تھے، ملک کے وزیر خزانہ تھے پھر بھی آدھی آبادی غریب کس طرح رہ گئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسی طرح سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہہ دیا 50 فیصد گاؤں میں بجلی ہی نہیں ہے۔ انہوں نے طنز کیا، "کیا بجلی کا تار ہم نے کاٹ دیا۔ کیا ستون ہم نے اکھاڑ دیا۔ بھائی میرے، ہمیں بتائیے کہ آپ نے یہ رپورٹ کارڈ کس کا پیش کیا ہے۔ ملک میں 60 برس سے زیادہ حکومت آپ کی پارٹی کی تھی، تو یہ سب کس طرح رہ گیا۔مسٹر مودی نے کہا کہ ملک میں بڑی صفائی مہم چل رہی ہے۔ گندگی کا ڈھیر ہو گیا ہے۔گندگی کے ڈھیر کے پاس سے گزرنے سے بدبو آتی ہے۔ ایک حد تک بو محسوس ہوتی ہے لیکن جب اس کی صفائی شروع ہوتی ہے تو وہ اتنی پھیلتی ہے کہ وہاں سے گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آج کل طرح طرح کی بو محسوس ہو رہی ہے۔ میں نے بو کی صفائی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ‘بھولے باباکی زمین کا آشیرواد ہمارے ساتھ ہے۔ عوام کا اعتماد مل رہا ہے۔ گندگی کی صفائی تو ہوکر رہے گی۔
گزشتہ تقرےباَ نو برسوں سے پارلےمنٹ میں راہل گاندھی کے سوالوںکا جواب نہہےں دےتے ہےں بلکہ ہر سوال کے جواب مےں سوال کرتے ہےں۔ تان نہرو پر ٹوٹ جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے پارلےمنٹ کے موجودہ سےشن مےں گوتم آڈانی، ملک کی سلامتی، خارجہ پالےسی وغےرہ کے بارے مےں سوالات کئے تھے لےکن جواب مےں وزیر اعظم نریندر مودی نے آڈانی کے معاملے میںکانگریس لیڈر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ نو سال سے اپنی حکومت پر کچھ ٹھوس تنقید کا انتظار کر رہے ہیں لیکن انہیں اس کے بجائے صرف جھوٹے الزامات اور گالیاں ہی ملی ہیں۔لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر دو روز تک جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے ساتھ140 کروڑ ہم وطنوں کے بھروسے کی ڈھال ہے اور جھوٹ کا کوئی اسلحہ اس ڈھال کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انہیں دی گئی گالیوں اور الزامات کو کروڑوں ہندوستانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہندوستانی سماج میں مثبت سوچ کا کلچر ہے۔ ہندوستانی معاشرہ منفی کو برداشت تو کرسکتا ہے لیکن اسے کبھی قبول نہیں کر سکتا۔اڈانی معاملے پر مسٹر گاندھی کے دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے محض یہ کہا کہ جو لوگ یہ دعوی کرتے رہے ہیں کہ ہندوستان 2014 کے بعد کمزور ہوا ہے۔ وہ ہی آج حکومت پر پڑوسی ممالک کو دھمکی دے کر فیصلے کرانے کا الزام لگا رہے ہیں، انہیں پہلے یہ طے کرنا چاہئے کہ ہندوستان مضبوط ہوا ہے یا کمزور۔ 2004 اور 2014 کے درمیان یو پی اے کے دور حکومت کو تباہی کی دہائی اور 2020-30 کو ہندوستان کی دہائی قرار دیا۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے پڑھنے کا شوق رکھنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آنے والے وقت میں بڑی یونیورسٹیاں بھی کانگریس کی شکست اور اسے ڈبونے والوں پر تحقیق کریں گی۔وزیر اعظم نے کہا، ”ان کی گالیاں اور ان کے الزامات کو ان کروڑوں ہندوستانیوں سے گزرنا پڑے گا۔ کچھ لوگ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے زندگی بسرکر رہے ہیں، لیکن مودی ملک کے 25 کروڑ خاندانوں کے لیے جی رہاہے۔ میرے پاس 140 کروڑ ہم وطنوں کے بھروسے کی ڈھال ہے اور وہ اس ڈھال کو اپنے جھوٹ کے ہتھیاروں سے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ گاندھی کے نام پر سیاست کرنے والوں کو کم از کم ایک بار گاندھی کو پڑھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ لوگ اپنے فرض پر عمل کریں گے تو دوسروں کے حقوق کا تحفظ ہوگا۔ فرض اور حقوق کے درمیان لڑائی نہیں ہو سکتی۔
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا تھاکہ مودی حکومت کی ملکی، خارجہ اور اسٹریٹجک پالیسیاں اور ترقیاتی پروگرام صنعت کار گوتم اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے جارہے ہیں جس کی عالمی سطح پر تحقیق کی جانی چاہیے اور مسٹر مودی کو سیاست اور کاروبار کے درمیان اس انوکھے رشتے کے لیے ‘گولڈ میڈل دیا جانا چاہیے۔31 جنوری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر دروپدی مرمو کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر لوک سبھا میں مسٹر راہل نے مسٹر مودی پر سیدھا طنز کیااور پوچھا کہ یہ جادو کیسے ہوا کہ 2014 میں امیر ترین لوگوں کی فہرست میں 609 ویں نمبر پر رہنے والے مسٹر اڈانی 2022 میں دوسرے نمبر پر پہنچ گئے۔ کس طرح ان کی مجموعی مالیت 2014 میں 8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں 140 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔ پچھلے چار مہینوں میں انہوں نے کنیا کماری سے کشمیر تک تقریباً 3600 کلومیٹر پیدل یاترا کی۔ اس یاترا میں انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ عوام کی آواز کو بہت گہرائی سے سننے کا موقع ملا۔ آج کل سیاست میں پیدل چلنے کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ سیاست دانوں نے گاڑیوں، ہیلی کاپٹروں اور ہوائی جہازوں میں چلنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں یاترا کے دوران لوگ آتے تھے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ بے روزگاری اور مہنگائی کی بات کرتے تھے۔ تقریباً 500-600 کلومیٹر کے بعد عوام کی آواز گہرائی سے سنائی دینے لگی اور یاترا خود ہی بات کرنے لگی۔ اتنے لوگوں سے بات کرتے ہوئے میری (مسٹر گاندھی کی) آواز بند ہو گئی۔ کسان، نوجوان، طالب علم، قبائلی وغیرہ آئے۔ بے روزگاری کی بات کی تو پردھان منتری انشورنس اسکیم کی قسطیں ادا کرتے ہیں لیکن کلیم نہیں ملتا۔ قبائلیوں کی زمینیں چھین لی جاتی ہیں۔ پہلے جو ملتا تھا اب نہیں مل رہا۔ کسانوں نے کم از کم امدادی قیمت، کسان بل کا مسئلہ اٹھایا۔ اگنی ویر کی کہانی منظر عام پر آگئی۔کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ یاترا کے دوران نوجوانوں اور سابق فوجی افسران نے اگنی ویر کے بارے میں بتایا کہ یہ اسکیم فوج کی طرف سے نہیں آئی ہے۔ یہ وزارت داخلہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی طرف سے آئی ہے۔ یہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے فوج پر تھوپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق فوجی افسران کہتے ہیں کہ اس سے ملک کمزور ہو جائے گا۔ ہم ہزاروں لوگوں کو ہتھیاروں کی تربیت دے رہے ہیں۔ کچھ عرصے بعد وہ سوسائٹی میں واپس آجائیں گے۔ معاشرے میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔ اس سے معاشرے میں تشدد کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ صدر کے خطاب میں اگنی ویر اسکیم کے بارے میں صرف ایک جملہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ بے روزگاری کا ایک لفظ تک نہیں ہے۔ مہنگائی کا کوئی لفظ نہیں ہے۔ یاترا کے دوران انہیں ہم وطنوں کی تکالیف کے بارے میں جو کچھ بھی سننے کو ملا، صدر کے خطاب میں ایک بات بھی نہیں تھی۔ یاترا کے دوران انہوں نے کیرالہ، تمل ناڈو، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، پنجاب، جموں و کشمیر میں ایک نام یکساں سنا، وہ نام اڈانی تھا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ اڈانی کسی بھی کاروبار میں آتا ہے اور کبھی ناکام نہیں ہوتا ہے۔ یہ کیسے ہو رہا ہے، ہم بھی سیکھنا چاہتے ہیں۔لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ گوتم اڈانی 2014 سے پہلے تین سے چار شعبوں میں کام کرتے تھے۔ اب وہ آٹھ سے دس شعبوں میں کام کررہے ہیں۔ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، قابل تجدید توانائی، اسٹوریج وغیرہ کے شعبوں میں کام کررہے ہیں۔ اڈانی ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں سیب کا کاروبار کریں گے۔ ہوائی اڈے، بندرگاہیں اڈانی چلائیں گی۔ آخر اڈانی جی کو یہ کامیابی کیسے ملی؟ ان کا ہندوستان کے وزیر اعظم سے کیسا رشتہ ہے؟ سال پہلے ایک اصول تھا کہ جو لوگ ہوائی اڈے کے کاروبار میں نہیں ہیں انہیں ہوائی اڈے کے کاروبار میں آنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن اس اصول کو تبدیل کر کے چھ ہوائی اڈے اڈانی کو دے دیے گئے ہیں۔ ہندستان نے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ہوائی اڈے کھو دیے۔ ممبئی ایئرپورٹ جی وی کے کے نزدیک تھا۔ ایجنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے جی وی کے سے ہوائی اڈہ چھین کر اڈانی کو دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کا 24 فیصد ہوائی ٹریفک اور 31 فیصد ہوائی کارگو اڈانی کے تحت چل رہا ہے۔
حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی اور دفاعی پیداوار میں بھی مسٹر اڈانی کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اڈانی کو دفاعی صنعتوں کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے حوالے سے غلط الزامات لگائے۔ 126 طیاروں کا ٹھیکہ انیل امبانی کو دیا گیا تھا لیکن انیل امبانی نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا۔ مسٹر اڈانی نے ایلبائٹ کمپنی کے ساتھ مل کر ڈرون تیار کرنا شروع کیا ہے اور یہ ڈرون فوج کو فروخت کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم اسرائیل کے دورے پر جاتے ہیں اور اس کے فوراً بعد مسٹر اڈانی کو یہ ٹھیکہ مل جاتا ہے، آج مسٹر اڈانی سنائپر رائفلیں، ڈرون اور بہت سے اہم دفاعی ساز و سامان بناتے ہیں۔ انہیں ہندوستان کا پہلا ایم آر او قائم کرنے کا کام بھی ملا ہے۔ اگر آپ آسٹریلیا جائیں تو وہاں کے بینکوں سے آپ کو ایک ارب ڈالر کا خطیر قرض فوراً مل جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کے اپنے پہلے دورے پر مسٹر اڈانی کو 1500 میگاواٹ پاور پلانٹ لگانے کا 25 سال کا طویل مدتی ٹھیکہ مل جاتا ہے۔ سری لنکا کی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں سرکاری پاور کمپنی کے سربراہ نے صدر راجا پکشے کے حوالے سے کہا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم مسٹر مودی ہوا سے چلنے والے پاور پلانٹ کا ٹھیکہ اڈانی گروپ کو دینے کے لیے دبا ڈال رہے ہیں۔ پوری دنیا، خاص طور پر امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کو اس بات پر تحقیق کرنی چاہئے کہ سیاست اور کاروبار کے درمیان کس قسم کا رشتہ ہے۔ وزیراعظم کو ایسے باہمی فائدہ مند تعلقات کے لیے گولڈ میڈل دیا جانا چاہیے۔
اےک وقت تھا جب سےاست منجھے ہوئے ، معاشرہ مےں بے پناہ خدمات انجام دےنے والے،عوا می حقوق کے لئے گالےاںبرداشت کرنے والے، لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے پولےس کی لاٹھےاں کھانے والے، ٹوٹی پھوٹی چپل اور موٹے جھوٹے کھدر کے کپڑے پہننے والے اور اخلاقی اعلی معےار کے ہر سانچے مےں ڈھل کر سےاست مےں قدم رکھتے تھے،رکھتے نہےں تھے بلکہ انہےں عوام سےاست مےں دھکےل دےاجاتا تھا اور وہ اپنے لوگوں کی امےدوں پر کھرے اترنے کی حتی الامکان کوشش کرتے تھے۔ وہ اپنے عوام کی بھلائی کے لئے ہر لمحہ تےار رہتے تھے۔ کوئی بھی شخص ان سے کسی بھی وقت مل سکتا تھالےکن اب وقت بدل گےا ہے طرےقے بدل گئے ہےں۔ےہ باتےں ہندوستانی سےاست مےں اب داستان پارےنہ کی حےثےت رکھتا ہے۔ہندوستانی سےاست مےں اخلاقےات عنقا ہوتی جارہی ہے،سےاستدانوں کا زبان پر کنٹرول نہےں رہا۔ انہےں ےہ پتہ نہےں چلتا کہ وہ کےا کہہ رہے ہےں اس کا کےا مطلب نکلتا ہے۔ ذاتی حملے اور کسی کی ذات پر کےچڑ اچھالنا اتنا آسان ہوگےا ہے اس سے سہل کوئی چےز نہےں رہی۔ کسی بھی پارٹی کے لےڈر اس معاملے مےں دودھ کے دھلے نہےں،فرق صرف اعلی، اوسط اور ادنی کا ہے۔
تیشہـ فکرعابد انور












