نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے ملک میں گیس سلنڈر کے لیے عوام کی لمبی قطاروں کے باوجود مودی حکومت کے اس دعوے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے کہ ملک میں کوئی گیس بحران نہیں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ جب ملک میں گیس کا کوئی بحران نہیں ہے تو پھر عوام لائنوں میں کیوں کھڑی ہے؟ کیا حکومت عوام کو بے وقوف سمجھتی ہے؟ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایوان میں 57 ہزار کروڑ روپے کا اضافی بجٹ کیوں پاس کروایا؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں گیس کا بحران خود بخود نہیں آیا بلکہ مودی جی اسے خود لے کر آئے ہیں۔ آخر انہیں جنگ سے دو دن پہلے اسرائیل جانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا ایپسٹین فائل کی وجہ سے مودی جی امریکہ کے دباؤ میں ہیں یا پھر اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ملک کو گیس بحران میں دھکیل دیا گیا ہے؟ منگل کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ اس وقت پورا ملک گیس بحران کی وجہ سے لائنوں میں کھڑا ہے۔ گیس سلنڈر 7 سے 10 ہزار روپے تک بلیک میں فروخت ہو رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں ہوٹل، دہلی ہائی کورٹ کی کینٹین اور کئی ہاسٹلز کی کینٹین بند ہو چکی ہیں۔ ملک بھر سے ایسی تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔ بنیادی ضروریات کے لیے استعمال ہونے والے سلنڈروں کی سپلائی تقریباً بند ہو چکی ہے، لیکن مرکزی حکومت کے ترجمان دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں کوئی کمی یا بحران نہیں ہے اور یہ صرف اپوزیشن کا الزام ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم کو بتانا چاہیے کہ کیا سخت دھوپ میں لائنوں میں کھڑی عوام بے وقوف ہے؟ کیا گیس سلنڈر کے لیے پریشان وہ خاتون یہ سب جان بوجھ کر کر رہی ہے؟ وزیراعظم کی آبائی ریاست گجرات کے موربی میں سینکڑوں فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، کیا وہ خوشی سے بند کی گئی ہیں؟ ممبئی، چنئی، بنگلورو اور کولکاتا میں ہوٹل بند ہو رہے ہیں۔ ایک طرف ملک شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے اور دوسری طرف حکومت عوام کا مذاق اڑا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیر کے روز پارلیمنٹ میں حکومت نے اقتصادی استحکام فنڈ کے تحت 57 ہزار کروڑ روپے منظور کروائے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 2,81,000 کروڑ روپے کا اضافی بجٹ پاس کیا گیا، جس میں سے 57 ہزار کروڑ موجودہ جنگی حالات سے نمٹنے کے لیے ہیں۔ اگر واقعی جہاز آ رہے ہیں اور صورتحال معمول پر ہے تو پھر گیس بحران کیوں برقرار ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ صرف دو جہاز آئے ہیں جبکہ 22 اب بھی پھنسے ہوئے ہیں؟سنجے سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم کو بحران کے وقت جھوٹ بولنا بند کرنا چاہیے۔ یہ بحران خود نہیں آیا بلکہ لایا گیا ہے اور اس کے ذمہ دار خود وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایران جیسے پرانے دوست ملک سے تعلقات خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ امریکہ اور اسرائیل کی خوشنودی کے لیے ملک کو بحران میں کیوں ڈالا گیا؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اسرائیل دورے کے دو دن بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔












