دمشق (یو این آئی)سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سرکاری دورے پر شام پہنچ گئے ہیں جہاں وہ شام کی نئی انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع سے ملاقات کریں گے۔ لبنان پہنچنے کے چند گھنٹے بعد ایک شامی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان دمشق کا دورہ کریں گے اور شام کی نئی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔
شام کے حوالے سے ریاض کے حالیہ بیانات سے کچھ حوصلہ ملا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے ڈیووس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ شام کے حوالے سے "محتاط امید” رکھتے ہیں۔ یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ شام کی نئی انتظامیہ خفیہ اور عوامی سطح پر صحیح باتیں کہہ رہی ہے۔ شام صحیح سمت میں آگے بڑھنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے کے لیے کھلا ہے۔ شام عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرنے اور اس کے ساتھ جوابدہ طریقے سے نمٹنے کی بڑی خواہش اور فیصلہ کن ارادہ رکھتا ہے۔ نئی شامی انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع نے کہا ہے کہ ترکیہ کے لئے خطرات پیدا کرنے والے دہشت گرد گروپوں کو شامی سرزمین پر پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔شرع نے جاری کردہ بیان میں شام کے ساتھ تعاون پر صدر رجب طیب اردوعان اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ غیر ملکی دہشت گرد عناصر کو شام سے نکل جانا چاہیے۔
احمد الشرع نے، دہشت گرد تنظیم پی کے کے/وائی پی جی کی ملک میں موجودگی کے بارے میں واضح اور دو ٹوک پیغامات جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم بھی اُسی موقف پر عمل پیرا ہیں جس پر ترکیہ ہے۔ ہم اپنے ملک میں غیر ملکی مسلح گروپوں کی موجودگی نہیں چاہتے اور خاص طور پر ترکیہ کے لئے خطرہ بننے والے عناصر کو شامی سرزمین پر پنپنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے دن سے ہی کہہ دیا تھا کہ تمام گروپ اسلحہ پھینک کر وزارت دفاع کے پلیٹ فورم پر جمع ہو جائیں گے۔ سوائے پی کے کے/وائی پی جی کے سب نے یہ بات قبول کر لی ہے۔ دہشتگرد تنظیم پی کے کے/وائی پی جی میں غیر شامی عناصر موجود ہیں۔ ان افراد کا شام سے نکلنا ضروری ہے۔احمد الشرع نے کہا ہے کہ پی کے کے/وائی پی جی، داعش کو کٹھ پُتلی کی طرح استعمال کر رہی ہے اور اس صورتحال کی، بین الاقوامی سطح پر ،اصلاح ضروری ہے۔انہوں نے شامیوں سے وطن واپسی کی اپیل کی اور بین الاقوامی برادری سے شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔












