ایسے لوگ کم پیدا ہوتے ہیں ، صدیوں یاد رکھے جاتے ہیں۔ علی گڑھ آج بھی ان پر فخر کرتا ہے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے اپنی پوری عملی زندگی علم کی خدمت اور طلبہ کی تربیت کے لیے وقف کر دی۔
تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے عہد میں محض زندہ نہیں رہتے بلکہ اپنے علم، کردار اور فکر سے زمانے کی سمت متعین کرتے ہیں۔ پروفیسر شکیل احمد سمدانی بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے علم کو عمل، قانون کو انصاف اور تدریس کو سماجی اصلاح سے جوڑ کر ایک زندہ روایت قائم کی۔ وہ صرف ایک استاد یا قانون داں نہیں تھے بلکہ ایک مکمل فکری ادارہ تھے۔ 1961 میں ضلع جونپور میں پیدا ہونے والے شکیل احمد سمدانی نے آغاز ہی سے علم کو مقصدِ حیات بنایا۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی، فکری پختگی اور سماجی درد نمایاں تھا۔ یہی اوصاف انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تک لے آئے، جہاں انہوں نے اپنی پوری عملی زندگی علم کی خدمت اور طلبہ کی تربیت کے لیے وقف کر دی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی:
ایک ادارہ، ایک وابستگی
1989 سے 2021 تک تین دہائیوں سے زائد عرصے میں پروفیسر شکیل احمد سمدانی فیکلٹی آف لا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مضبوط ستون رہے۔ وہ اسلامی فقہ، مسلم پرسنل لا، انسانی حقوق، آئینی قانون اور پبلک انٹرنیشنل لا جیسے اہم اور حساس مضامین پر غیر معمولی دسترس رکھتے تھے۔ ان کی تدریس محض کتابی علم تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ طلبہ کو سوچنا، سوال کرنا اور دلیل کے ساتھ بات کرنا سکھاتے تھے۔ ان کی کلاس میں بیٹھنا ایک فکری تجربہ ہوتا تھا۔ وہ قانون کو دفعات کا مجموعہ نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی عملی شکل قرار دیتے تھے۔
ڈین فیکلٹی آف لا: اختیار نہیں، خدمت
بطور ڈین فیکلٹی آف لا، پروفیسر شکیل سمدانی نے انتظامی منصب کو طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔ ان کے دور میں فیکلٹی آف لا میں تحقیقی ماحول مضبوط ہوا، علمی مکالمے فروغ پائے اور طلبہ میں خود اعتمادی پیدا ہوئی۔ وہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے قابلِ اعتماد رہنما تھے۔
وہ اکثر کہا کرتے تھے: قانون کی اصل روح کمزور کو طاقت دینا ہے۔
قانونی فکر اور آئینی استدلال
پروفیسر شکیل احمد سمدانی کا قانونی نقطۂ نظر ہمیشہ آئینِ ہند کی بنیادی دفعات،خصوصاً آرٹیکل 14 (مساوات)، آرٹیکل 21 (حقِ زندگی) اور آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی) کے گرد مرکوز رہا۔ مسلم پرسنل لا، یکساں سول کوڈ اور مذہبی حقوق جیسے موضوعات پر انہوں نے جذبات سے ہٹ کر آئینی منطق اور قانونی دلائل پیش کیے۔ ان کی کتاب Uniform Civil Code: Problems and Prospects ہندوستان میں سنجیدہ قانونی مباحث کا اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح طلاق یافتہ مسلم خواتین کے نان و نفقہ پر ان کی تحریریں یہ واضح کرتی ہیں کہ وہ مذہبی اصولوں اور آئینی انصاف کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرنے والے قانون داں تھے۔
پی ایچ ڈی اور ریسرچ: فکری تربیت کا مرکز
پروفیسر سمدانی کا سب سے نمایاں کردار پی ایچ ڈی اور ریسرچ کے میدان میں رہا۔ وہ محض سپروائزر نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں فکری مربی تھے۔ ان کے نزدیک پی ایچ ڈی محض ڈگری نہیں بلکہ ایک علمی ذمہ داری تھی۔
وہ تحقیق میں:
اصل ماخذ
حوالہ جاتی دیانت
دلیل کی مضبوطی
اور فکری توازن
پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ ان کے زیرِ نگرانی تحقیق مکمل کرنے والے اسکالرز آج ملک اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیمی و قانونی مناصب پر فائز ہیں۔
خطابت: وقار کے ساتھ جرات
پروفیسر شکیل احمد سمدانی ایک شاندار مقرر تھے۔ ان کی تقریر میں شور نہیں بلکہ وزن ہوتا تھا۔ وہ ٹی وی مباحثوں، علمی کانفرنسوں اور عوامی اجتماعات میں دلیل کے ساتھ بات کرتے تھے۔ ان کی گفتگو ہمیشہ شائستہ، متوازن اور سنجیدہ ہوتی تھی، جس کی وجہ سے مخالفین بھی ان کی بات غور سے سننے پر مجبور ہو جاتے تھے۔
سرسید اویئرنیس فورم: فکر کی بیداری
سرسید احمد خان کی فکر کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے پروفیسر سمدانی نے سرسید اویئرنیس فورم قائم کیا۔ یہ فورم محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک فکری تحریک بن گیا، جس کے ذریعے تعلیمی اصلاح، سماجی شعور اور فکری بیداری کو فروغ ملا۔ ان کا ماننا تھا کہ سرسید کا پیغام آج بھی اتنا ہی زندہ اور مؤثر ہے جتنا اپنے دور میں تھا۔
عالمی اعتراف اور اعزاز
پروفیسر شکیل احمد سمدانی کو ان کی علمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں Herz Dr. Gerhard Glinzerer Award سے نوازا گیاتھا۔ یہ اعزاز اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کی فکر اور خدمات عالمی سطح پر بھی تسلیم کی گئیں۔
2021 ایک خاموش دن رہا ، ایک بڑا نقصان علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو ہوا ، جو اس صدی میں کبھی نہیں آئے گا ، اور انکی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا ، صرف ان کی یادیں ہیں ہمارے دلوں میں موجود ہیں جب تک زندہ رہیں گے انکی یادیں تازہ رہیں گی، پروفسر شکیل صمدانی کی یادیں دل سے نہیں نکلتی ، انکا اندازے گفتگو دل چھو جاتا تھا ، مجھے وہ دن بہت یاد آتا ہے جب شکیل صاحب کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا بطور ڈین فیکلٹی آف لا، موقرّر کیا گیا تھا ،جب مجھے پتہ چلا کے شکیل صاحب ڈین بن گئے ہیں ان سے ملنے دہلی سے علیگڑھ فیکلٹی آف لا گیا میٹنگ چل رہی تھی کسی پروگرام کے سلسلے میں مجھے بتایا گیا کہ میٹنگ چل رہی ہے ، اپنا کارڈ دے دیں ،کارڈ ملتے ہی انہوں نے فورن بولا لیا ، اور وہاں جتنے بھی طلب علم تھے ان سبھی سے ملاقات کرائی ، یہ ہمارے خلد مصطفیٰ بھائی ہیں اور ہمارے لئے بیش قیمتی ہیں اور ہم سے ملنے دہلی سے آئے ہیں ڈین بنا ہوں اسی کی خوشی میں ، انکو پھولوں کا گلدستہ دیا تھا بہت خوش ہوئے تھے وہ لمحہ دل سے بیان نہیں کیا جاسکتا ، کیا پتہ تھا وہ میری آخری ملاقات ہوگی ، کئی سال گزرنے کے بعد بھی ایسا لگاتا ہے وہ ہمارے ارد گرد ہیں انکی باتیں انکی یادیں آج بھی دلوں میں موجود ہیں۔2021 میں ان کی وفات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھی۔ یہ صرف ایک استاد کا انتقال نہیں تھا بلکہ علم، فکر اور اخلاق کے ایک روشن چراغ کا بجھ جانا تھا۔ تاہم ان کی فکر، ان کے شاگرد اور ان کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں۔
خراجِ عقیدت:پروفیسر شکیل احمد سمدانی ان اساتذہ میں سے تھے جو خود کو پسِ منظر میں رکھ کر دوسروں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ایسے لوگ کم پیدا ہوتے ہیں مگر صدیوں یاد رکھے جاتے ہیں۔ علی گڑھ آج بھی ان پر فخر کرتا ہے، اور ان کے شاگرد ان کی فکر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں علم کو کردار اور انصاف کے ساتھ برتنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔












