لکھنؤ (یواین آئی) بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بہوجن سماج کے لوگ پارٹی اور اس کی قیادت سے امید وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب کے آئین اور ان کے انسان دوست نظریات کو ماننے والے افراد سماجی تبدیلی اور معاشی آزادی کے لیے بی ایس پی کی حمایت کر رہے ہیں۔ پارٹی ہمیشہ غریبوں، کسانوں اور بہوجن سماج کے مفادات کے لیے پرعزم رہی ہے اور آئندہ بھی اسی سمت میں کام کرتی رہے گی۔ محترمہ مایاوتی کی صدارت میں اتوار کو مال ایونیو واقع مرکزی کیمپ دفتر میں آل انڈیا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تنظیم کو مضبوط بنانے، تمام طبقات میں عوامی حمایت وسیع کرنے اور ملک کے مختلف سیاسی و سماجی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پارلیمنٹ میں حالیہ کشیدگی اور تعطل سمیت عوامی مفاد سے جڑے اہم امور پر گفتگو کرتے ہوئے بہتر سیاسی اور سماجی ماحول کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے ریاستوں کی پیش رفت رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مشن ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے خود اعتمادی اور خودداری کے تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے پارٹی مضبوط ہوتی ہے، مخالفین کی سازشیں بھی بڑھتی ہیں، لیکن کارکنوں کو ان چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے اقتدار کے ہدف کی جانب مسلسل آگے بڑھنا ہوگا۔ محترمہ مایاوتی نے دیگر سیاسی جماعتوں پر بڑے سرمایہ داروں کے اثر میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی اپنے حامیوں کے تعاون سے چلنے والی جماعت ہے اور آئین کے بنیادی مقاصد کی تکمیل کے لیے پابند عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف جماعتوں کی پالیسیوں اور طرز عمل کے باعث ان کی ساکھ کمزور ہو رہی ہے، جبکہ بی ایس پی اپنے سروجن ہتائے، سروجن سکھائے” کے اصول پر چلتے ہوئے عوام کے درمیان نئی امید کے طور پر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ مکمل خلوص اور لگن کے ساتھ بہوجن سماج کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں اور تنظیم کو زمینی سطح پر مضبوط بنائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایسے عناصر سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا جو ذاتی مفاد کی خاطر بہوجن تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مایاوتی نے بین الاقوامی تجارتی معاہدوں، خصوصاً امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی ڈیل پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو فیصلے کرتے وقت کسانوں اور بہوجن سماج کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ان کے حقوق اور مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔












