• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 21, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

مدارس اسلامیہ کا تحفظ وقت کی بڑی ضرورت

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 9, 2023
0 0
A A
مدارس اسلامیہ کا تحفظ وقت کی بڑی ضرورت
Share on FacebookShare on Twitter

ہندوستان میں مدارس کی تاریخ بہت قدیم ہے ، مدارس کے قیام کے پس منظر کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مدارس کے قیام کا مقصد شروع ہی سے یہ رہا ہے کہ اس میں بنیادی طور پر ایسی تعلیم کا انتظام کیا جائے گا ،جس سے دین و شریعت کی حفاظت ہوسکے ، اور مدارس کے فارغین امت مسلمہ کی دینی ضرورتوں کی تکمیل کر سکیں ، مدارس سے مولانا ،عالم ،فاضل ، مفتی ،قاضی ، امام ،خطیب اور ماہرین دین و شریعت بن کر نکلیں ، جو ملت و امت کی دینی ضرورت پوری کر سکیں ، چونکہ مسلم امت اور ملت کو اس کی ضرورت ہمیشہ رہی کہ ملت اسلامیہ میں ایسے افراد ہمیشہ دستیاب ہوں ،جو دین و شریعت میں ان کی رہنمائی کر سکیں ، ایسا نہیں کہ صرف مسلم سماج کو اس کی ضرورت ہے ، بلکہ ملک کے بسنے والے تمام مذہبی طبقات کو اس کی ضرورت رہی ہے اور آج بھی ہے ، یہی وجہ ہے کہ برادران وطن میں بھی مذہبی تعلیم کے لئے تعلیم گاہیں الگ الگ ہیں ، ہندو دھرم کے پاٹھ شالے اور بڑے مذہبی ادارے ہیں ، جہاں سے بڑے بڑے پنڈت نکلتے ہیں ، عیسائی ، بودھ اور جین کے اپنے اپنے مذہبی تعلیمی ادارے ہیں ، ان سے ان کے مذہب کے ماہرین پوپ ، پادری اور دیگر مذہبی پیشوا نکلتے ہیں ،سکھوں کے بھی مذہبی ادارے ہیں ،جہاں سے پڑھ کر ان کے گرو نکلتے ہیں ، ہمارا ملک سیکولر ہے ، آئین سے چلتا ہے ، ملک کا آئین اس طرح کے مذہبی اداروں کو چلانے کی اجازت دیتا ہے ۔
مدارس بھی مسلمانوں کے مذہبی ادارے ہیں ،سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلم سماج کے صرف ۴؍ فصدبچے مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان مدارس میں ضرورت کے مطابق عصری تعلیم دی جاتی ہے ، مگر اس کا فوکس اس پر ہوتا ہے کہ ان اداروں میں ایسے افراد تیار کئے جائیں ، جو دین و شریعت سے متعلق علوم و فنون میں ماہر ہوں ، تاکہ وہ دین و شریعت کی رہنمائی کر سکیں ، مساجد میں امام و خطیب کے فرائض انجام دیں ، مفتی بن کر فتویٰ دیں اور ملک میں پھیلے دارالافتاء کے نظام کو سنبھالیں ، اور قاضی بن کر دارالقضاء کے نظام کو آگے بڑھائیں اور مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والے نزاعات بالخصوص نکاح ، طلاق ، اوقاف و دیگر معاملات میں دین و شریعت کے مطابق فیصلہ کریں ، اور آپس میں میل و محبت کی فضا کو ہموار کریں ، ملک کے بسنے والے لوگوں کے درمیان تعلیم کو عام کریں ، برادران وطن کے درمیان قومی یکجہتی کو فروغ دیں ، اور مذہب اسلام کے امن و شانتی ، مذہبی رواداری ، قومی یکجہتی اور حب الوطنی کی تعلیم دے کر مثالی شہری پیدا کریں ، مذکورہ مقاصد کو پیش نظر رکھ کر مدارس کا نصاب تعلیم مرتب کیا گیا ہے ، مدارس کے نصاب تعلیم میں عصری مضامین بھی ہیں ، مگر فوکس اسلامی علوم فنون پر ہے ، میرے مطالعہ اور تجربہ کے مطابق مدارس اپنے مقاصد میں صد فیصد کامیاب ہیں۔ماضی میں ملک کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے مجاہدین کی ضرورت پڑی ، تو مدارس نے ایسے مجاہدین پیدا کئے ،جنہوں نے ملک کو آزاد کرانے کے لئے سب سے پہلے تحریک شروع کی ، اور تحریک کے ذریعہ ملک کو آزاد کرانے کے لئے بیداری پیدا کی ، اپنی تحریر ، تقریر اور اپنی قربانیوں کا ایک ریکارڈ قائم کردیا ، جو تاریخ آزادی کا ایک اہم باب ہے ، آج بھی جب کوئی قدرتی حادثہ پیش آتا ہے ، سیلاب جائے ،آندھی طوفان اجائے ، آگ کا حادثہ پیش اجائے ، ایکسیڈنٹ ہو جائے ، زلزلہ اجائے ، انسانی جذبہ کے پیش نظر ہر جگہ مدارس کے لوگ نظر آتے ہیں ، چونکہ مدارس میں انسانیت کی پختہ تعلیم دی جاتی ہے ، انسانی اقدار کو مضبوط کرنا مدارس کے قیام کا مقصد ہے ، مدارس کی تعلیم میں انسانی اقدار ، سماجی خدمات ، اخلاقی قدروں کو پختہ کرنا بھی شامل ہے ، مدارس میں حقوق و فرائض کی مضبوط تعلیم دی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ مدارس کے اساتذہ ،طلبہ اور فارغین حقوق و فرائض کی ادائیگی میں مضبوط ہوتے ہیں ، اس طرح مدارس مثالی شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ہندوستان میں قیام مدارس کے مقاصد میں مثالی شہری پیدا کرنااور سچا محب وطن پیدا کرنا بھی رہا ہے ، اس طرح مدارس ان مقاصد کے حصول میں بھی کامیاب ہیں ۔
ملک میں تعلیم کو عام کرنا اور لوگوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے کوشش حکومت کی ذمہ داری ہے ، حکومت اس کے لئے بڑی رقم خرچ کرتی ہے ، یہ کام مدارس بھی کرتے ہیں ، مدارس کے مقاصد میں تعلیم کو عام کرنا بھی شامل ہے ، اس طرح مدارس تعلیم کو عام کرنے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں ، بالکل غریب طبقہ کے بچے بچیوں کو تعلیم دیتے ہیں ، ان کے مفت قیام و طعام کا انتظام کرتے ہیں ، غریب فیملی کے زیادہ تر بچے بچیاں مدارس ہی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ، اس کی وجہ سے شرح خواندگی بڑھتی ہے ، اس طرح یہ حکومت کے بھی مددگار ہیں ۔
جہاں تک مسلمانوں کی ضروریات کی بات ہے تو ان کی ضرورت اور ان کی تکمیل میں مدارس کتنے معاون ہیں ،اس کا ایک مختصر جائزہ بھی پیش کیا جارہا ہے۔
(1) تعلیمی ضرورت : دینی تعلیم کا انتظام مدارس کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے ، مسلم سماج کو تعلیم کی سخت ضرورت ہے ، اس ضرورت کو بڑی حد تک مدارس پورا کر رہے ہیں ، مسلم سماج کے لوگوں کے نزدیک دین کی تعلیم بنیادی ضرورت ہے ، چونکہ دین سے وابستگی دینی تعلیم ہی پر منحصر ہے ، اس لئے دین کے سلسلہ میں ضروری معلومات سے بچوں کو آراستہ رکھنا وہ بنیادی ضرورت سمجھتے ہیں ، اس ضرورت کی تکمیل مدارس کرتے ہیں ، اس طرح اس مقصد کو پورا کرنے میں مدارس کامیاب ہیں۔
(2) مساجد کے لئے امام و خطیب کی فراہمی : مدارس کے قیام کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد مساجد کے لئے امام و خطیب فراہم کرنا ہے ، نماز دین کا ستون ہے ، نماز کی ادائیگی کے لئے مساجد کی تعمیر کی جاتی ہے ، مساجد میں نماز پڑھانے کے لئے اور وعظ و نصیحت کے لئے امام و خطیب کی ضرورت پڑتی ہے ، یہ بڑی اہم ضرورت ہے ، ملک کے شہروں اور دیہاتوں میں لاکھوں لاکھ مساجد ہیں ، ہر ایک کے لئے امام و خطیب کی ضرورت ہے ، یہ بڑی اور اہم ضرورت ہے ، اس ضرورت کی تکمیل مدارس کرتے ہیں کہ ان سے حفاظ، علماء اور خطباء نکلتے ہیں جو ان ضروریات کو پورا کرتے ہیں ،اس طرح مدارس اس ضرورت کو پورا کرنے میں بھی کامیاب ہیں۔
(3) اساتذہ و معلمین کی فراہمی : مسلمانوں کی تعداد کئی کڑور ہے ، ہر ایک کے لئے بنیادی دینی تعلیم ضروری ہے ، مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے مدارس اور مکاتب کی بھی ضرورت ہے ، تاکہ ہر ایک کے لئے دینی تعلیم کا انتظام کیا جاسکے ، آبادی کے اعتبار سے مسلمانوں کو دینی تعلیم کے لئے مکاتب اور مدارس کی ضرورت ہے ، ہر مکتب اور مدرسہ میں مختلف مضامین کی تعلیم کے لئے اساتذہ و معلمین کی ضرورت ہے ، اس ضرورت کو مدارس پورا کر تے ہیں ، جس کی وجہ سے مسلم سماج میں دینی تعلیم کی حفاظت ہورہی ہے ، اس مقصد کی تکمیل میں بھی مدارس پورے طور پر کامیاب ہیں۔
(4) دین کی تبلیغ اور وعظ و نصیحت کی ضرورت : سماج میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، اچھے بھی ہوتے ہیں ، اور خراب بھی ، سماج کو اچھا اور بہتر رکھنے کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت ہوتی ہے ، اس کام کو اچہے طور پر وہی لوگ انجام دیتے ہیں جو اس میں مہارت رکھتے ہیں ، اس کام میں مہارت رکھنے والے اکثر مبلغین ہوتے ہیں ، جو لوگوں کو وعظ و نصیحت کے ذریعہ اچہے کاموں کی طرف راغب کرتے ہیں اور برائیوں سے خبردار کرتے ہیں ، مدارس کے قیام کے مقاصد میں یہ بھی شامل ہے ، اس میں بھی مدارس کامیاب ہیں۔
(5) ملی ضرورتوں کی تکمیل : مسلم سماج کے درمیان اہل مدارس احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ لوگ سماج کے دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں علماء طبقہ پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں ، اس لئے لوگ ملی کاموں کے لئے ان پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں ،مدارس کے قیام کے مقاصد میں اتحاد ملت اور ملی ضرورتوں کی تکمیل بھی ہے ، اس کو مدارس اور اہل مدارس بخوبی انجام دیتے ہیں ، اس شعبہ میں بھی مدارس صد فیصد کا میاب ہیں۔
(6) تزکیہ : مدارس کے قیام کے مقاصد میں جہاں قرآن،احادیث اور دینی علوم و فنون کی تعلیم ہے ،وہیں ایسے افراد کو پیدا کرنا بھی ہے ، جو خود متقی و پرہیز گار ہوں اور وہ دوسرے لوگوں کا تزکیہ کر سکیں ، اللہ کا شکر ہے کہ مدارس اس میں کامیاب ہیں۔
(7) سرکاری تعلیمی اداروں میں خالی عہدوں پر تقرری : مدارس میں سے کچھ ایسے ہیں ،جو حکومت کے ذریعہ قائم بورڈ سے ملحق ہیں ، ان کے قیام کے مقاصد میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری مضامین کی تعلیم دینا ہے ، تاکہ وہ دین کے واقف کار بھی رہیں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں سرکاری عہدوں پر بحال ہو سکیں ، یہ مدارس بھی اپنے مقاصد میں کامیاب ہیں ، اس کے فارغین پرائمری ، مڈل ، ہائی اسکول ،کالج اور یونیورسٹیوں میں بحال ہوتے ہیں ، اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں حصہ لیتے ہیں ، سرکاری دفاتر میں ان کی تقرری ہوتی ہے ، اس طرح وہ مدارس بھی اپنے مقاصد میں کامیاب ہیں ۔
(8) قومی یکجہتی کا فروغ : مدارس تعلیم کی جگہ ہے ، ماضی میں مدارس ہی تعلیم کے بڑے ادارے تھے ، ان میں جہاں مسلم سماج کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے ، وہیں برادران وطن کے بچے بھی مدارس میں تعلیم حاصل کرتے تھے ، چنانچہ تاریخی روایت کے مطابق ملک کے سابق صدر جمہوریہ آنجہانی ڈاکٹر راجندر پرشاد نے بھی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ، پروفیسر سچیدانند سنہا نے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی ، پٹنہ میں تعلیم حاصل کی ، اس طرح ایک طویل فہرست ہے ، موجودہ وقت میں تو برادران وطن کے بہت سے بچے؍ بچیاں بورڈ کے مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ، اس سے قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہوتا ہے ۔
(9) مدارس تہذیب و ثقافت کے امین : ہندوستان میں مدارس مسلم تہذیب و ثقافت اور اسلامی علوم و فنون ، مادری ، مذہبی اور ثقافتی زبان کے محافظ ہیں ، ان میں عربی ، فارسی اور اردو کی تعلیم دی جاتی ہے ، اردو زبان کے ماہرین کی رائے ہے کہ موجودہ وقت میں اردو زبان مدارس کی وجہ سے زندہ ہے ، مدارس نے مسلم سماج کے ایک طبقہ میں پختہ دینی شعور پیدا کیا ہے ، جو اس ملک کے لئے امتیازی شان ہے ، اور ان اسلامی علوم و فنون میں پختگی کے بیرون ممالک کے علماء و دانشوران بھی قائل ہیں۔
یہ ہیں مدارس کے قیام کے چند مقاصد ، ویسے اس کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں ، جن کا احاطہ طوالت کی وجہ سے مشکل ہے ، مذکورہ تجزیہ سے یہ حقیقت واضح ہے کہ مدارس اسلامیہ جن مقاصد کے لئے قائم کئے ہیں ، وہ اپنے مقاصد میں پوری طرح کامیاب ہیں۔
بہت سے حضرات خیر خواہی میں یہ چاہتے ہیں کہ مدارس میں تمام مروجہ علوم کی تعلیم دی جائے ، اور وہ مدارس کے فارغین کو ہر فن میں ماہر دیکھنا چاہتے ہیں ، ان کے خیالات تو یقینا اچھے ہیں ،مگر عمل کے اعتبار سے مشکل ہیں ، بالخصوص ایسے دور میں جبکہ تخصص کا دور ہے ، تعلیم کے شعبے تقسیم کئے جا چکے ہیں، اسکول کی تعلیم کے بعد ہی امیدوار کو مضامین کا انتخاب ضروری ہوتا ہے ، میڈیکل کی تعلیم الگ ہوتی ہے ، انجینئرنگ کی تعلیم الگ ہوتی ہے ، سائنس کی تعلیم کے لئے الگ شعبے ہیں ، ہر تعلیم کا مقصد متعین ہے ،ایسے میں مدارس اور اہل مدارس کے بارے میں یہ سوچ لینا کہ وہ ہر فن میں ماہر ہو ،کسی طرح بھی درست نہیں ہے ، مدارس کے قیام کے جو مقاصد ہیں ،اس اعتبار سے اس کی کاکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں جب تک مسلمانوں کی حکومت رہی ، مدارس بڑی شان سے چلتے رہے ، حکومت کی جانب سے کفالت کی جاتی تھی ، بڑے علماء کو جاگیریں دی جاتی تھیں ، وہ ان کے ذریعہ مدارس ، خانقاہ اور دینی شعبے کو ترقی دیتے تھے ، اس طرح اہل مدارس صاحب حیثیت اور صاحب وقار رہے ، مگر جب مسلمانوں کی حکومت ختم ہوگئی اور ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط ہوگیا ، تو دھیرے دھیرے یہ سلسلہ ختم ہوگیا ، بلکہ انگریزی حکومت مدارس مخالف نظریہ رکھتی تھی ، چونکہ مدارس ہی سے ان کو خطرہ محسوس ہوتا تھا ، با لآخر مدارس ہی ان کی حکومت کے خاتمہ کا سبب بھی بنے ، اس طرح انگریزی دور حکومت سے مدارس مالی بحران سے دوبار ہونے لگے ، اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ، نیز بڑے بڑے دانشور انگریزمستشرقین تھے ، ان میں سے اکثر مدارس بیزار بھی تھے ، ایسی حالت میں دینی تعلیم کے تحفظ کے لئے مدارس کا قائم کرنا اور ان کا چلانا بڑا مشکل تھا ۔
پھر بھی علمائے کرام میدان میں آئے اور دین کی حفاظت کے لئے مدارس کے قیام پر روز دیا ، اور وہ اس میں کامیاب رہے ، اس طرح بے بسی کی حالت میں مدارس کو چلایا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ، موجودہ وقت میں مدارس مالی بحران کے شکار ہوگئے ہیں ، کورونا کے بعد تو اور بھی دشواری درپیش ہے ، ایسے وقت اس کی ضرورت ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں دینی تعلیم کے فروغ اور تحفظ کے لئے خوشحال طبقہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے، اوردینی تعلیم اور مدارس کے تحفظ کے لئے مالی امداد کرے ، تاکہ یہ مدارس یکسو ہوکر دین اور دینی تعلیم کا تحفظ کر سکیں ، اس کے لئے الگ سےکچھ کرنے کی ضرورت نہیں ، صرف اپنے زکوۃ کی رقم کا ایک حصہ مدارس اور دینی علوم کے فروغ کے لئے خاص کردیں ، چونکہ زکوۃ کی رقم مدارس اور دینی تعلیم پر خرچ کرنے میں کئی گنا ثواب ہے ، علمائے کرام کی ذمہ داری ھے کہ وہ مسلم سماج میں بیداری پیدا کریں ، اور انہیں مدارس و دینی تعلیم پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنے کے ثواب سے واقف کرائیں ، نیز انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ موجودہ وقت میں دین اور دینی اداروں کا تحفظ بنیادی ضرورت ہے ، توقع ھے کہ لوگ پھر اس جانب متوجہ ہوں ،ویسے اہل مدارس کی ذمہ داری ہے کہ مدارس اور دینی تعلیم کے تحفظ پر خود بھی توجہ دی۔ ، اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کا رجسٹریشن کرائیں , وقت و حالات کے مطابق مدارس کے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم پر توجہ دیں ، نصاب تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ، ابتدائی درجات کی درجہ بندی کی جائے تاکہ طلبہ میٹرک کی سرٹیفکیٹ حاصل کرسکیں ، نظام تعلیم کو موثر اور بہتر بنایا جائے ، قیام و طعام کے انتظام کو اچھا بنایا جائے ، مدارس میں صفائی ستھرائی کا مناسب انتظام کیا جائے ، ہاسٹل اور تعلیم گاہ کا نظام الگ الگ کیا جائے ، واش روم وغیرہ صاف اور بہتر ہو ، مدارس کے حساب و کتاب آڈٹ کرائے جائیں ، اساتذہ کی تنخواہ کے معیار کو بلند کیا جائے ، سروس کنڈیشن لاگو کئے جائیں ، تاکہ مدارس کی جانب لوگوں کی مزید توجہ ہو ، دعاء ہے کہ اللہ تعالی مدارس کی حفاظت کرے اور ان کی افادیت کو مزید عام فرمائے

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist