نئی دہلی، سماج نیوز سروس:دہلی کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ باب العلوم جعفرآباد میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند صوبہ دہلی کا جلسہ تقسیم اسنادوانعامات کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں کل ہند رابطہ مدارس دارالعلوم دیوبند کے ناظم اعلیٰ مولانا شوکت بستوی نے مہمانِ خصوصی کے طورپر شرکت کی۔پروگرام کاآغاز قاری محمد فاروق قاسمی معلم مدرسہ ہٰذا کی تلاوت کلام اللہ کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد حافظ محمد سہراب نے رسول اللہ کی شان میں نعت پاک پیش کی۔اس پروگرام کی صدارت مدرسہ باب العلوم کے مہتمم اور رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد داود امینی نے کی اور نظامت کے فرائض مولانا محمد جاوید احمد صدیقی قاسمی نے انجام دیے۔اس موقع پر مہمان خصوصی کی طورپر تشریف لائے استاذحدیث دارالعلوم دیوبند مولاناشوکت بستوی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد سبھی مدارس کو جوڑ کر رکھنا ہے اور دینی تعلیم کی تبلیغ میں رواں دواں ان مدارس کی تحفظ اور ان کی بقاءکی ذمہ داری ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔رابطہ مدارس کے تحت جو اجتماعی امتحانات منعقد کرائے جاتے ہیں وہ صرف اس لئے کرائے جاتے ہیں تاکہ تعلیم وتعلم میں نکھار پیدا ہو اور طلبا کی حوصلہ افزائی ہو۔کیونکہ مقابلہ جاتی امتحانات سے بچوںکے اندر شوق اور ذوق میں اضافہ ہوتاہے۔انھوں نے کہا کہ جو بھی چھوٹے مدارس دینی تعلیم میں مصروف ہیں وہ بھی اتنی ہی اہمیت کے حامل ہیںجتنے کہ بڑے مدارس ہیں۔ مدارس کی بقاموجودہ دور میں بہت اہم اور ضروری ہے۔انھوں نے کہاکہ دینی ادارے اسلام کے تحفظ کی ضامن ہیں جس کے لئے اپنے قیام کے روزاول سے ہی دارالعلوم دیو بند اور اس سے وابستہ مدارس اسلامےہ اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ مدارس اورمکاتیب کی ترویج و ترقی اور ان کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہے اور ےہ موجودہ حالات کا تقاضہ بھی ہے کیوں کہ اس موجودہ دور میں مدارس اور مکاتیب اسلامےہ کو چیلنجز کا سامنا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے مدارس اسلامےہ کی جڑوں کو مضبوط کرنا ضروری ہے ۔مولانا محمد شوکت بستوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ رابطہ مدارس کا اہم مقصد مدارس اسلامےہ کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہے اور مکاتیب کا قیام بھی اسی میں شامل ہے تاکہ قوم و ملت کے لئے کام کرنے والے افراد تیار ہوں ۔ انہو ںنے کہاکہ رابطہ مدارس قائم کرنے کا ےہ بھی مقصد ہے کہ مدارس کے اندرونی خامیوں کو دور کرکے ان کو بہتر کیا جائے ،مدارس اور انتظامےہ کی جو ذمہ داری ہے اسے بحسن و خوبی نبھائی جائے اور طلبہ کے حقوق کو بھی سمجھا جائے تبھی مدارس کا باوقار معیاری تعلیمی نظام قائم ہوسکے گا۔مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃعلماءہند نے کہا کہ اس دور میں مدارس اسلامےہ نت نئی سازشوں کا شکار ہیں اور انہیں مختلف طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے جس کا مقابلہ تبھی ممکن ہے جب بنیادی تعلیم کے لئے مکاتیب کا قیام بھی عمل میں لایاجائے۔انھوں نے کہا کہ مدارس اسلامےہ کی جڑوں کو مزید مستحکم کرنے پر خاص توجہ دیں کیونکہ جو نونہالانِ قوم جو مدارس سے دور رہ جاتے ہیںان کو بآسانی مسلم دشمن طاقتیں اپناشکار بنالیتی ہیں۔ مزید مولانا نے کہا کہ کل رابطہ مدارس دارالعلوم دیوبند نے اس بات پر خاص طورپر زوردیاہے کہ مدارس اپنے بجٹ کا دس فیصد حصہ مکاتیب کے قیام پر خرچ کریں اورزیادہ سے زیادہ مکاتیب کے قیام کی کوشش کریں ۔قبل ازیں مولانا داودامینی نے اجتماعی امتحانات میں اعلیٰ نمبرات حاصل کرنے والے طلباکااعلان کیا۔بتادیں کہ اول ،دوم،سوم اور چہارم،پنجم پوزیشن کے ساتھ کامیاب ہونے والے طلباءکومہمانِ خصوصی استاذحدیث دارالعلوم دیوبند مولانا شوکت بستوی اور مفتی ذکاوت حسین قاسمی شیخ الحدیث مدرسہ اسلامیہ امینیہ عربیہ دہلی کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا۔مزید سبھی سینٹروں کے نگراں حضرات کوبھی ایوراڈ وغیرہ سے نوازا گیا۔اس کے بعد انھوں نے کہا کہ اس بات کو یاد رکھیں کہ اگر ہم رابطہ سے نہیں جڑے تواس میں صرف ہمارا ہی نقصان ہے۔اگرمدارس اسلامیہ کو بچاناہے تو رابطہ مدارس اور جمعیۃ علماءہند سے جڑنا ہی ہوگا۔انھوں نے دہلی کے مدارس کے ذمہ داران کو اس بات پر توجہ دلائی کہ مدارس میں صاف صفائی، بہترتعلیم ،اساتذہ کو معیاری تنخواہ،علاج ومعالجہ کا نظم سمیت دیگرمہمات کو سامنے رکھ کرکام کریں۔انھوں خاص طورپر اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی بھی مدرسہ، چھوٹاہو یابڑااگر اس کو کسی طرح کی پریشانی یا کسی طرح کا قانونی یا غیر قانونی مسئلہ در پیش ہوجائے تو اس کا ساتھ دیں اور اس کا ہر ممکن تعاون کریں ۔انھوں نے کہا کہ اگر کوئی سرکاری کاغذات میں کمی ہے تو اسے فوری طورپر مکمل کرلیں اور اس میں لاپروائی نہ برتیں۔غورطلب ہے کہ ناظم اعلیٰ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند صوبہ دہلی ڈاکٹر سعید الدین قاسمی نے کہا کہ موجودہ دور میں جس طرح کے مسائل در پیش ہیں، ان سبھی کے تناظر میں مدارس اسلامیہ کے لئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ آج تمام ذمہ داران مدارس اور علمائے کرام کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اتحاد واتفاق میں ہی مسلمانوں اور مدارس ومکاتیب دونوں کی بقا کا راز مضمر ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے پروگراموں میں شریک ہوں اور ایک دوسرے کی خبرگیری رکھیں۔قابل ذکر ہے کہ مفتی ذکاوت حسین قاسمی،مولانا محمد مسلم قاسمی(صدر جمعۃ علما صوبہ دہلی)،مولانا اسلام الدین قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءہند صوبہ دہلی)مفتی کفیل الرحمن قاسمی ،مولانا ظفر الدین قاسمی صدر مدرس مدرسہ عبدالرب،مفتی رفیق احمد قاسمی مدرسہ حسین بخش،مولانا بشیراحمد،حاجی اسعد میاں،محمد جاوید،مفتی شمیم مدرسہ فیض العلوم قصاب پورہ،قاری عبدالسمیع جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈجمعیۃ علماءہند صوبہ دہلی،مولانا اخلاق قاسمی،مولانا خلیل،ماسٹرمحمد نثار،مفتی ظہورالدین قاسمی سرائے روہیلہ،مفتی محمد عاقل،مفتی محمد صادق، قاری محمد شاہد بدری،ماسٹرمحمد قاسم مہتمم جامعہ افضل العلومیوات،قاری محمد زکریا، مولانا عبیداللہ،مولانااظہرقاسم ظفر،مولانا قاسم رحیمی آر کے پورم، مولانا محمد طلحہ چاند ہولہ، قاری ریاض الاسلام اوکھلا،مولانا محمد آفتاب سلطانپوری،قاری محمد ارشاد بوانہ،مفتی گلزار ،مفتی فاروق،مولانا رضوان انجم، قاری احرارجوہرقاسمی،مولانا آس محمد شاستری پارک،مولانا عمر چمنی میل، مولانا ہارون رشید قاسمی مہرولی،قاری محمد فاروق جامعی مدرسہ سراج العلوم،مولانا اسجد پسونڈہ،مولاناجمیل استاذحدیث مدرسہ عالیہ فتحپوری، قاری محمد اسرار مدرسہ عالیہ فتحپوری، مولانا ضیاءاللہ قاسمی جمعیۃ علماءہند، مفتی محمد ذاکر قاسمی،مولانا ماموررشید،مولانا محمد احمد نظام الدین کے علاوہ درجنوں مدارس اسلامےہ کے ذمہ داران اوراساتذہ نے شرکت کی۔آخر میں صدر رابطہ مدارس صوبہ دہلی مولانا محمد داؤد امینی نے سبھی شرکاءکا شکریہ اداکیا۔مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءہند کی دعاپرجلسہ کااختتام ہوا۔












