واشنگٹن (یواین آئی) اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ’انروا‘نے اتوار کے روز خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی پابندی کے فیصلے سےاس کی کارروائیاں مفلوج ہو سکتی ہیں۔ ’انروا‘ کی طرف سےیہ وارننگ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب اسرائیل کا جنوری کے آخر میں نافذ العمل ہونے کے قریب ہے۔’انروا‘ نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ایجنسی پر ممکنہ پابندی کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ جس سے لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو خدمات فراہم کرنے کا عمل معطل ہوسکتا ہے”۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ ایجنسی کو تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ اس پر پابندی لگانے کے اپنے فیصلے کو واپس لینا چاہیے”۔
قابل ذکر ہے کہ 28 اکتوبر 2024ء کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے دو قوانین کی منظوری دی۔ پہلے’انروا‘ کو اسرائیل میں کام کرنے سے روکنے سے متعلق ہے اور یہ تین ماہ کے اندر نافذ ہونے والا ہے، جب کہ دوسرا اقوام متحدہ کی ایجنسی کے ساتھ تمام اسرائیلی معاملات اورمعاہدات کو ختم کرنا ہے جن پرنوں فریقوں نے دستخط کیے تھے۔
اقوام متحدہ نے ان قوانین کو اپنانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ’انروا‘ کو اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔












